نواز شریف کی گرفتاری سے خوشی نہیں ہوئی


پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نواز شریف کی گرفتاری سے خوشی نہیں ہوئی۔ سیاسی اور عوامی نمائندوں کو ایسے کام نہیں کرنا چاہئیں جس کا انجام جیل ہو۔ 1964ء سے سیاستدانوں کی پے در پے گرفتاریاں دیکھ رہا ہوں۔ شہباز شریف کے پاس قائدانہ صلاحیت نہیں ہے۔ ان کی طرف سے کوئی مزاحمتی تحریک دیکھنے کو نہیں ملتی۔ مارشل لاء دور میں ہم نے سب سے پہلے لاٹھی اور پتھر کھائے۔خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق بڑے بیانات دیتے رہے لیکن موقع پر غائب ہو گئے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 1964ء سے پے در پے سیاستدانوں کی گرفتاریاں دیکھ رہا ہوں۔

 

ایسا کام کبھی نہیں ہونا چاہئے کہ جس سے عوامی نمائندوں کو جیل جانا پڑے۔ نواز شریف کی گرفتاری سے خوش نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس ساری صورتحال سے یہی اندازہ ہوا کہ شہباز شریف کے پاس قائدانہ صلاحیت نہیں ہے۔ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ گرفتار ہوا لیکن کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ شہباز شریف کوکم از کم ایئر پورٹ پر پہنچنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق بڑے بڑے بیانات دے رہے تھے لیکن کل منظر عام سے غائب رہے۔ مارشل لاء کے دور میں ہم نے اپنی پارٹی کے لئے سب سے پہلے لاٹھی کھائی، پتھر کھائے ن لیگ کے رہنماؤں کو معر کے مقام پر پہنچنا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ ن لیگ کے لوگوں نے اندر سے سمجھوتہ کیا ہو گا۔ پنجاب پولیس کو بڑے مظاہرے روکنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ استقبالی قافلوں کے درمیان کوئی پلان دیکھنے کو نہیں ملا جن کو کل چلنا چاہئے تھا وہ آج چل رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں