انیل کپور کی نائیک اور وزیر اعلی حسن عسکری بطور امریش پوری


یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب منصورہ میں ڈش اینٹینا لگانے کی ممانعت تھی۔ سرکار ( منصورہ انتظامیہ) کی رٹ کو چیلنج کرنے کی جرات رکھنے والے تین گھرانوں کے علاوہ باقی گھروں میں روایتی اینٹینا سے ٹی وی دیکھنے کا رواج تھا۔ اس زمانے میں بھارتی چینل دور درشن پر جعمہ کے جمعہ ایک ہندی فیچر فلم آتی تھی جسے ہمارے جیسے شوقین افراد اینٹینا ہلا جلا کے جیسے تیسے دیکھ لیتے تھے۔ فلم بینی کے دوران یہ خیال بھی رکھنا پڑتا تھا کہ آواز گھر سے باہر نہ نکلے ورنہ انتظامیہ تک شکایت جاسکتی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ دعا بھی جاری رہتی تھی کہ اللہ میاں پلیز ہوا نہ چلے، ورنہ اینٹینا ہل جائے گا۔

اس زمانے میں منصورہ شریف کے قواعد کی رو سے خواتین اپنے گھر کی چھت پر بھی نہیں جایا کرتی تھیں، اس لئے اینٹینا دوبارہ مطلوبہ فریکوئنسی پر سیٹ کرنا بے حد مشکل ہوتا تھا۔ اس شدید جدوجہد کے بعد دیکھی گئی چند فلموں میں سے ایک اداکار انیل کپور کی فلم نائیک بھی تھی جس میں وہ ایک صحافی کا کردار نبھاتے ہیں جو جذبات میں آکے وزیراعلیٰ سے ایک دن کے لئے اقتدار کی کرسی مانگ بیٹھتے ہیں اور پھر معطلیاں، برطرفیاں، موقع پر سزا سنانے کا ایک دلچسپ سلسلہ چل پڑتا ہے۔

اس وقت ٹی وی چینلز پر جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے وہ بھی بالی وڈ کی کسی فلم سے کم نہیں اور اسے دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری زیادہ اچھے ولن ثابت ہورہے ہیں یا پھر ”دل والے دلہنیا لے جائیں گے“ کے امریش پوری یہ رول زیادہ کامیابی سے نبھا پائے تھے۔ ایک کا مقصد سیاسی کارکنوں کو ان کے رہنما کے استقبال سے روکنا ہے اور دوسرے کا مقصد دو دلوں کو ایک نہ ہونے دینا تھا۔

جگہ جگہ کھڑی رکاوٹیں، گھر گھر چھاپے، نون لیگی کارکنوں کی نظربندی اور گرفتاریوں کا جو سلسلہ گزشتہ دو تین روز سے چل رہا ہے، اسے دیکھ کے میاں نوازشریف یقینی طور پر سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ وہ کارکن جو ابھی تک، نیب سے سزا یافتہ لیڈر کا ساتھ دینے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ کا شکار تھے، ان کے لئے بھی اب یہ فیصلہ کرنا آسان ہوگیا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوں یا پھر خفیہ اشاروں پر چلنے والی کٹھ پتلی نما قوتوں کے ساتھ۔

وہ افراد جو اتنی پرانی فلموں کو اس لئے یاد نہیں کرنا چاہتے کہ ایسے میں وہ خود بھی تھوڑے پرانے پرانے سے محسوس ہوں گے، وہ فلم کو چھوڑیں اور کسی بھی سٹار پلس سے نشر ہونے والے سوپ سیریل کی کہانی یاد کرلیں۔ جی جی وہی سیریلز جن میں پانچ سو کروڑ باورچی خانے میں آٹے کے ڈبے میں سے نکل آتے ہیں اور ڈرامے کی ہیروئن الہ دین کے چراغ کی طرح کبھی بھی، کہیں بھی پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اب ذرا لگے ہاتھ پاکستان کی سیاست پر بھی غور فرمائیے۔ پاکستان کی سیاست سٹار پلس کے سوپ سیریل کی چربہ اور معیار میں کافی گھٹیا قسم کی کاپی نہ لگے تو ہمارا نام بدل دیں ( نوٹ: اس سیاسی بیان کو صرف اتنی ہی اہمیت دی جائے جتنا ہماری اسٹیبلشمنٹ جمہوری قوتوں کو دیتی ہے)۔ زیادہ دور کیوں جائیں، موجودہ حالات کو ہی دیکھ لیجیے۔ لندن میں میاں نوازشریف کے فلیٹ ایون فیلڈ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ہر روز ہی احتجاج کیا جارہا ہے۔

ایک طرف تحریک انصاف کے لیڈران ہیں جو دو کروڑ نوکریاں اور اقتدار سنبھالنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر بیرونی قرضہ اتار دینے کے مبالغہ آمیز دعوے کررہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر موجود معروف گلوکار سلمان احمد جیسے جوشیلے کارکنان ہیں جو جذباتی ڈائیلاگ بازی کے ذریعے لندن میں مقیم پی ٹی آئی کارکنوں کو باقاعدہ اکسا رہے ہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ایون فیلڈ پر حملے کریں۔ ڈرامے کے لوازمات کو پورا کرنے اور اس میں رومانس کا تڑکہ لگانے کے لئے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان ہیں جو انتقام پر اتری کسی ہیروئن کی طرح اپنے سابقہ شوہر کو دنیا کی نظروں سے گرانے کے لئے ہر حد پار کرنے کو تیار دکھائی دیتی ہیں۔ اس سارے منظر نامے پر غور کریں تو کیا واقعی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کوئی مشہور بھارتی سوپ سیریل دیکھ رہے ہیں؟

آپ کو بیشک یہ سب بھارتی سوپ سیریل جیسا محسوس نہ ہو، لیکن کم از کم میں تو موجودہ پاکستانی سیاست اور ان سوپ ڈراموں کے درمیان کوئی بھی فرق تلاش کرنے سے قاصر ہوں اور اسی بنیاد پر اس خدشے کا شکار ہوں کہ چہرے بدلتے رہیں گے لیکن پاکستان کی سیاست کی کہانی میں شاید کبھی کوئی تبدیلی نہ آئے، بالکل بھارتی سوپ سیریل کی طرح۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 13 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi