مستونگ میں 128 افراد کی ہلاکت پر سوگ، تدفین جاری، امریکہ کی بھی مذمت


مستونگ

EPA
ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تعداد نوجوانوں کی تھی

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں انتخابی جلسے پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد صوبے میں فضا سوگوار ہے۔

صوبے کے نگراں وزیر داخلہ آغا عمر بنگلزئی کے مطابق اس سانحے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128 افراد ہلاک اور120 سے زیادد زخمی ہوئے تھے۔

سانحے میں زخمی ہونے والوں میں سے 70 کے قریب افراد سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سانحے پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے قومی پرچم سرنگوں ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں

مستونگ خود کش حملہ: 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

’شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے‘

مستونگ

BBC
حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سانحے پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

امریکہ کی مذمت

ادھر امریکہ نے پاکستان میں انتخابی امیدواروں پر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والےحالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستانی عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے دور رکھنے کی بزدلانہ کوشش ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ متاثرین کے لواحقین کے سوگ میں ان کے ساتھ ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی امید کرتا ہے۔ بیان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ پاکستان عوام کے ساتھ ہے۔

مستونگ

EPA
سانحے میں زخمی ہونے والوں میں سے 70 کے قریب افراد سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے

مرنے والے کون تھے؟

مستونگ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کا سلسلہ گذشتہ رات سے درینگڑھ اور قرب و جوار کے علاقوں میں شروع کیا گیا تھا تاہم زیادہ تر افراد کی تدفین سنیچر کو ہو گی۔

یہ حملہ مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہوا جس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 35 مستونگ سے پارٹی کے امیدوار نوابزادہ میر سراج رئیسانی کو نشانہ بنایا گیا۔

سراج رئیسانی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف جھالاوان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے اور اسی نشست سے وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر اپنے ہی بھائی نواب اسلم رئیسانی کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے تھے۔

اس واقعے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں یہ نظر آتا ہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی دھماکہ ہوتا ہے۔

جب سٹیج سیکریٹری نوابزادہ سراج رئیسانی کو خطاب کے لیے بلاتا ہے تو لوگ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ نوابزادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے 15 سے 20 سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہوتا ہے۔

دھماکے سے قبل براہوی زبان میں وہ صرف اتنا بول سکے کہ ’بلوچستان کے بہادر لوگو‘۔

عینی شاہدین نے سول ہسپتال کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس جلسے کی مناسبت سے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی تعداد نوجوانوں کی تھی۔

اس حملے میں متعدد دیگر قبائلی عمائدین کی بھی ہلاکت ہوئی ہے تاہم ابھی تک ان کی شناخت کے بارے میں بتایا نہیں گیا ہے۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق درینگڑھ میں انتخابی جلسے پر ہونے والا حملہ خود کش تھا جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

سراج رئیسانی کا انتخابی پوسٹر

BBC
سراج ریئسانی نے اپنے بڑے بھائیوں کے موقف کے برعکس سیکورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا

سراج رئیسانی سکیورٹی فورسز کے حامی تھے

نوابزادہ سراج رئیسانی کے خاندان کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی سیٹ اپ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد انھوں نے اپنے بڑے بھائیوں کے موقف کے برعکس سیکورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا تھا۔

انھوں نے اس مقصد کے لیے بلوچستان متحدہ محاذ کے نام سے تنظیم کو فعال کیا تھا ۔تاہم چند ہفتے قبل اس تنظیم کو بلوچستان کی سطح پر قائم ہونے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کر دیا گیا تھا۔

نوابزادہ سراج رئیسانی کو سنہ 2011 میں بھی مستونگ میں 14 اگست کی مناسبت سے ایک تقریب کے دوران بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے تھے تاہم اس میں ان کے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنہ 2011 میں ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

دریں اثنا نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے کہا ہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی ایک محب وطن پاکستانی اور سچے بلوچستانی تھے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا ‘دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود انھوں نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی، دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5704 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp