پشاور، بنوں اور اب مستونگ: پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو سکی


پاکستان کے لئے آج کا دن قومی المیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک اجتماع پر دہشت گرد حملہ میں 100 سے زائد افراد شہید ہوگئے جن میں صوبائی اسمبلی کے رکن نوابزادہ سراج رئیسانی بھی شامل تھے۔ اسی طرح بنوں میں خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ اور جمیعت علمائے اسلام کے رہنما اکرم درانی کے جلوس پر دہشت گرد حملہ میں چار افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اکرم درانی جو قومی اسمبلی کے ایک حلقہ پر عمران خان کے مد مقابل ہیں ، خوش قسمتی سے اس حملہ میں محفوظ رہے۔ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات سے ہفتہ عشرہ قبل سیاسی جلسوں اور جلوسوں پر جان لیوا حملے ان سب دعوؤں کو غلط ثابت کر رہے ہیں جو گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بارے میں کئے جاتے رہے ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ اور حکومت پاکستان نے امریکہ کی طرف سے شدید نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ ان کامیابیوں کی تحسین ہونی چاہئے اور دنیا کو تسلیم کرنا چاہئے کہ پاکستان اور اس کی افواج نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایسی کامیابی حاصل کی ہے جو اس سے پہلے کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ ملک میں انتخابی ریلیوں پر ہونے والے یکے بعد دیگرے حملوں کے بعد اب حکومت اور سیکورٹی اداروں کو پاکستانی عوام کو جواب دینا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے دعوے کیا ہوئے۔ اگر ملک سے ہر قسم کے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور اگر افغانستان اور بھارت کے علاوہ امریکہ کے الزامات سیاسی پروپیگنڈا سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اور اگر افغانستان کے طالبان اس لئے امریکی اور افغان افواج پر حملے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کیوں کہ افغان طالبان کو افغانستان کے وسیع علاقوں پر دسترس حاصل ہے اور وہ غیر ملکی افواج کے ملک پر قبضہ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جسے افغان عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ پھر دو روز قبل پشاور اور آج مستونگ اور بنوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں جان سے جانے والوں کے ورثا اور ملک بھر کے سوگوار عوام کو اس سوال کا جوب دینا پڑے گا کہ انتخابات کے موقع پر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف سیاست دانوں اور کارکنوں پر کون حملے کررہا ہے۔ یہ استفسار بھی اس سوال ہی کا حصہ ہے کہ کیا یہ حملے خاص طور سے پاکستان میں انتخابات کو متاثر کرنے کے لئے ہو رہے ہیں یا ان سانحات کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ دہشت گرد انتخابات کے حوالے سے ہونے والی غیر معمولی سرگرمیوں کا فائدہ اٹھا کر اس قدر خوفناک حملے کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس موقع پر نگران حکومت یا فوج کی طرف سے مذمت کے پیغامات جاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مذمت کے ایسے بیانات بے سود ہیں جو دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ کی حفاظت کرنے میں ناکام ہورہے ہوں۔ یہ بیانیہ خواہ قومی ایکشن پلان کی صورت میں سامنے آیا ہو یا اسے ہزاروں مفتیوں اور علمائے دین کے فتوؤں پر مشتمل پیغام پاکستان کا نام دیا گیا ہو، اگر اس سے اس ملک کے عوام کی حفاظت ممکن نہیں ہو پاتی اور اگر یہ بیانیہ ملک میں جمہوری عمل کی حفاظت کرنے میں معاونت کرنے میں ناکام ہے تو اس کی خامیوں کا جائزہ لینے اور ان غلطیوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے جنہیں دشمن کا پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کیا جاتا رہا ہے اور عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش ہوتی رہی ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں، ان کے زیر تسلط علاقوں کو واگزار کروالیا گیا ہے اور اب اکاّ دکا ّواقعات افغانستان میں موجود عناصر کی بے راہروی اور بھارت کی سرپرستی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔ اس وقت پوری پاکستانی قوم کو اس المناک سچ کا سامنا ہے کہ دہشت گردوں کی نہ کمر ٹوٹی ہے اور نہ ہی تشدد کا کوئی واقعہ کسی مقامی کمزوری کی وجہ سے یا اتفاقاً سرزد ہوتا ہے۔ تین دن میں تین حملے اور ایک سو سے زیادہ لوگوں کی شہادت جن میں صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب لڑنے والے دو امیدوار بھی شامل ہیں، ایک ایسی کہانی سناتی ہے جو قوم کو دئیے گئے کامیابی و کامرانی کے پیغام کو مسترد کر رہی ہے۔ ایسے میں ملک کے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کس کس شہید کے گھر فاتحہ پڑھنے جائیں گے۔

انتخابی ریلیوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے یہ نوٹ کرنا بھی اہم ہو گا کہ ملک میں اس وقت قومی اور صوبائی سطح پر نگران حکومتیں قائم ہیں جو بظاہر غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہیں۔ اس لئے ان میں سے کسی پر یہ حرف زنی نہیں کی جا سکتی کہ کسی سیاسی پارٹی یا رہنما کی کوتاہی یا سرپرستی کی وجہ سے کوئی ایک واقعہ رونما ہونے کے اسباب پیدا ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ملک میں انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے خاص طور سے سیکورٹی فورسز کو الرٹ کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اس ہفتہ کے شروع میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ فوج نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر چھ نکاتی حفاظتی منصوبہ بنایا ہے تاکہ ملک میں انتخابی عمل پر امن ماحول میں منعقد ہوسکے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد ہونے مسلسل حملوں کے بعد پاک فوج کے ترجمان کا بیان بے معنی ہو چکا۔ نگران حکومت کے علاوہ پاک فوج کو ان حالات اور مجبوریوں سے قوم کو آگاہ کرنا چاہئے جن کی وجہ سے ریاستی ادارے اور سیکورٹی فورسز جزو معطل بنی ہوئی ہیں اور دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 933 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali