شہباز شریف کا وزیر اعلی پنجاب بننا مشکل ہو گیا: سہیل وڑائچ


سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ ریاستی پالیسی کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ شہباز شریف کو اب وزیراعلیٰ پنجاب بننے دیا جائے گا۔ نگراں حکومت نے ن لیگ کی ریلی روکنے کیلئے بہت غلط حکمت عملی اختیار کی۔ ن لیگ کا نواز شریف کے استقبال کیلئے ریلی کی صورت جانے کا فیصلہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے تھا، جب ریاست کے خلاف مزاحمتی سیاست کی جائے تو بڑا ہجوم اکٹھا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لاہور میں کنٹینرز اور رکاوٹوں کی وجہ سے توقع کے برخلاف زیادہ لوگ اکٹھے نہیں ہوئے۔ ن لیگ پارٹی کے اندر دو متضاد بیانیوں کو ایک کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، نواز شریف اور مریم نواز جیل میں ہوں گے اور شہباز شریف اپنا بیانیہ تلخ کریں گے تو ن لیگ میں گروپنگ کا تاثر ختم ہوجائے گا۔ جاننے والے جانتے تھے کہ دونوں بھائی مشورہ کر کے ایسا کرتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو الیکشن میں جو نقصان ہونا تھا ہوچکا ہے، جمعے کی ریلی سے ن لیگ کا ووٹر رک جائے گا لیکن فتح کے امکانات پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں، وفاقی حکومت کو ایک طرف کردیں، اب انہیں پنجاب حکومت کیلئے اکثریت حاصل کرنی ہے، ریاستی پالیسی کو دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ شہباز شریف کو اب وزیراعلیٰ پنجاب بننے دیا جائے گا.

شہباز شریف کے مزاحمتی سیاست کرنے سے مفاہمت کا راستہ بند ہوچکا ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ ن لیگ کا سینٹرل پنجاب میں ووٹ بینک قائم ہے ،ن لیگ سینٹرل پنجاب اور پنجاب سے زیادہ نشستیں جیتے گی مگر سینٹرل پنجاب میں واضح اکثریت نہیں حاصل کرسکے گی، آئندہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کی بنتی نظر آرہی ہے، پی ٹی آئی جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نشستیں جیت کر مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی، پہلے واضح چانس تھا کہ شہباز شریف پنجاب حکومت بنالیں گے مگر مزاحمتی سیاست کے آغاز کے بعد نہیں لگتا کہ مزاحمتی پارٹی کو پنجاب میں اقتدار دیا جائے گا، ن لیگ پنجاب اسمبلی میں زیادہ نشستیں جیت بھی جائے تب بھی فارورڈ بلاک ، پیٹریاٹ گروپ یا نیا جیپ گروپ تشکیل پاسکتا ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگلی حکومت سال ڈیڑھ سال چلے گی، ن لیگ ذہنی طور پر مزاحمت کیلئے تیار ہوچکی ہے۔

ن لیگ کو پنجاب حکومت ملی تو شدید مزاحمت کرے گی اور حکومت نہ بھی ملی تو اپوزیشن میں رہ کر مزاحمت کرے گی، ن لیگ کے خیال میں سال ڈیڑھ سال میں حالات تبدیل ہوجائیں گے کیونکہ پاکستان میں روایتاً مخلوط حکومت زیادہ دیر نہیں چل پاتی ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبرپختونخوا میں کمزور پی ٹی آئی حکومت کے ہوتے تحریک انصاف کیلئے وفاقی حکومت چلانا بہت مشکل ہوگا، عمران خان، پی ٹی آئی اور ریاست کیلئے یہ بہت بڑا چیلنج ہے، الیکشن سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ نواز شریف نے گرفتاری سے اپنی نئی مزاحمتی سیاست کی بنیاد رکھی ہے،الیکشن میں ان کی نئی سیاست کا منفی نتیجہ نکل سکتا ہے، نئی حکومت کے قیام کے بعد نواز شریف کی مزاحمتی سیاست کی اہمیت بڑھتی جائے گی، نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست اب مزید مضبوط ہوگی، پاکستان میں جب سیاستدان جیل میں جاتے ہیں تو عوام کی ہمدردیاں ان کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں، الیکشن سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کو چند دن کی جیل کا ن لیگ کو زیادہ فائدہ نہیں ہو گا،پنجاب کے شہروں کا ووٹ ن لیگ کو ہی ملے گا، یہ ووٹ ٹریڈرز کا ہے جو باہر نہیں نکلتے لیکن ووٹ نواز شریف کے حق میں ڈالیں گے، نواز شریف مزاحمت کی کال دیں گے تو یہ ووٹر باہر نہیں نکلے گا، ن لیگ نے مزید مزاحمت کی کال دی تو لوگ نہیں نکلیں گے کیونکہ ن لیگ میں مزاحمتی ووٹر شروع سے ہی بہت کم ہے۔

سہیل وڑائچ کاکہنا تھا کہ نگراں حکومت نے ن لیگ کی ریلی روکنے کیلئے بہت غلط حکمت عملی اختیار کی، نگراں وزیراعلیٰ پنجاب پروفیسر حسن عسکری کی بطور فلاسفر، رائٹر اور غیرجانبدار شخص کی حیثیت مجروح ہوئی ہے، پنجاب کے وزیرداخلہ شوکت جاوید کی بطور پولیس افسر بہت اچھی شہرت تھی لیکن ان کی حکمت عملی نہایت ناقص تھی جس سے سے نگراں حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں