وہ جنہوں نے دشمن سے داد شجاعت پائی


mustafa-kemal

ان دو قوموں کا قصہ، جنہوں نے ایک خونریز جنگ لڑی، اور جنگ ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے کے سپاہیوں کی بہادری کی قدر کی اور ان کی تعریف میں کسی بخل سے کام نہیں لیا۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران چرچل کے اصرار پر اتحادی فوجوں نے استنبول کے پاس گیلی پولی پر حملے کا فیصلہ کیا اور 25 اپریل 1915 کو اتحادی فوجیں گیلی پولی پر اتر گئیں۔ اور یوں وہ جنگ شروع ہوئی جو تاریخ کا رخ بدل دینے والی جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس جنگ میں اتحادیوں کی پندرہ ڈویژنوں کے ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد فوجیوں نے حصہ لیا، اور ترکوں کی سول ڈویژنوں کے تین لاکھ سے زائد فوجیوں نے دفاع کیا۔ دونوں اطراف کے ڈھائی ڈھائی لاکھ فوجی اس میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔

خوش قسمتی سے اتحادیوں کے اس حلے کے وقت ترکوں کے 19ویں ڈویژن کی کمان لیفٹنٹ کرنل مصطفی کمال کے ہاتھ میں تھیں۔ حملے کا سامنا 27 ویں رجمنٹ نے کیا۔ حملے کی اطلاع پا کر مصطفی کمال نے 57 ویں رجمنٹ اور توپخانے کے ساتھ محاذ کا رخ کیا۔ ان دستوں کو دس منٹ کا آرام دینے کے لیے مصطفی کمال نے انہیں رکنے کا حکم دیا تھا اور خود چند افسروں کے ساتھ محاذ پر واقع ایک اہم پہاڑی کا رخ کیا۔ وہاں پہنچنے پر مصطفی کمال نے ترک سپاہیوں کو دیکھا جو محاذ چھوڑ کر پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس پہاڑی پر چڑھ رہے تھے اور اتحادی فوجی ان کے تعاقب میں تھے۔ اس وقت کمک کے لیے آنے والی 57 ویں رجمنٹ مصطفی کمال سے دور تھی اور دشمن نظروں کے سامنے تھے۔

mustafa-kemal-gallipoli-1915

روایت ہے کہ مصطفی کمال نے بھاگنے والے فوجیوں سے پوچھا کہ تم کیوں بھاگ رہے ہو؟
فوجیوں نے جواب دیا کہ دشمن ہمارے تعاقب میں ہے۔
دشمن تیزی سے پہاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

مصطفی کمال: تم بھاگ نہیں سکتے ہو۔
فوجیوں نے کہا کہ لیکن ہمارے پاس اسلحہ ختم ہو چکا ہے۔
مصطفی کمال: تو کیا ہوا۔ تمہاری بندوقوں پر سنگینیں موجود ہیں۔ ان سے مقابلہ کرو۔
اس موقعے پر مصطفی کمال نے وہ مشہور الفاظ کہے جنہوں نے گیلی پولی کی جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ اس نے کہا کہ ’میں تمہیں دشمن پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دے رہا ہوں۔ میں تمہیں مرنے کا حکم دے رہا ہوں۔ ہمیں مرنے میں جتنا وقت لگے گا، اتنی دیر میں ہماری
gallipoliجگہ لینے کے لیے دوسرے سپاہی اور افسر پہنچ جائیں گے‘۔
فوجیوں نے اپنی بندوقوں پر سنگینیں چڑھا لیں اور زمین پر لیٹ کر دشمن کا انتظار کرنے لگے۔
دشمن نے انہیں پوزیشن لیتے دیکھا تو انہیں مسلح جان کر وہ بھی زمین پر پوزیشن سنبھال کر رک گئے۔
مصطفی کمال نے پیچھے آنے والے 57 ویں رجمنٹ کے اپنے دستوں کو تیزی سے وہاں پہنچنے کو کہا۔ آدھے گھنٹے تک کمک پہنچ  گئی اور دشمن پر جوابی حملہ شروع کر دیا گیا۔

گیلی پولی کے اس آٹھ ماہ تک جاری رہنے والے معرکے میں 57 رجمنٹ کے تمام افراد مارے گئے یا زخمی ہو گئے۔ اس رجمنٹ کی اس بے مثال بہادری کے اعتراف میں اب ترک فوج میں 57 وین رجمنٹ نہیں ہوتی ہے۔

اس جنگ کی یاد میں 25 اپریل کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آنزاک ڈے منایا جاتا ہے۔ جنگ کے بعد 1934 میں مصطفی کمال اتاترک نے پہلی مرتبہ گیلی پولی پہنچنے والے اتحادی ملکوں کے شہریوں کو مخاطب کر کے یہ الفاظ کہے تھے:

Watch-gravesاے وہ سرفروشو جنہوں نے اپنا خون بہایا ہے
اور اپنی جان دی ہے
اب تم ایک دوست ملک کی زمین میں دفن ہو
اس لیے تم امن چین سے رہو
ہمارے اس ملک میں ہمارے لیے ان ’جونیوں‘ میں اور ’محمدوں‘ میں
کوئی فرق نہیں ہے جو ساتھ ساتھ یہاں لیٹے ہوئے ہیں
تم، وہ مائیں
جہنوں نے دور دراز کے ملکوں سے اپنے بیٹے بھیجے تھے
اپنے آنسو پونچھ ڈالو
Australian War Memorial in Canberraتمہارے بیٹے اب ہماری دھرتی کے سینوں میں دفن ہیں
اور سلامتی سے ہیں
اس سرزمین پر اپنی جان دینے کے بعد
وہ ہمارے بیٹے بن چکے ہیں

1985 میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ترکی کے مابین ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ترکی نے اس جنگ کے ایک علاقے کا نام آنزاک کی ترائی رکھا ہے، اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے کینبرا اور ویلنگٹن میں آنزاک کی یادگاروں کے ساتھ اتاترک کی یادگار بھی بنائی ہے جہاں اتاترک کے مندرجہ بالا الفاظ کندہ ہیں۔

ہر سال آنزاک ڈے پر آسٹریلیا میں ترکی کا سفیر اتاترک کے یہ الفاظ دہراتا ہے۔

flags

مکمل تباہی کا شکار ہونے والی اور بہادری کی عظیم مثال قائم کرنے والی 57 وین رجمنٹ کا جھنڈا کینبرا کے عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے
نیچے یہ الفاظ کندہ ہیں:

’رجمنٹ کا یہ جھنڈا گیلی پولی سے لایا گیا ہے لیکن اسے جھکایا نہیں جا سکا تھا۔ ترک فوج کی روایات کے مطابق، رجمنٹ کا جھنڈا اس وقت تک نہیں جھکتا جب تک کہ اس کا آخری فوجی بھی موت کا شکار نہیں ہو جاتا ہے۔ یہ جھنڈا ایک درخت پر ملا تھا جس کے نیچے رجمنٹ کا آخری سپاہی ابدی نیند سو چکا تھا۔ اس جھنڈے کے پاس سے، جو کہ بہادری کی علامت ہے، سیلوٹ کیے بغیر مت گزریں‘۔

دشمنی فانی ہے، بہادری لافانی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “وہ جنہوں نے دشمن سے داد شجاعت پائی

Comments are closed.