بچے اس کتاب سے دور رہیں


اگرچہ کتاب بینی اور باغبانی سے مرزا کی دلچسپی بس واجبی سی ہے مگر پھر بھی مرزا نے ایک کتاب لکھ ماری ہے۔ مرزا کہتے ہیں کہ وہ پچھلے جنم میں بیوی رہے ہیں اس لئے کتاب لکھنا اُن پر لازم تھا۔ نہ سمجھنے کے باوجود ہم نے کہا کہ پچھلے جنم کی باتیں اس جنم میں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسی کتاب کون پڑھے گا۔ کہنے لگے انہوں نے کتاب پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ضرورتاً یا بلا ضرورت حوالے دینے کے لئے لکھی ہے۔ پوچھا کہ انہوں نے یہ کتاب اپنے پچھلے جنم میں ہی کیوں نہ لکھ ڈالی تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کے رنگین تبصروں کے بغیر کتاب لکھنے اور پڑھنے کا کیا لُطف۔ چونکہ اُن کے پچھلے جنم میں سوشل میڈیا کا تصور نہیں تھا لہٰذا وہ سوشل میڈیا کے آنے کا انتظار کرتے رہے اور اب جب کہ سوشل میڈیا اپنی تمام رونقوں اور رعنائیوں سمیت موجود ہے تو وہ پہلی فرصت میں اپنے اس فرض سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ عرض کیا کہ بہتر ہوتا کہ آپ کتاب اپنی موجودہ حیثیت یعنی بطور شوہر لکھیں۔ کہا کہ وہ جھوٹ نہیں لکھ سکتے کیونکہ بطور شوہر اُن کے کوئی تجربات نہیں ہیں۔ ہم نے گُزارش کی کہ ابھی ابھی آپ اپنے منجھلے تجربے کو آواز دے کر چائے کا کہہ رہے تھے تو ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے۔

اگرچہ ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا کے پچھلے جنم میں ہماری اُن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر پھر بھی ہمیں ایک بے اطمینانی سی لا حق ہے کہ نجانے مرزا اپنی کتاب میں ہمارے بارے میں کیا لکھتے ہیں۔ چناچہ گُزارش کی کہ وہ ہماری بارے میں کوئی سچ لکھنے کا غلطی تو نہیں کر بیٹھے تو کہنے لگے کہ نہیں وہ کسی ایسے سچ میں دلچسپی نہیں رکھتے جس میں انوویشن نہ ہو۔

مرزا کی کتاب کا سن کر مرزا کے بچپن کے کئی دوست غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ہماری طرح سب کا یہی خیال ہے کہ مرزا کے پچھلے جنم سے اُن کو کوئی سروکار نہیں مگر پھر بھی انہیں خدشہ ہے کہ مرزا اپنے پچھلے جنم کی کہانی میں انہیں بھی کوئی کردار دے سکتے ہیں۔ مرزا کے ایک دوست تشریف لائے اور کہا کہ وہ اس جنم یا پچھلے جنم میں اپنی کسی بھی غلطی کی معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں اور یہ کہ اُن کا ذکر مذکورہ کتاب میں نہ کیا جاۓ کیونکہ اب وہ جوان بچوں کے باپ ہیں۔

البتہ مرزا کے ایک دوست جو اس جنم میں سنگل فادر ہیں اور بقول مرزا کے پچھلے جنم میں سنگل مدَر تھے آۓ تو پوچھا کہیں مرزا بھول تو نہیں گئے کہ پچھلے جنم میں جب مرزا ایک بیوی تھے اور وہ خود سنگل مدَر؛ اور دونوں آپس میں گہری سہیلیاں تھیں۔ مرزا نے بتایا کہ وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔ مرزا نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے سفاک شوہر کی خوب پٹائی کر کے اُس کو گھر سے نکال دیا تھا تو یہی وہ رحمدل خاتون تھیں کہ جنہوں نے چند دن اُن کے پاس گُذار کے اُن کی دلجوئی کی تھی۔ پھر جب ظالم شوہر چند دنوں کے بعد تنخواہ ملتے ہی گھر واپس آئے تو مرزا اور اُن کے انہی دوست نے جو اُس وقت ایک سنگل مدَر تھیں ظالم شوہر کی ایک بار پھر پٹائی کر کے گھر سے نکال دیا اور تنخواہ کی رقم وغیرہ بھی لے لی تا کہ گھر کے اخراجات وغیرہ چلتے رہیں کیونکہ مرزا ایک وفا شعار بیوی کی حیثیت سے شوہر سے ناراضگی کے باوجود گھرداری کی ذمہ داریوں سے غافل نہیں رہ سکتے تھے۔ مرزا نے اپنے اِن دوست کی تسلی کے لئے کتاب سے کچھ اقتباسات پڑھ کر سناۓ جو خاص ان دنوں کے بارے میں تھے کہ جب یہ سنگل مدَر خاتون مرزا کے پاس ٹھہری رہیں۔ ان اقتباسات کو سُن کر ہی ہم نے مرزا سے گُزارش کی کہ کتاب کے ٹائٹل پیج پر یہ ضرور لکھوا دیں “صرف بالغوں کے لئے” تا کہ بچے کتاب سے دور رہیں۔ مگر مرزا نے بتایا کہ بچوں نے اپنی دلچسپی کے صفحات پہلے ہی پڑھ لئے ہیں بلکہ انہوں نے زبانی یاد بھی کر رکھے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں