خیبر پختونخواہ میں تعلیم کی حالت زار


Picture_Zubair Torwaliصبح سویرے جب اس کے گاؤں میں برف پوش چوٹیوں کو چھو کر دھوپ گھنے سبزے پر پڑتی ہے تو ایک عجیب سنہرا منظر ہوتا ہے۔ گاؤں کے عقب میں وہ پہاڑ تو اس نیلگوں صبح ایسا چملک رہا تھا گویا وہاں بسی پریاں دھوپ سینک رہی ہوں۔ یہاں سے ایک بڑا جھرنا رات میں گاؤں کو اپنی دُھن سناتا ہے۔ یہاں ہر مسافر رک کر اس پہاڑ اور جھرنے کا نظارا ضرور کرتا ہے۔

مگر یہ سحر انگیز منظر اس کو اپنی طرف راغب نہیں کرسکا۔ شاید اس منظر سے اس کا ہر وقت واسطہ پڑتا ہے۔ وہ تو اس صبح کسی اور دھن میں مگن تھی۔ اس کی عمر ابھی پردے کی نہیں لیکن گاؤں کی روایت اور والدین کے اصرار پر وہ ایک چھوٹی سی چادر میں اپنا چہرہ ڈھانپتی تو ہے لیکن ابھی اس کو پردہ کرنے کا سلیقہ نہیں آیا۔

وہ اردگرد سے بے خبر صرف گھر کے نیچے سے گزرتی سڑک کو دیکھتی تھی۔ اس سڑک پر چند بچّے اپنے بستے اُٹھا کر قریب سکول کی طرف جارہے تھے۔

افراء اپنے ان ہم عمر بچّوں کو دیکھ رہی تھی جو پچھلے سال اس کے ہم جماعت تھے۔ کچھ دیر بعد افراء گھر کے اندر آئی اور اپنے والد سے جو اس وقت چائے پی رہے تھے، پوچھا، ” ابّو ابّو، اب چونکہ میں پانچویں جماعت پاس کر چکی ہوں اور اب اگے پڑھنا چاہتی ہوں مگر اس کے لئے میں کدھر جاؤں؟ “

بے چارے والد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے علاقے لائیکوٹ اور پشمال میں سکول گننے شروع کیے۔ اسے وہاں کوئی ایسا سکول نہ ملا جو لڑکیوں کے لئے ہو اور جس میں مڈل یا میٹرک تک تعلیم کا بندوبست ہو۔ صرف یہ علاقہ ہی کیا ان کو بحرین اور کالام کے درمیان چالیس کلومیٹر طویل اور ایک لاکھ سے زیادہ کی آبادی والے علاقے میں بھی کوئی ایسا سکول نظر نہیں آیا۔ بیٹی نے ایک بہت بڑے مسئلے کی طرف والد کی توجہ مبذول کرائی تھی۔

افراء کے والد اٹھے۔ اپنا سمارٹ فون آن کیا اور غصّے میں فیس بک پر لکھا کہ ان کی بیٹی اگے پڑھنا چاہتی ہے مگر اب مڈل یا ہائی سکول کے لئے کدھر جائے۔ انہوں نے اپنے نمائندے اور چند دیگر لوگوں سے پوچھا تھا کہ ان کو بتایا جائے ان کی بیٹی اب کیا کرے۔

افراء کا علاقہ ملالہ یوسفزئی کے علاقے، ضلع سوات میں ہے اور پورے سوات میں اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور بھی ہے۔ افراء کے اس علاقے کو سوات کوہستان کہا جاتا ہے اور یہ مدین، بحرین اور کالام کی حسین وادیوں پر مشتمل ہے۔

سوات کی بیٹی ملالہ یوسفزئی کے دشمن آشکار تھے۔ وہ کھل کر لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے تھے۔ انہوں نے ملالہ اور دیگر کئی لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگائی تھی۔ اس پابندی کے خلاف ملالہ کھڑی ہوئی۔ چونکہ شہر میں بستی تھی اس لئے میڈیا اور سول سوسائٹی کی نظروں میں آگئی۔ انہوں نے ملالہ کی جرات کو سراہا اور اس کی آواز کو اٹھایا۔ ملالہ کو بین الاقوامی شہرت ملی۔ آخر کار انہوں نے دنیا کا سب سے بڑا اعزاز نوبیل انعام بھی جیتا اور دنیا میں تعلیم کی سب سے بڑی چیمپئین بنی۔

مگر افراء کے مجرم پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے لبادہ بھی خیرخواہوں کا پہنا ہے۔

افراء مینگورہ سے تقریباً اٹھانوے (98) کلومیٹر دور کالام کے قریب پشمال گاؤں میں بستی ہے۔ یہاں طاقتور میڈیا نہیں آتا۔ مرکزی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے اس لئے سول سوسائٹی کا کوئی بندہ بھی یہاں کا رخ نہیں کرتا۔ ریاستی ادارے ادھر کا رخ صرف سیکوریٹی چیک کے لئے کرتے ہیں۔ جو مرکزی شاہراہ افراء کے گاؤں سے گزرتی ہے اسے صرف جون جولائی میں مٹی ڈال کر ہموار کیا جاتا ہے کیوںکہ گرمیوں کے ان مہینوں میں اس علاقے میں ‘انسان ‘ آتے ہیں اور کالام، اتروڑ اور اوشو کی وادیوں کے موسم اور حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ باقی کے مہینے اس علاقے میں وہ مقامی لاکھوں کی تعداد میں رہتے ہیں جن کی کوئی توقیر نہیں۔ ایسے کوہستانی یا صحرائی لوگوں کی کسی سرمایہ دارانہ ‘تہذیب ‘ میں کوئی وقعت نہیں ہوتی کیوںکہ یہ لوگ نہ تو بڑی جاگیروں کے مالک ہیں اور نہ ہی کرپشن سے اٹی ہوئی سرمایہ دارانہ ملکی معیشت میں ان کا کوئی مقام ہے۔ ان لوگوں کا ان میڈیا کارپوریشنز میں کوئی حصّہ ہے اور نہ ہی ملک کی کج سیاست میں کوئی قیمت۔

ان علاقوں پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ البتہ جنگلات اور پانی کی صورت میں یہاں پائے جانے والے ان سونے کی کانوں پر ہر ایک کی نظر بد پڑتی ہے۔ افراء اور والد جیسے ان کوہستانیوں کو لاعلم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کہیں ا ن ساوئل کا صحیح استعمال نہ سیکھ لے اور اپنے حق کا نہ پوچھے۔

یہاں کے جنگلات نے خاص طور پر سوات میں اور عام طور پر ملک کے دوسرے حصّوں میں کئی لوگوں کو سرمایہ دار (خاندانی) بنایا۔ ان ہی جنگلات کی خاطر یہاں ریاست آئی، سیاست آئی اور قدیم زمانے میں شاہراہ بھی۔ یہاں کے پانی پر بڑے بڑے پن بجلی منصوبے بنائے جارہے ہیں لیکن مقامی ‘کمّیوں’ کو نہ روزگار ملتا ہے نہ کوئی ترقی۔ گزربسر کی بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ اس علاقے سے ہر سال سردیوں کے موسم میں ساٹھ فیصد سے زیادہ لوگ موسمی ہجرت کر جاتے ہیں۔ اس موسمی ہجرت سے سب سے زیادہ بچّے اور خواتین متاثر ہوتے ہیں۔ کئی خواتین اور بچّے اس ہجرت کے دوران سخت مزدوری بھی کرتے ہیں۔ یہاں کی سردی کا توڑ یہاں کا پانی ہے۔ اس پانی سے سستی یا فری بجلی وافر مقدار میں بنا کر ان مقامی لوگوں کو اگر فراہم کی جائے تو ان کی زندگیاں آسان ہوں گی اور جنگلات بھی بچ جائیں گے۔ مگر۔۔۔

ہم سب افراء کے مجرم ہیں۔

ہم والدین نے کبھی افراء اور ساتھی بچّیوں کے اس تعلیمی حق کے لئے اسی طرح کا کوئی جرگہ تک نہیں کیا جو ہم اکثر انتخابات یا پھر ‘ٹون پیس ‘ (جنگلات کی رائیلٹی) کے لئے کرتے ہیں۔افراء! ہم نے کبھی بھی آپ کے لئے آواز نہیں اٹھائی۔ ہم ہمیشہ انفرادی لالچ میں اپنے نمائندے منتخب کرتے رہے۔ ہم ذاتوں میں بٹ گئے اور جنگلات و زمین سے متعلق تنازعات ہماری بڑی سرگرمیاں رہیں۔ ہم روزانہ ہزاروں خرچ کرکے کورٹ کچہری کا چکر اس لیے لگاتے ہیں کہ ہمارا کسی بھائی سے زمین یا جنگلات کی تقسیم پر تنازعہ ہے۔ ہم میں سے کئی روزانہ کچہریوں میں ہمارے آبا و اجداد کے زمانے سے چلتے آئے مقدموں کے لئے مینگورہ جاتے ہیں لیکن کبھی کوئی درخواست لے کر ہم اپنے بچّوں کے مستقبل کے حوالے سے تعلیمی دفتر نہیں گئے۔ ہم راستوں کے استعمال پر تو آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی استاد اسکول میں اپنا فرض نہیں نبھاتا تو ہم اسے ‘عزیز ویلی ‘ (خاطرداری) سمجھ کر اس حرکت سے نظر کرتے ہیں۔

ہمارے عوامی نمائندے بھی افراء کے مجرم ہیں۔ افراء! الیکشن کے وقت وہ ہمیں مختلف طریقوں سے ورغلا کر ووٹ ڈلواتے ہیں اور پھر پارٹی بازی شروع کرتے ہیں۔ وہ آپ کو یکسر بھول جاتے ہیں اور بسا اوقات آپ کے دشمنوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کہیں سے کوئی دبی آواز بھی اٹھے تو اسے دبایا جاتا ہے۔ ان نمائندوں کا بڑا مقصد اگلے الیکشن کی تیاری بن جاتی اور اس کے لیے ایسے لوگوں کو نوازتے ہیں جو سادہ لوح ووٹروں کو ورغلانے میں مہارت رکھتے ہو۔

ہماری حکومتیں تو افراء کے دشمن ہیں۔

خیبر پختونخوا میں جب پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کے نعرے کے ساتھ زمام اختیار سنبھالا تو ہم جیسے بھولے بھالے لوگوں کو اس پر یقین آیا۔ ہم سمجھے کہ اب کے تبدیلی آ ہی گئی۔ اس حکومت نے شروع میں تعلیمی نظام کو اپنے طور پر بہتر کرنے کی سعی شروع کی۔ انہوں نے اسکولوں اور اساتذہ پر ایک جائزے اور معانئے (monitoring) کا نظام شروع کیا۔ یہ پروگرام بیرونی مالی امداد سے شروع ہوا۔ لیکن یہاں بھی صوبے کی افسر شاہی نے اپنی شاطر چال چلی۔ اس بھلے پروگرام کے رپورٹنگ نظام کو ایک مذاق بنا دیا۔ یہ معاینہ کار ان ہی لوگوں کو رپورٹ کرنے لگے جن کی نگرانی انہوں نے کرنی تھی۔ یوں یہ نظام اس سرخ فیتے کی بھینٹ چڑھ گیا جو ہمارے ملک میں گورننس (governance) کا خاصہ ہے۔ تدریس کے شعبے سے وابسطہ کسی کالی بھیڑ کے خلاف تادیبی کاروائی کو تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔ اس کی دیکھا دیکھی نگرانی کے اس نظام سے منسلک اہلکار بھی اس سرخ فیتے اور بدعنوانی میں جڑ گئے۔ وہ نگرانی کے لئے آنے سے پہلے اساتذہ میں موجود اپنے ‘دوستوں ‘ اور ‘چیہتوں ‘ کو خبر کرنے لگے تاکہ وہ نگرانی کے دن سکول میں حاضر ہوں اور ان کی رپورٹ میں خرابی نہ آئے۔ یوں اسکول اسی پرانی ڈگر پر چلنے لگے۔

ادھر حکومت دعوے کرتی رہی کہ وہ تبدیلی لے آئی ہے۔ لیکن ہر سال صوبے کے کئی محکموں کے لئے مختص بجٹ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ رکن صوبائی اسمبلی جعفر شاہ کے مطابق اس سال بھی صوبے میں مختص تعلیمی بجٹ کا تیس فیصد خرچ نہیں کیا گیا۔ حکومت اس بجٹ سے افراء کے علاقے اور اس جیسے دیگر علاقوں میں کیا مڈل اور ہائی سکولز نہیں بنا سکتی تھی؟ اسی طرح مذکورہ رکن کے مطابق حکومت نے صوبے میں قدرتی آفات اور دہشت گردی سے تباہ شدہ اسکولوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے مختص فنڈز میں سے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی۔

صوبے کے اقتدار میں شریک دونوں پارٹیوں کو اگر فکر ہے تو نصاب کی ہے۔ نصاب کو اپنی مرضی سے توڑتے مروڑتے رہتے ہیں، باقی کوئی ڈھنگ کا کام ان سے نہیں ہوتا۔

ایسے میں افراء کے لئے کسی روشن مستقبل کی کسی امید کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ہمیں بھی ایسا کوئی زعم اب نہیں رہا۔ ان صفحات کو پڑھنے میں آپ کا وقت اس لئے ضائع کرتے ہیں کہ افراء طعنہ دیتی ہے:

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟


Comments

FB Login Required - comments