انتخاب 25 جولائی، غیرسرکاری اور حتمی نتیجہ 13 جولائی


آنکھ نے جب بھی رستہ چاہا، پہنچی چھت کے جالے تک۔ آنکھ، ظاہر ہے، بصیرت کا استعارہ ہے۔ تار عنکبوت کہلانے والے چھت سے لٹکے مکڑی کی جالے سے زیادہ بے بضاعت اور کمزور کیا شے ہو سکتی ہے؟ لیکن اس کی طاقت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب کوئی طاقتور شے مکڑی کے جال میں پھنس جائے۔

بانگ درا کی کچھ نظموں کو بچوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ اقبال کی فن کارانہ فریب کاری تھی۔ شجر کی ٹہنی پہ بیٹھا اداس بلبل ہو یا مکڑی کے جالے میں ضیافت سے معذرت کرنے والی مکھی، پہاڑ سے مکالمہ کرنے والی گلہری ہو یا وہ اچھی سی گائے جو نوکدار سینگ رکھتی ہے۔

دنیا کی اعلیٰ ترین شاعری کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ روزمرہ کی معمولی ترین شے کو عمیق ترین فلسفے میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اب ابتدا ئی سطر کے اس مصرعے ہی میں دیکھیے، بصیرت سے بہرہ مند آنکھ جو صدیوں کی خبر رکھتی ہے اور آنے والے زمانوں کی ٹھیک ٹھیک پیش بینی کر سکتی ہے، چھت سے لٹکے ہوئے ایک معمولی مکڑی کے جال میں الجھتی ہے تو تھاہ نہیں پاتی۔

شاید ایسا ہی کوئی لمحہ ہو گا جب سلواڈور ڈالی نے میز پہ رکھے پنیر کے پگھلتے ہوئے ٹکڑے کو وقت بتانے والی گھڑی میں ڈھال دیا تھا اور عنوان دیا، ’یادداشت کی مسلسل دستک‘ ۔ اسی بات کو آگے لے کر بڑھتے ہیں، مجھے اپنے مرحوم دوست علی افتخار جعفری کو یاد کرنے دیجیے، کیا شخص تھا، اور کیا شعر کہتا تھا!

نم کہیں اور کا ہو، آنکھ کہیں جا کے بہے
عقل والوں کو اشارہ یہ کہیں اور کا ہے

تاریخ پاکستان ٹیلیوژن پر رات نو بجے کا خبرنامہ نہیں ہے جس میں درجہ بدرجہ زعمائے حکومت کی خوش فعلیاں بیان کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی پریس ریلیز بھی سنا دی جائے کہ ’فلاں شہر میں چند شرپسندوں نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی، پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کر دیا، آٹھ شرپسند گرفتار کر لیے گئے‘۔

تاریخ موج، گرداب اور زیرآب نہنگ کی وہ بندش ہے جس میں 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ میں مرنے والے پانچ طالب علم، 16 دسمبر 1971ء تک کی بیس سالہ تاریخ مرتب کرتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ فروری 1952 میں ڈھاکہ پولیس کا ایس پی مسعود محمود تھا جو 1979 میں بھٹو صاحب کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا ؟ 4 جنوری 1964 کو کراچی کے کمشنر روئیداد خان تھے جو برسوں ضیاالحق اور پھر غلام اسحاق خان کی ناک کا بال رہے۔

مارچ 53ء میں لاہور اور نواحی علاقوں میں فرقہ وارانہ ہنگاموں کے بعد آزاد پاکستان میں پہلی مرتبہ مارشل لا کی رونمائی ہوئی۔ اہل لاہور نے 1919 کا مارشل لا دیکھ رکھا تھا۔ بوڑھی ماؤں کے دلوں میں ابھی تک دہشت بیٹھی تھی کہ کسی کو گھر کی دہلیز پر گرا بیٹے کا لاشہ اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ لاہور کے زعماء کی سربازار حاضری لگائی جاتی تھی۔

گورے پولیس افسر کی نگرانی میں مقامی پولیس کا کارندہ معزز شہریوں کے نام لے کر حاضری پکارتا تھا۔ اعجاز بٹالوی کے بڑے بھائی ذوالقرنین کو یہ ذمہ داری ملی۔ لاہور میں کوئی ایسا معزز شخص نہیں تھا جو ان کے والد غلام اکبر خان کو نہ جانتا ہو۔

گھریلو تربیت کے زیر اثر ذوالقرنین نے حاضری لگاتے ہوئے ادب سے چوہدری شہاب الدین کا نام لیا، گھوڑے پر بیٹھا باوردی گورا غصے میں چلایا، ’چاؤڈری مٹ بولو، شاب ڈین کہو‘۔ صاحبان ذی وقار، ہمارے پرکھوں نے آزادی اس لیے مانگی تھی کہ شرافت اور رذالت میں لکیر واضح کی جا سکے۔ انصاف اور جبر کی حدود طے کی جا سکیں۔ ہمیں اجازت مل سکے کہ جسے ووٹ سے عزت دیں، اسے ’بڑا ملزم‘ کہنے پہ مجبور نہ کیا جائے۔

ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آزادی کے بعد مشتاق گورمانی، کالاباغ، مصطفی کھر، مولوی مشتاق اور جام صادق علی سے واسطہ پڑے گا۔ ہم نے تو مولوی احمد سعید دہلوی کا احترام سیکھا تھا، ہمیں کیا خبر تھی کہ سربازار ننگی گالیاں دینے والوں کو اعزاز بلکہ اعزازیہ دیا جائے گا۔

چوہدری شہاب الدین کے ذکر سے فضل الرحمن چوہدری یاد آ گئے۔ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ میں وزیر تجارت تھے۔ اکاؤنٹس برانچ والے ملک غلام محمد آزادی کے بعد گورنر جنرل اور محسن ملت ہو گئے تھے۔ فضل الرحمن چوہدری اور غلام محمد میں ایسی ہی چشمک تھی جیسی خواجہ آصف اور چوہدری نثار میں پائی جاتی ہے۔ 17 اپریل 53ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی۔

کراچی پریس کلب میں مولوی محمد سعید کچھ صحافیوں کے ساتھ بیٹھے چائے پی رہے تھے، اچانک کہیں سے فضل الرحمن چوہدری نمودار ہوئے، صحافی نیند میں ہو یا بیدار، خبر کی تلاش میں ہوتا ہے۔ ان صحافیوں نے برطرف وزیر تجارت سے ملکی احوال پوچھا، فضل الرحمن نے مختصر جواب دیا کہ پاکستان تو ٹوٹ گیا۔

صحافیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ پوچھا جناب کیسے؟ کہا ’اسمبلی میں اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کو لولے لنگڑے گورنر جنرل نے خود سے تو نہیں ہٹایا، اس کے پیچھے ایوب خان کی بندوق ہے اور فوج کی اکثریت مغربی پاکستان سے تعلق رکھتی ہے۔ گویا مغربی پاکستان کی بندوق نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کو دروازہ دکھا دیا ہے۔ اس طرح ملک نہیں چل سکے گا۔‘

اکتوبر 58ء ابھی تازہ تھا، جسٹس رستم کیانی سے کسی صاحب نظر نے کہا کہ مجھے پاکستانی فوج کی فکر ہو رہی ہے۔ رستم کیانی تو وہ حساس شخص تھا جو گلاب کی ٹہنیاں کاٹتے ہوئے ملکی حالات پہ غور و فکر میں محو ہوکر اپنی ہی انگلی زخمی کر لیتا تھا۔ پوچھا خیریت تو ہے؟ فوج کے بارے میں فکر مندی کیوں؟ مخاطب نے کہا، فوج نے بندوق کے بل پر سیاست کا کھیت اجاڑ دیا ہے۔

جلد یا بدیر سیاست دان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے اور ناگزیر طور پر فوج کی اس زورآوری سے خوفزدہ ہو کر اسے کمزور کرنا چاہیں گے، فوج ایسا کیوں ہونے دے گی؟ وہ سیاسی قوتوں کو مسلسل کمزور رکھے گی۔ پاکستان کی ریاست میں اداروں کا ٹکراؤ شروع ہو جائے گا۔ یہ بات ساٹھ برس پہلے کہی گئی تھی، تب چوہدری نثار، پرویز رشید، محمود اچکزئی، افراسیاب خٹک، شہباز شریف اور عمران خان دیوار گلستان پہ لام الف لکھتے تھے۔

1958 سے 2018 تک ٹھیک ساٹھ برس گزرے ہیں۔ اس دوران لاہور ہائیکورٹ کے ایک منصف شمیم حسین قادری ہوا کرتے تھے، عدالت میں کسی حساس ادارے کے اہلکار کو ڈانٹ دیا۔ شکایت بھٹو صاحب تک پہنچی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو پیغام ملا کہ شمیم قادری کو بتاؤ کہ ابھی ہم جنگل سے باہر نہیں نکلے۔ شمیم حسین قادری کا بھتیجا ضعیم قادری ان دنوں ایک خاص کیفیت سے گزر رہا ہے۔ یہ کیفیت ہمارے لیے نئی نہیں، ہم نے 68ء میں بھٹو،78ء میں اصغر خان، 88ء میں نوازشریف اور 99ء میں شیخ رشید کو اس کیفیت میں دیکھ رکھا ہے۔ سیاست علم دریاؤ ہے، پہاڑوں کی مٹی میدانوں کو سیراب کرتی سمندروں تک پہنچتی ہے۔

جنرل ضیا الحق کا طیارہ 17 اگست 88ء کو تباہ نہیں ہوا تھا، 29 مئی 88ء ہی کو زمین بوس ہو گیا تھا جب محمد خان جونیجو کو برطرف کیا گیا۔ ایوب خان نے 25 مارچ 69ء کو استعفیٰ نہیں دیا، انہیں جنوری 68 ء میں ہی معزول کیا جا چکا تھا جب جنرل یحییٰ خان نے صاحب فراش ایوب خان کو ہفتہ بھر یرغمال بنائے رکھا۔

متحدہ پاکستان کی قسمت کا فیصلہ 16دسمبر کو پلٹن میدان میں نہیں ہوا، پچیس مارچ 71ء کو جگن ناتھ ہال اور اقبال ہال میں ہو گیا تھا۔

پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 99ء کو چیف ایگزیکٹو ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے 17 مئی 99ء کو وزیر اعظم کو اطلاع دی تھی کہ انہوں نے لائن آف کنٹرول پار کرنے کا فیصلہ از خود کیا ہے۔ آصف زرداری دسمبر 2011ء میں بے بس نہیں ہوئے، 26 نومبر 2008 ہی کو ان کے دروازے پہ ایمبولینس آن کھڑی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ 25 جولائی کو پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، یہ کالم تیرہ جولائی کی صبح لکھا جا رہا ہے، آئندہ انتخابات کا غیر سرکاری مگر حتمی نتیجہ آج شام تک لاہور کی گلیوں میں معلوم ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں