استحکام بذریعہ ڈنڈا

وسعت اللہ خان - تجزیہ کار


پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک ہفتے کے دوران انتخابی ریلیوں پر دو بڑے حملے ہو چکے ہیں۔ ایک حملے میں اے این پی کے ہارون بلور سمیت 21 افراد ہلاک جبکہ دوسرا حملہ بنوں میں اکرم خان درانی کے قافلے پر ہوا، جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

دہشت گردی سے نمنٹنے کے رابطۂ کار ادارے نیکٹا نے بھی چھ رہنماؤں کی فہرست جاری کی ہے جو ممکنہ طور پر ہٹ لسٹ پر ہیں۔ ان میں اکرم خان درانی کا نام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر انٹیلیجینس ذرائع کے حوالے سے ان صحافیوں کی مبینہ فہرست بھی گشت کر رہی ہے جو دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ مگر اس وقت سب سے اہم کام یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو ایسے گرفتار کیا جائے جیسے مکھن میں سے بال نکالا جاتا ہے۔

لاہور شہر میں 10 ہزار پولیس والے، ایئرپورٹ کی حفاظت کے لیے دو ہزار کے لگ بھگ نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی، آنے جانے والے راستوں کی کنٹینر بندی، مختلف علاقوں میں موبائل فون جام کرنے کی کوششیں، لاہور سے باہر کے نونی کارکنوں کی احتیاطی گرفتاریاں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کوششیں ممکنہ دہشت گردی کے تدارک کے لیے نہیں بلکہ ایک مجرم اور مجرمہ کو اس کے حامیوں سے بحفاظت بچاتے ہوئے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے لیے ہو رہی ہیں۔

اس سے اور کچھ نقصان ہو نہ ہو مگر کچھ فائدے ضرور ہوئے ہیں۔ یعنی لیگی کارکنوں کی تساہل پسندی کو پہلا گیئر لگ گیا ہے، شہباز شریف جیسا پھونک پھونک کر بیان دینے والا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق جیسا نپے تلے الفاظ استعمال کرنے والے کو بھی ریڈیکلائز نظر آنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

دوسرا فائدہ یا نقصان یہ ہوا ہے کہ الیکشن مہم کا آخری ہفتہ جو ہر سیاسی جماعت کے لیے اہم ہوتا ہے اور امیدواروں اور ووٹروں کا جوش و خروش عروج پر ہوتا ہے اس آخری ہفتے میں کوئی چاہے نہ چاہے سارا فوکس نواز شریف اور ن لیگ کی حکمتِ عملی پر آن پڑا ہے۔ ایسے اشتعالی اور مشتعلی ماحول میں کم ازکم پنجاب کی حد تک پولنگ کس قدر پرامن رہے گی اور تمام متعلقہ اداروں کا فوکس شرارتی نونیوں کی جانب ہونے سے کم ذہین دہشت گرد بھی دل میں کیا کیا خیال باندھ رہے ہوں گے۔ اس بارے میں جس کے دل میں جو بھی گمان آئے اسے مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا فائدہ یا نقصان جس سے بچنا محال ہے وہ انتخابی عمل کی شفافیت کا ہے۔ فرض کریں یہ عمل سو فیصد بھی شفاف ہوا تب بھی ایکسرے رپورٹ میں موٹے موٹے سوالیہ نشان ہی نظر آئیں گے۔ اس تناظر میں اگر تو ان انتخابات کا مقصد مستقبل میں جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنا اورایک ایسی مستحکم حکومت کا قیام ہے کہ جو اژدھے کی طرح منہ پھاڑے داخلی، علاقائی، بین الاقوامی اور معاشی مسائل سے پاکستان کو تھوڑا سا سانس لینے کا موقع دے سکے تو اس خواہش کو فی الحال کسی صندوق میں بند کر کے رکھ دینا ہی بہتر لگ رہا ہے۔

یہ انتخابات قوم کو مزید دو حصوں میں بانٹتے دکھائی دے رہے ہیں ایک وہ کہ جو گزیٹڈ ایماندار و صادق و امین ہو چکے ہیں۔ دوسرے وہ جو صادق و امین نہیں رہے حتی کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے ناک سے لکیریں نہ نکالیں اور طے شدہ ڈائٹ پلان پر عمل کر کے اپنا وزن مزید ہلکا کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس ہڑا ہڑی کے ماحول میں بھی کم ازکم پاکستان ٹیلی ویژن اور پیمرا اس بنیادی نکتے پر متفق ہو گئے ہیں کہ آئندہ کسی مجرم کی تصویر، پریس کانفرنس یا لائیو کوریج یا تذکرہ نہیں دکھایا جائے گا۔

اگر کسی چینل پر کسی نے پاکستان کے دو محترم صادق اور امین اداروں یعنی مسلح افواج اور عدلیہ کی شان میں گستاخی کی کوشش کی تو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے چینل کے خلاف بلا نوٹس و بلا تاخیر کارروائی کی جائے گی۔ اگر تو پیمرا کا اپنے ضابطۂ کار پر سختی سے عمل کا عہد اور پی ٹی وی پالیسی میں بدلاؤ کسی ایک شخص کو ذہن میں رکھ کے نہیں ہے تو پھر نہ صرف ان تمام مجرموں کے نام سننے سے جان چھوٹ جائے گی جنھیں انتخابات لڑے کے لیے پچھلے 70 برس میں نا اہل قرار دیا گیا بلکہ نواب احمد خان کے قتل کے عدالتی سزا یافتہ مجرم ذوالفقار علی بھٹو کا تذکرہ بھی خطرے سے خالی نہ رہے گا۔

البتہ احسان اللہ احسان اور پرویز مشرف وغیرہ چونکہ ابھی تک ملزم کی کیٹگری میں ہیں لہذا ان کا نام لے کر بات ہو سکتی ہے اور موقع مل جائے تو انٹرویو بھی نشر ہو سکتا ہے۔ پیمرا کا انتباہ اور پی ٹی وی کی پالیسی میں مثبت بدلاؤ اپنی جگہ لیکن خود نجی چینلز بھی اپنی قومی ذمہ داریوں سے مکمل غافل نہیں ہیں۔ جیسے انگریزی اخبار ڈان نے اپنی عدم مقبولیت کا اعتراف کرتے ہوئے کاغذ کا خرچہ بچانے کے لیے ادارتی پالیسی تو نہیں بدلی البتہ اشاعت میں ضرور کمی کرتے ہوئے ہاکروں کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ ان کی مرضی ہے کہ ڈان بیچیں یا نہ بیچیں۔

ڈان چینل نے کیبل آپریٹرز سے خود کہا ہے کہ وہ حساس علاقوں کو اس کی نشریات سے بچائیں۔ جیو نے بالاخر سبق حاصل کر لیا ہے کہ آئندہ اپنوں سے نہیں لڑنا اور ڈان (اخبار یا چینل نہیں) سے مل کر پاکستان کو منفی قوتوں سے بچانا اور ملک کا مثبت امیج اجاگر کرنا ہے۔ کئی چینلوں نے انسانی ہمدردی کے تحت آپے سے باہر صحافیوں کو ملازمت سے تو نہیں نکالا البتہ ان کی من مانیاں نشر کرنے سے انکار کر کے ملک کو انتشار سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اخبارات نے بھی رضاکارانہ طور پر کئی کالم نگاروں کو وارننگ دی ہے کہ یا تو آنکھیں اور کان کھول کے پہلے سمجھو پھر لکھو ورنہ ہم اپنی خون پسینے کی سرمایہ کاری تمہارے دو ٹکے کے قلم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔ مگر یہ سب کرنے کے بعد بھی کیا ہم اصل مقصد پا سکیں گے؟ یعنی وفاقی استحکام، دہشت گردی سے نجات، بلا رکاوٹ ترقی، بلا امتیاز ہر ادارے اور ہر شخص کا احتساب، سی پیک کی تکمیل اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نجات اور خوف سے پاک جمہوری تسلسل؟

ایک تو مجھ جیسوں کی فرمائشیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں