منشیات، نشئی اور علاج


تیل اور اسلحے کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا منافع بخش کاروبار منشیات کا ہے چونکہ یہ غیر قانونی ہے اور بڑے بڑے ادارے اس میں ملوث ہیں اس لیے اسے منظر عام پر نہیں لایا جاتا پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں بے روزگاری اور غربت نے زندگی کا مزہ ہی چھین لیا ہے وہاں منشیات کے عادی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی خوشی کے حصول کی کوششوں میں روزانہ سات سو افراد منشیات کے استعمال کی وجہ سے دم توڑ جاتے ہیں۔ یہ تعداد سالانہ دو لاکھ پچپن ہزار بنتی ہے۔ یہ مسئلہ دہشتگردی سے زیادہ بڑا ہے کیونکہ دو لاکھ پچپن ہزار افراد دہشتگردی سے کبھی بھی نہیں مرے۔ لیکن منشیات کی روک تھام ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ اس لیے اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نشے کے عادی پاکستانیوں کی تعداد اس وقت نوے لاکھ کے قریب ہے اور اگر بات کریں غیرسرکاری تنظیموں کی تو ان کے خیال میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی یعنی کل آبادی کا سات فی صد منشیات استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھنگ شراب ہیروئین گانجہ گردا افیون کرسٹل جیسے بڑے نشوں سمیت سگریٹ نسوار پان گٹکا کھینی جیسے چھوٹے نشے کا حصول نہایت سہل ہے۔ پاکستان کا سب سے عام اور مقبول ترین نشہ چرس ہے۔ برصغیر میں بھنگ اور چرس قدیمی اور مقامی نشہ ہے۔ تاریخ میں صدیوں سے ان دونوں نشوں کے استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ یہاں تک کہ بھنگ اور چرس کو روحانی اور قلندری مشہ بھی کہا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل معزز عدالت کے اک معزز جج صاحب نے بھی نائن سی کے اک ملزم کو قلندری نشے کے ریمارکس کے ساتھ آزاد کرنے کا حکم سنایا تھا چرس و بھنگ برصغیر کی تہزیب و ثقافت کا اک جزو سمجھے جاتے ہیں۔ چند دہائیاں قبل تک بھنگ کے عادی افراد کی تعداد زیادہ تھی مگر پچھلے کچھ عرصے سے بھنگ کی سبز پتیوں سے بنے سوم رس سے مستی کشید کرنے والوں کی تعداد میں کمی جبکہ فکر و غم کو چرس کے دھوئیں میں اڑانے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ حتیٰ کہ اب ہمارے تعلیمی ادارے بھی نشے کی لعنت سے محفوظ نہیں رہے یونیورسٹیز میں چرس کے سوٹے لگانا جیسے فیشن بن چکا ہے۔ کیا عورت کیا مرد سب دھوئیں کے مرغولوں میں مستقبل تلاشتے نظر آتے ہیں۔

اک زمانہ تھا جب چرس سمیت دیگر نشے افغانستان کی پہچان ہوا کرتے تھے اسی کی دہائی ہی سے افغانستان میں لڑاکا گروہوں کی معیشت کا ایک سہارا پوست کی کاشت اور تجارت بھی رہی ہے۔ طالبان حکومت کے ایک مختصر سے دور کے علاوہ پوست کی کاشت آج تک افغان معیشت کے اہم ترین ذرائع آمدن میں شمار ہوتی ہے۔ 2004 میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب پوست کا افغان جی ڈی پی میں حصہ اکسٹھ فیصد تھا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کا ہر صوبہ مقامی منشیات بنانے میں خود کفیل ہو چکا ہے مگر چونکہ اس کی مانگ اس قدر ہے کہ ہزاروں ٹن سالانہ پیداوار کے باوجود افغانستان سے درامد بھی کرنا پڑتی ہے۔

2017 میں افغانستان میں ریکارڈ 9200 ٹن پوست کاشت ہوئی تھی جس کا چالیس فیصد حصہ یعنی کوئی 3700 ٹن پوست یا اس سے کشید کردہ مادے پاکستان پہنچے جہاں یہ چالیس لاکھ مقامی ہیروئنچیوں کی طلب پوری کرنے کے بعد باقی دنیا کو برامد بھی کیے گئے۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہےچرس برصغیر کی ہندو مسلم مذہبی ثقافت کا اہم جزو ہے، مزاروں اور چرس کا چولی دامن کا ساتھ ہے موضع نون اسلام آباد کی زیارت پر عرس کے موقع پر گدی نشین چرس سے بھرے سگریٹ بطور تبرک بانٹتے ہیں اسی طرح لال شہباز قلندر سے لے کر سخی سرور تک ہر دربار پر سینکڑوں کی تعداد میں ملنگ سوم رس یا چرس کے ذریعے تصوف کی منازل طے کرتے نظر آتے ہیں۔ گلگلت کے علاقے بروغل کی وادی سردیوں میں جب چار ماہ کے لئے پوری دنیا سے کٹ جاتی ہے تو وہاں کے بوڑھے، بچے، جوان مردوزن ہڈیوں میں اترتی سردی کا مقابلہ اسی لاجواب دوا سے کرتے ہیں۔ دربار یا درگاہوں پر کیا موقوف پورے ملک ہی میں چرس کا حصول اور استعمال اتنا ہی آسان ہے جتنا کسی دربار پہ۔ یہ پورا سال با افراط اور نہایت مناسب نرخوں پر دستیاب رہتی ہے۔

1979 میں پاکستان میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد صفر تھی۔ 1980 میں یہ بڑھ کر پانچ ہزار ہو گئی۔ پھر افغان جہاد کی بدولت نوے کی دہائی آتے آتے یہ تعداد کئی سو گنا بڑھ کر بارہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ 1984 میں امریکی مارکیٹ میں ہیروئن کی ساٹھ فی صد اور یورپ کی اسی فیصد ڈیمانڈ پاکستان پوری کر رہا تھا۔ چرس اور ہیروئن کے علاوہ ایل ایس ڈی، کوکین، کرسٹل میتھ وغیرہ بھی چھوٹی مگر مضبوط مارکیٹ رکھتے ہیں۔ دو تین برس سے آئس بہت تیزی سے ایل ایس ڈی اور کوکین کی مارکیٹ کیپچر کر رہی ہے۔ یہ پڑھے لکھے اور نسبتاً خوشحال پاکستانیوں کے شوق ہیں، اس لئے ان دواؤں کے ڈیلر حضرات بھی زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق لوگ ہوتے ہیں جیسا کہ میڈیکل سٹورز کی ایک معروف چین۔ پاکستان میں منشیات کی دن دگنی، رات چوگنی ترقی کرتی متوازی معیشت کا حقیقی حجم تو کوئی نہیں جانتا، تخمینہ چار سے پانچ ارب ڈالرز کا بتایا جاتا ہے۔ نارکو انڈسٹری کروڑوں افراد کی ضرورت پوری کر رہی ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے۔ اس سے حاصل آمدنی ہماری رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے لئے تازہ خون کی حیثیت رکھتی ہے۔

اب نشہ کرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد اور اس میں روز بروز نئے شامل ہونے والے عادی افراد کے لیے ریاست کے اقدامات کی بات کریں تو وہ ناکافی نظر آتے ہیں۔ ری ہیب کے نام پر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں حکومت نے اک آدھ وارڈ تو مختص کر دیا مگر وہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسی طرح اے این ایف اینٹی نارکوٹکس فورس کا ضلع کی سطح پر سنٹر بنانے کا منصوبہ سامنے آیا تھا مگر پورے پاکستان میں پانچ سنٹر ہی سامنے آئے ہیں۔ اس کا علاج مہنگا اور لمبا ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ نجی ری ہیب سنٹرز اک تو لاکھوں روپے چارج کرتے ہیں دوسرا اک دو کے علاوہ باقی تمام سنٹرز میں میڈیکل اسسٹینس کے پروفیشنلز نہیں رکھے ہوتے۔ مریض کو باندھ کر تشدد کر کے اور اپنے حال پر چھوڑ کر علاج کیا جاتا ہے۔ نئی زندگی چیرٹی نام کا اک فلاحی ادارہ ہے جو میں تمام سہولیات کے ساتھ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ مگر مریضوں کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر انہوں نے خود کو ایڈز کے مریضوں تک محدود کر دیا ہے۔ یہ بھی اک غنیمت ہے۔ اک ایسا ملک جہاں عام مریضوں کے لیے بھی صحت کی ناکافی سہولیات ہیں وہاں ایڈز کے مریضوں کو ڈاکٹرز چھونا بھی پسند نہیں کرتے وہاں نئی زندگی چیرٹی جیسا ٹرسٹ نہ صرف ان کا علاج کرتا ہے بلکہ معیاری سہولیات بھی مہیا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے ہسپتال اور سینٹرز بنائے اور منشیات کے خلاف شعور دینے کے لیے بھی تشہیری مہم چلائی جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں