عمران خان، مجھے نیا پاکستان نہیں چاہیے


عمران خان مجھے میرا پرانا پاکستان بہت پیارا ہے۔ جس میں عوام کو شعور ہی نہیں تھا کہ ووٹ ہوتا کیا ہے؟ ووٹ کی طاقت کیا ہے۔ ووٹ کی اہمیت کیا ہے۔ جس نئے پاکستان کا تم نے خواب دکھایا اس خواب کی تعمیر کو پانے کے لئے عوام میں جمہوریت اور عوام کی طاقت کا احساس جگایا تم نے۔ برسوں محنت کی۔ اب دیہاتی آبادی بھی کچھ حد تک اپنی مرضی کرنا چاہتی ہے۔

یہ چاہت بڑی خراب شے ہے۔ اگر پوری ہو تو ٹھیک اگر پوری نہ ہو پائے تو اندر ایک انتشار پیدا ہو جاتا ہے۔ کئی گوٹھ گاؤں اور قصبے ہیں جن میں ووٹر اپنی مرضی کرے گا۔ مگر بیکار کیونکہ ووٹرتو تم نے بنائے۔ ووٹر پر محنت کی مگر اعلی قیادت کے حقدار امیدوار تم نہ چن سکے۔ محنت زیادہ امیدواروں پر کرنا چاہیے تھی۔ یہ پٹے ہوئے مہرے ان کو ووٹ دیتا ہے نئے پاکستان کے لئے؟ مگر میرے پرانے پاکستان میں کیا خرابی تھی جو تم نے نئے پاکستان کا نعرہ لگا دیا۔ اگر نعرہ لگایا تھا تو کچھ تو اس نعرے کا پاس رکھتے۔ تم نئے پاکستان کے لئے جو مستری لائے ہو۔ انہوں نے ہی مرمت کے ٹھیکے لئے تھے ستر سال پہلے۔ مگر مرمت نہیں کی۔ بلکہ بنیاد کے مضبوط پتھروں تک کو اکھاڑ ڈالا اور وہاں لہو کا لاوا بھر دیا۔ مذہبی تعصب ،لسانی تعصب اور علاقائی تعصب۔ نہ ذرائع صحیح استعمال ہوئے نہ وسائل کی درست تقسیم ہوئی۔

اوپر سے تم ووٹ کی تعریف بیان کرنے کے بعد ناقابل تعریف بلکہ قابل اعتراض ٹیم کے ساتھ میدان میں کود پڑے۔ میں خود پچاس سال سے دیکھ رہی ہوں سب کی قابل مذمت حرکات۔ کیا یہ پرانے مستری کسی نئی سوچ اور ریسرچ کے بعد آ رہے ہیں تمہارے ساتھ نیا پاکستان بنانے یا پھر ڈالرز کے ساتھ اب ملک چلانے کی سوچیں بھی بیرون ملک سے آیا کریں گی۔ پلیز عمران خان مجھے تمہارا نیا پاکستان نہیں چاہیے۔ جس میں میں تمہارے کارندوں کے ہاتھوں ابھی سے غیرمحفوظ ہوں۔ مجھے اب ان کا نام نہیں لینا کیونکہ میں یہ جان گئی ہوں کہ تمہیں یہی لوگ بنا رہے ہیں۔ پہلےتم بنو گے پھر بنے گا نیا پاکستان۔ جو تمہیں بنا رہے ہیں ان کی اپنی ذہنیت پستی کی اتھاہ گہرائیوں کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے تمہیں کیا بنایا ہو گا اور لرز جاتی ہوں کہ نیا پاکستان کیسا ہو گا۔

کیا تمہیں نہیں علم کہ تمہارے سر پر جو ہما منڈلا رہا ہے دراصل گدھ ہے جو تمہارے کئے ہوئے شکار پر ٹوٹ پڑنے کے انتظار میں ہے۔ میں اور میری اولاد ہم پرانے پاکستان میں ہی خوشحال اور مطمئن رہ سکتے ہیں۔ قائد کے پاکستان میں۔ مجھے تم سب ہی نامنظور ہو۔ میں قطعی طور پر ووٹ دینے نہیں جاؤں گی۔ میں انسانوں کی غلامی پر اس بار مہر نہیں لگاؤں گی۔ میں ایک آزاد ملک میں آزادانہ جینا چاہتی ہوں۔ جہاں سچ اور جھوٹ، محبت اور نفرت، ایمان اور بے ایمانی، ظلم اور انصاف کے معین معیار ہوں اور بے اصولی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ جس طرح مجھے اور میری اولاد کو ہراساں کیا جا رہا ہے تمہارے ساتھیوں کے ہاتھوں اور تمہارے مشیروں کے ہاتھوں، جانے اور کتنے ہوں گے جو اس خوف میں جاگتے ہوں گے کہ آج کا دن نامعلوم کیا پیغام لائے۔ اگر قربانی ہی دینی ہے تو میں اپنی اور اپنے بچوں کی جان اور عزت کی قربانی تو دے سکتی ہوں۔ ضمیر کی نہیں۔

پاکستان جس بھی حالت میں ہے، میرا ہے۔ ہر اس ووٹر کا ہے جو ضمیر کا مجرم نہیں۔ ہمیں عزت کے ساتھ ہمارے ملک میں جینا ہے۔ نہ کوئی بلاول نہ کوئی نواز اور نہ تم ہمارے خیر خواہ ہو۔ تم اپنے مفادات کے ہاتھوں خود کٹھ پتلی بنے ہوئے ہو۔ میں اس قدر برہم کیوں ہوں یہ سوال تو آئے گا تمہارے دماغ میں تو سنو۔ آدمی کی پہچان مصاحب سے ہوتی ہے۔ سچ بتانا کیا تمہیں اپنے نمائندوں، مشیروں اور مخبروں کا کچھ علم نہیں کہ وہ کون ہیں اور ان کا کردار کیسا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے نئے پاکستان کا وعدہ یوں بھی پورا کر سکتے ہو کہ اپنی غلطی ہی سدھار لو۔ ان کا ماضی کا ریکارڈ اٹھا کردیکھ لو اور بنی گالہ کی دیواروں میں کہیں سمٹ کر بیٹھ جاؤ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں