مریم نواز نے سہالہ ریسٹ ہائوس سب جیل جانے سے انکار کیوں کیا؟


بیٹی نے باپ کو جیل بھیجے جانے اور خود کو سہالہ ریسٹ ہائوس میں پہنچائے جانے کی سختی سے مخالفت کی اور سرکاری حکام پر واضح کیا کہ وہ اپنے باپ کو اکیلے اڈیالہ جیل میں رکھنے اور خود سہالہ پولیس ٹریننگ کالج ریسٹ ہائوس میں نہیں جا سکتیں۔ یہ بات ن لیگی رہنما شیخ ارسلان حفیظ نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کی توجہ جیو اور دوسرے ٹی وی چینل پر بار بار میاں نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے متضاد خبریں ٹیلی کاسٹ ہونے کے بارے میں دلائی گئی اور ان سے کہا گیا کہ نجی ٹی وی چینل ایک بار یہ خبر دیتے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ائیرپورٹ سے ایک طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر میں اڈیالہ جیل اور سہالہ ریسٹ ہائوس پہنچایا جائے گا یہ بھی خبریں چینلوں پر جاری ہوئیں کہ سہالہ پولیس ٹریننگ کالج جو کہوٹہ روڈ راولپنڈی میں واقع ہے کو سب جیل قرار دیدیا گیا ہے۔ نیب اور دوسرے متعلقہ حکام مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہائوس سب جیل میں منتقل کرینگے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں رکھا جائے گا۔ پھر یہ خبریں ٹی وی چینل پر آئیں کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو سہالہ ریسٹ ہائوس( سب جیل) میں رکھا جائے گا اور آخر میں یہ خبر آئی کہ دونوں باپ بیٹی کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ہے۔

اس پر ارسلان حفیظ رہنما راولپنڈی مسلم لیگ نے کہا کہ یہ سب خبریں درست ہیں کیونکہ لاہور سے اسلام آباد نواز شریف کو الگ چھوٹے جیٹ طیارے میں اور محترمہ مریم نواز کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سہالہ ریسٹ ہائوس سیدھا جانے کا طے کیا گیا مگر لاہور ایئرپورٹ پر مریم نواز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ اکھٹے اسلام آباد جائیں گی چاہے وہ جہاز ہو یا ہیلی کاپٹر۔ اس پر دونوں باپ بیٹی کو لاہور سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے کارگو ایریا میں ایک ہی جیٹ طیارے میں سوار کر کے پہنچایا گیا۔ جہاں پر انہیں حکام نے آگاہ کیا کہ مریم نواز کو بینظیر بھٹو شہید اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کی طرح سہالہ ریسٹ ہائوس میں قید رکھا جائے گا اور نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں رکھا جائے گا اس پر ن لیگ کے رہنما کے مطابق مریم نواز نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اپنے والد میاں محمد نواز شریف سے جدا ہو کر کسی ریسٹ ہائوس میں کسی قیمت پر جانے کو تیار نہیں ہیں۔ “جہاں میرے فادر کو رکھا جائے گا، میں بھی سہالہ ریسٹ ہائوس کی بجائے اسی اڈیالہ جیل میں رہوں گی”۔ اس پر حکام بار بار اپنے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتے رہے اور اپنے فیصلے بدلتے رہے۔ آخر میں بیٹی کو باپ کے ساتھ اڈیالہ جیل موٹر گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ کم و بیش نصف شب کے قریب منتقل کر دیا گیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں