سنی لیونی کو اپنی کہانی سنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن


سنی لیونی

بالی وڈ اداکارہ سنی لیونی ایک ویب سیریز کے ذریعے اپنی کہانی سنانے جا رہی ہیں کہ کینیڈا میں رہنے والے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والی کرن جیت کور کس طرح سنی لیونی بنیں۔

سیریز کے ٹریلر کی لیز کے موقع پر سنی لیونی نے ایک بار پھر انتہائی سادگی اور باوقار انداز میں میڈیا کے سوالوں کے جواب دیے۔ سنی کا کہنا تھا کہ وہ اس سیریز کے حوالے سے کافی نروس ہیں کہ لوگوں کا رد عمل کیسا ہوگا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ انھیں اپنی کہانی سنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو سنی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں بلکہ فلساز ان کی کہانی بتانا چاہتے ہیں۔

37 سالہ سنی کا کہنا تھا کہ انھوں نے انتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنی کہانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سیریز میں ان کی زندگی کے اچھے، برے اور بد صورت تمام تر پہلو ہوں گے۔

سنی کا کہنا تھا وہ دراصل کرن جیت ہیں سنی محض ایک برانڈ ہے۔ سیریز میں ایک کمسن لڑکی کرن جیت کی کہانی دکھائی جائے گی جو گھر کے تنگ معاشی حالات سے گھبرا کر کس طرح پورن انڈسٹری کا حصہ بن جاتی ہے۔

سنی کے پورن انڈسٹری میں جانے سے متعلق سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ کسی کے لیے کیا کرنا برا ہے اور کیا اچھا یہ انتہائی ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ پورن انڈسٹری خراب ہے اگر یہ رائے اکثریت کی ہوتی تو شاید یہ انڈسٹری کبھی اتنا نہ پھلتی پھولتی۔

سنی کہتی ہیں کہ اکثر لوگوں کے لیے وہ سافٹ ٹارگیٹ ہو سکتی ہیں لیکن ان کے خیال میں ہر ایک کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ضرور ہے لیکن یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ جو آپ کے لیے غلط ہے وہ دوسرے کے لیے صحیح بھی ہو سکتا ہے کیونکہ سب کے اقدار، خیال اور نظریات الگ ہوتے ہیں۔

فلسماز ابھینو سنہا رشی کپور اور تاپسی پنوں کے ساتھ فلم ‘ملک’ لے کر آ رہے ہیں۔ فلم انڈین مسلمانوں کے حالات اور دہشت گردی کے حوالے سے ہے۔

فلم کے ٹریلر کی رلیز کے موقع پر ابھینو نے کافی کھرے اور کڑے الفاظ کہے۔ انڈیا کے موجود حالات کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالوں کے جواب میں ابھینو نے کہا کہ ان کی فلم ‘ملک’ میں میڈیا اور ملک میں اٹھنے والے ہر طرح کے سوالات کے جواب بھی ملیں گے اور کچھ نئے سوال بھی پیدا ہوں گے۔

ابھینو کا کہنا تھا کہ کسی ہندوستانی مسلمان کو کسی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ اسے اپنے وطن سے محبت ہے۔

ابھینو کا کہنا تھا کہ آج انڈیا میں ہندوؤں کو بھی یہ ثابت کرنا پڑ رہا ہے کہ انھیں اپنے دھرم سے کتنی محبت ہے اور دوسرے کے دھرم سے کتنی نفرت ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ فلم کسی خاص پارٹی یا حکومت کے بارے میں نہیں بلکہ اس بارے میں ہے کہ ہم خود ہی کیسے اپنا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔’

سنجے دت کی بیٹی ترشالہ دت چاہے خود انڈسٹری کا حصہ نہ ہوں لیکن انسٹاگرام پر وہ ایک بڑی شخصیت ہیں اور ان کے فالوورز لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔

ترشالہ اکثر سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اورکمنٹس شائع کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے ایک گیم شروع کیا ہے کہ ‘مجھ سے سوال کریں’ اب لوگ ان سے ان کی زندگی کے بارے میں طرح طرح کے سوال کر رہے ہیں اور ترشالہ انتہائی سادگی اور سمجھداری کے ساتھ جواب دیتی ہیں۔

لیکن جب ان سے ان کے پاپا کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ صرف اتنا ہی کہہ سکیں کہ وہ ایک اچھے پاپا ہیں۔ ترشالہ کی ممی رچا کافی پہلے کینسر سے انتقال کر چکی ہیں اور ترشالہ فلموں میں کام کرنا چاہتی ہیں جبکہ سنجے دت اس کے سخت خلاف ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6315 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp