ایک سیلف میڈ اور محنتی دوست کی کامیاب کہانی


مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہم ہر وقت مایوسی کا رونا کیوں پیٹتے ہیں۔ ہم اچھے خواب کیوں نہیں دیکھتے، اچھی امید کیوں نہیں باندھتے۔ ٹھہریے یہ سب کچھ ممکن ہے۔ جی ہاں! کچھ محنتی لوگ ابھی اس دنیا میں باقی ہیں۔ نہیں یقین تو ابھی ملواتا ہوں۔ یہ میرا دوست تنویر رشید ہے۔ اس نے شروع سے ہی کچھ نہ کچھ کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں ہمیشہ بڑا سوچو، جتنے بڑے خواب دیکھو گے، اتنے جلدی پورے ہوں گے۔ بس یہ سب اس کے حافظے میں محفوظ تھا۔ اس نے بھی اچھے اور بڑے خواب دیکھنا شروع کیے۔ وہ اپنے گھر کے حالات بدلنا چاہتا تھا، وہ چاہتا تھا وہ اپنا لائف سٹائل ایک جھٹکے میں بدل ڈالے۔ وہ اپنی کھٹارا موٹر سائیکل سے چھٹکارا پاکر اے سی والی کار لینا چاہتا تھا۔ اس کی شروع سے خواہش تھی وہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھانا کھائے۔ ایک دن اس کے یہ سارے خواب پورے ہوگئے۔ مگر کیسے! اس کے لیے آپ کو اس کی محنت کی کہانی کا علم ہونا ضروری ہے۔

ایک دن وہ یونیورسٹی کی کلاس سے ’’پھٹا‘‘ مارنے کے بعد کیفے میں بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا کہ اچانک کسی خیال کے ساتھ اٹھا۔ اب کی بار وہ پختہ عزم کے ساتھ اٹھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دنیا ہی بدل ڈالے گا۔ وہ کیفے سے اٹھ کرسیدھا کمپیوٹر لیب میں چلا گیا۔ کمپیوٹر آن کرتے ہی اس نے بڑی لگن کے ساتھ آدھے گھنٹے میں اپنا نیا فیس بک اکاؤنٹ بنا لیا تھا۔ جب وہ کمپیوٹر آن کر رہا تھا اس پر ایک ہی دھن سوار تھی وہ اب کچھ کر کے دکھائے گا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے اپنے پرانے فیس بک اکاؤنٹ سے اپنی اچھی تصویریں ڈاؤن لوڈ کرکے سیو کیں۔ ہر وہ تصویر جس میں ’’پینڈو پن‘‘ کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی تھی اسے اپنے پرانے اکاؤنٹ کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے ڈیلیٹ کردیا۔ نئی فیس بک آئی ڈی کے لیے گوگل سے کافی محنت کے بعد ایک انگریزی مقولہ تلاش کیا اور اسے اپنی بائیو گرافی میں درج کردیا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی وہ اپنا بیگ لیے لیب سے باہر نکل گیا۔ رات گئے تک وہ اپنی فیس بک آئی ڈی کے لیے خوبصورت سا فوٹو شوٹ کرواچکا تھا۔ اب اس کی فیس بک آئی ڈی کسی مقامی ٹام کروز کی آئی ڈی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ یہیں سے محنت کا سفر شروع ہوا۔ ایک دن فیس بک چھانتے ہوئے غیر ملکی حسینہ کی ڈی پی سامنے آگئی۔ بس پھر کیا تھا تنویر نے دن رات محنت کر کے شستہ انگریزی میں حسینہ کی تعریف شروع کی۔ ایک صبح اس کے لیے اچھی ثابت ہوئی جب اسے نوٹیفکیشن موصول ہواکہ اس کی کئی مہینوں سے دی گئی دوستی کی درخواست اگلی جانب سے قبول کر لی گئی ہے۔ اب اس کا حوصلہ مزید بڑھ گیا تھا لیکن یہیں سے سب سے بڑی مشکل کا آغاز ہوا۔

حسینہ کے ہاں جب رات ہوتی تھی تو یہاں صبح ہو رہی ہوتی تھی ان سب حالات میں بات چیت صرف ایک صورت میں ہی ممکن تھی۔ وہ صورت صرف یہ تھی وہ اپنی میٹھی نیند کی قربانی دے۔ اس کا مقصد چونکہ عظیم تھا سو اس نے یہ بھی کر دکھایا۔ وہ کہتے ہیں نہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ ابھی بہت سی مشکلیں اور بھی راہ میں تھیں۔ وہ ڈٹا رہا اس نے انگریزی بول چال کی پریکٹس شروع کردی، اب وہ بلا مقصد سٹیٹس لگانا چھوڑ چکا تھا۔ اب اس کے سٹیٹس فائیو سٹار ہوٹلوں میں چیک ان (Check In) کے ہوتے تھے۔ اس کی تمام ایکٹوٹیز (فیس بک کی حد تک) یکسر بدل چکی تھیں۔ اب چاہے وہ جین کی پینٹ ایک ہفتے تک پہنے رکھتا مگر شرٹ تین دن بعد ضرور تبدیل کرلیتا تھا۔ اب وہ ہر دوسرے دن نہا کر، بال بنا کر یونیورسٹی آتا تھا۔

اس کی محنت آخری حدوں کو چھونے لگی تھی وہ ساری رات جاگ کر حسینہ سے بات کرتا اور پھر سارا دن یونیورسٹی میں اونگھتا رہتا۔ اس کے گھر والے، دوست، رشتہ دار سبھی پریشان تھے کہ اس کو ہو کیا گیا ہے۔ آخر کار وہ دن بھی آگیا جب اس کی مسلسل محنت، ثابت قدمی، مستقل مزاجی کا پھل خود چل کر پاکستان آگیا۔ کچھ ہی دنوں میں حسینہ اس محنتی لڑکے کی بیوی کے درجے پر فائز ہوگئیں۔ آج تنویر کے پاس پھٹیچر بائیک کی بجائے زیرو میٹر گاڑی ہے، جیب میں پیسے ہیں۔ برینڈڈ جوتی اور کپڑے پہنتا ہے، جب جی چاہے فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھاتا ہے۔ وہ اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنے حالات بدل چکا ہے۔ باقی خاندان کے حالات بدلنے کے لیے وہ کچھ ہی دنوں میں اپنی بیگم کے پاس بیرون ملک شفٹ ہونے جا رہا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں