فروغِ الحاد کا چیلنج


jamshed iqbal 2تاریخ ِ فلسفہ  کے طالب علم جانتے ہیں کہ   یقین کے موسموں کا اختتام ہمیشہ تشکک اور بے یقینی پر ہوا  ہے  ۔یقین کے  دور کے جوابات کا مقدر  سوال بن جانا ہے۔ مثال کے طور پر یونان میں ارسطاطالیسی عقل پرستی کا زور  رواقیت اور کلبیت پر  ٹوٹا ۔ اس کے بعد قرونِ وسطیٰ کا دورِ تیقن نشاۃ ثانیہ اور خرد افروزی کے پر ختم ہوا ، دورِ جدید کا آغاز ہوا اور  آج دورِ جدید کے اوہام کے خلاف بعد ازجدید فکر برسرِ پیکار ہے  اور ان  قضیات کے بخیے ادھیڑ دیے گئے ہیں جن پر فلسفہ جدید کی عمارت قائم تھی ۔

 بعض لوگ دور بعد از جدید کواظہار تلطف میں بعد از الحاد کا دور کہتے ہیں لیکن یہ تاثر غلط ہے ۔ معاصر تنقید نے روایتی سوچ کی بنیادوں پر ایسا وار کیا ہے  جیسا کوپر نیکس(1473-1543)   نے روایتی  ہیئت کے مرکزی تصورات  پر کیا تھا ۔ دورِ جدید میں روایتی فکر پر ہونے والی حالیہ تنقید  کہیں زیادہ کاری ہے۔ جس طرح    کوپر نیکس کے بعد ہم کائنات کو روایتی انداز میں نہیں دیکھ سکتے ؛ ویسے ہی بعد ازجدید فکر میں اٹھائے گئے سوالات کے بعد تاریخ اور مذہبی زبان کے مسئلے  کو روایتی   نظر سے  دیکھنا ناممکن ہوگیا ہے ۔

روایتی فکر پر بعد از جدید یت تنقید  اس مضمون کا موضوع نہیں ۔ زیر نظر تحریر کا مقصد ثاقب اکبر   کے مضمون ‘فروغِ الحاد ’ پر تاریخ فلسفہ   و مذہب سے اخذ ہونے والے درج بالا  اصول کی روشنی میں  بات کرنا ہے ۔وہ اصول یہ ہے کہ  بے  لچک   تیقن  کا اختتام ہمیشہ تشکیک  اور انکار پر ہوا ہے۔ تاریخ ِ فلسفہ سے کشید کردہ اس اصول سے روشنی میں دیکھا جائے  تو  ثابت ہوتا ہے   الحاد کی سب سے بڑی وجہ   قطعیت اور کٹرپن ہے جس پر مصنف ایک مذہبی عالم ہونے کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کرپائے۔

مصنف نے مغرب   میں مسیحیت کا حوالہ تو دیا لیکن  حالیہ  عمرانی تاریخ کا یہ نتیجہ بیان نہ کر پائے کہ مغرب میں   الحاد اُس وقت پھیلا جب گھر گھر  مذہب پھیلانے کی کوششیں تیز تر کردی گئیں  ۔   فکری تحاریک  کی تاریخ سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جب آپ ایک طرز کے نظریات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں  تو اس کے مخالف نظریات بھی اتنی تیزی سے پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں ۔پاکستان میں کروڑوں لوگ  گھر بار تیاگے  بوریا بستر اٹھائے  بے حیائی کے خلاف نکلے ہوئے ہیں لیکن  یہ وہ ملک ہے  جہاں  عریاں فلمیں دیکھنے والوں کی تعداد ہرسال بڑھ رہی  ہے۔جنہیں یہ واضح  بات سمجھ نہ آئے   انہیں عصری عمرانیات اور سماجی نفسیات  کا مطالعہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے ۔

  معاصر ماہر سماجی  نفسیات و عمرانیات  مائیکس ویبر (1864-1920)اپنی زندگی بھر کی تحقیق کی روشنی میں  بتاتے ہیں  کہ مغرب   میں جان کیلون (1509-1564) کے دور میں کلیسا کی جگہ بازار نے لے لی ۔ اس کی وجہ   جان  کیلون کی  مذہبی تعلیمات کا بے لچک ہونا  اور ہر ایک کو راسخ مسیحی بنانے کا  تبلیغی جنون تھا ۔ مذہبی تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں  کہ جان کیلون نے سولہویں صد ی میں اپنی بے لچک    تبلیغی  تعلیمات مغرب کے طول وعرض تک پہنچائیں  اور علم ِ معاشیات  کا جنم بھی  اسی دور میں ہوا ۔  کیلون کے   دور میں علم معاشیات کا جنم   کچھ عجیب سا لگتا ہے (کیونکہ مسیحیت  کے ہاں بازار کلیسا کی ضد ہے)   لیکن  اس سے یہ واضح ہوتا ہے  کہ جب آپ کسی ایک  شے کو  مصنوعی انداز میں تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی ضد کو اس سے زیادہ  تقویت دے رہے ہوتے ہیں ۔ جب کیلون کے خدائی فوجدار لوگوں کو ہانک ہانک کر کلیسا لے جانے کی کوشش کررہے  تھے  تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟   مائیکس ویبر لکھتا  ہے :

‘‘مسیحی  زاہدوں  نے جان کیلون کی تعلیمات کی ‘‘روشنی ” میں عبادت گاہوں کو خدا حافظ کہا اور وہ  بازار میں آگئے ’’۔

مائیکس ویبر  کے علاوہ فوکو یاما  اس سلسلے میں لا طینی امریکہ  کی مثالیں پیش کرتے ہیں   جہاں مذہبی جبریت اسی نوعیت کی  تبدیلی کا باعث بنی اور    معاشیاتی شماریات کے  ماہر  بریڈ فورڈ ڈی لانگ   1870 کی دہائی  میں کلیسا  سے لوگوں کی   بے رغبتی کی وجہ  مذہبی جبر کے نتیجے میں  لوگو ں میں ذاتی تحریک (self-motivation)   میں کمی بتاتے ہیں ۔

لہٰذا الحاد  میں اضافے پر غور کرنے کے لئے جن علمائے کرام کو ثاقب اکبر  دعوتِ فکر دے رہے ہیں  وہ اس بات پر غور کریں کہ جبر میں کمی اور ذاتی تحریک میں اضافہ کیسے ممکن ہے ۔

اس سلسلے میں وہ یہ  تازہ مثال   ذہن میں رکھیں کہ جب  مائیکروسافٹ جیسا دیوقامت ادارہ  انکارٹا نامی انسائیکلو پیڈیا تیار کررہا تھا تو بل گیٹز  کے وہم  وہ گمان میں نہیں تھا کہ  وکی پیڈیا  انسائیکلو پیڈیا  اس کے کروڑوں ڈالرز محض اس بنا پر ڈبو دے گا کہ  ثانی الذکر   مخزن کے  لئے لکھنے  والے جزا  کے شوق اور سزا کے  خوف سے نہیں  بلکہ  ذاتی تحریک   کی طاقت سے لکھیں گے ۔ اس مثال سے ایک بار پھر  یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز سکڑتی ہے جس میں ذاتی تحریک کی  جگہ جبر لے لیتا ہے ۔

قد آور فلسفی ، مثال کے طور پر رسل ، کہا کرتے تھے کہ  دنیا کے لئے سب سے بڑا مسئلہ  نا سمجھوں اور انتہا پسندوں  کا ضرورت سے زیادہ پُر اعتماد اور دانش مند وں کا  شکوک  میں مبتلا ہونا ہے۔ سنجیدہ مذہبی رہنماؤں کو اگر مذہب کی بقا کی فکر ہے تو انہیں  یہ انتظام کرنا ہوگا کہ  جنونی مذہب کے جتنے گن گائیں وہ  شکوک میں مبتلا دانش مند وں   سے قیادت  نہ ہتھیا پائیں  ۔  متشکک ہی سہی ، اگر ایک مذہب میں  دانش مند  لوگوں کی تعداد معقول   اور قیادت ان کے ہاتھ میں رہے  تو کٹرپن پیدا نہیں ہوتا  کیونکہ  تشکک  ہمیشہ بتاتا رہتا ہے کہ ایک کے علاوہ متبادل زاویے   اور جوابات موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مفکرین لاکھ اختلافات  کے باوجود ایک دُوسرے کو قتل نہیں کرتے  کیونکہ ہر مفکر  ، جزوی طور پر ہی سہی ،  کہیں نہ کہیں شکوک کا شکار ضرور ہوتا ہے  اور یہی شک اُسے تحقیق و تفکر پر اکساتا ہے ۔

اس کے برعکس اگر مذہب  اگر بے لچک انتہا پسندوں کی جاگیر  بن جائے  تو اس کے زوال کا سفر شروع ہوجاتا ہے  کیونکہ وہ لوگ اس سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں جن کی توانائیاں  بازؤں اور ٹانگوں کی بجائے دماغ کا رخ کرتی ہیں ۔ پھر ان نظریات کا تحفظ کرنے والے وہی لوگ بچتے ہیں جوہاتھا پائی، دشنام گوئی  اور جدال و قتال  میں تو  مشاق ہوتے ہیں لیکن علمی و  فکری میدانوں میں اس کا دفاع نہیں کرسکتے  ۔احساسِ شکست انہیں   ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتا  ہے ۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ   نظریات کا دفاغ  اگر کیا بھی جاسکتا ہے تو   ہتھیاروں  سے ہرگز نہیں۔ اگر افکار کا خاتمہ ممکن  بھی ہے تو ہتھیاروں کی مدد سے نہیں ۔

 انتہا پسند  مذہب کے دفاع کے لئے ہتھیار اٹھاتا ہے ، قتل کرتا ہے لیکن اس میں  یہ بنیادی بات سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ  صرف  نظریے کے شائبے میں انسانوں  کا اور انسانوں کا قتل کرکے  اپنے مذہب کو اخلاقی ارتفاع سے محروم کررہا ہے  ۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ اخلاقی ارتفاع ہی مذہب کی شہ رگ ہے ۔  انتہا پسند  مذہب کا وہ نادان دوست ہے جو اس کی شہ رگ خود کاٹ دیتا ہے ۔

ایسے میں مذہب  کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ تشکک کے شکار دانش مندوں کی آواز وں پر   بھی سنجیدگی سے کان دھرے ، ان آوازوں کو ‘‘دائرے ’’ سے خارج نہ کرے اور اس آواز کی روشنی میں مذہب کے دامن میں وسعت  لائے ۔ فلسفہ و فکر کے طالب علم اس سے واقف ہونگے کہ   اگر سائنسی   اور خالص فکری نظریات کی بات کی جائے  تو ان میں جان بوجھ کر  شک کی گنجائش رکھی جاتی  ہے ۔ اختلاف  رحمت سمجھا جاتا ہے اور  شک کا اظہا ر کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے تاکہ  جمود و تعفن  کی عبرت ناک  موت سے بچا جاسکے۔

بعض مذہبی حضرات اپنے مذہب کے حق میں سائنسی دلائل یہ سوچ کر پیش کرتے ہیں سائنس حتمی علم ہے ۔ لیکن سائنس بھی مسلسل آگے بڑھنے کے لئے  تشکک  کی گنجائش رکھتی ہے ۔ مثال کے طور  پر نظری طبیعات میں لہر اور ذرے کی دُوئی (wave-particle dualism) پر آج بھی بات ہورہی ہے۔اس کے علاوہ سائنسی  نظریات پر عظیم سائنسی فلسفی  کارل پوپر (1902-94)  کے  اصول ِ تفریق (demarcationon principle) کا اطلاق ہوتا ہے ۔یعنی  گہری سے گہری  چھان پھٹک کے باوجود  صرف وہ نظریہ سائنسی کہلائے  کا جسے غلط ثابت کرنے کا امکان موجود ہو ۔ سائنس کو جب کہنہ نظریے سے بہتر نظریہ مل جاتا ہے تو سائنس دان پرانے نظریے کی موت پر ماتم نہیں کرتے  بلکہ جشن مناتے ہیں کہ    سائنس ایک قدم آگے نکل گئی ہے ۔ مذہب میں جس کی بات پسند نہ آئے اُسے فوراً دائرے سے باہر نکال دیا جاتا ہے لیکن سائنس میں اُسے بھی سائنس دان مانا جاتا ہے  جس کے نظریے کا ابطلال  ہوجائے ۔

  اس کے برعکس مذہب کے ساتھ  مسئلہ یہ ہے کہ یہاں  (یقین اور بے یقینی کے درمیان ) تشکک کے گرے ایریا کی  گنجائش  نہیں ہوتی ۔ جو کوئی فطری تجسس  کے ہاتھوں  مجبور  ہوکر شک کے ‘نوگو ایریا ’ میں جاتا ہے  تو اُسے   اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔ بڑھتے ہوئے الحاد پر  ماتم  کی بجائے اس سوال کا جواب تلاش کرنا بے حد ضروری ہے ۔

اہلِ مذہب کے لئے دُوسرا بڑا چیلنج یہ ہے کہ آج کا انسان زمین   پر  بیٹھ کر نہیں بلکہ  کائنات کے آخری سرے پر بیٹھ کر  زمین کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ  اُس کی کہکشاں میں اتنے نظام ہائے شمسی ہیں  جتنے زمین پر  ریت کے ذرات ۔  پھر کائنات میں اتنی ہی  کہکشائیں جتنے ہماری کہکشاں میں  نظام ہائے شمسی ۔ ایسے میں آپ اُسے ایسے نظام کا تصور کیسے دے سکتے ہیں جو اپنی پوری توجہ انسان کی  چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر جما کر بیٹھا ہے ؟

کیرن آرم   سٹرانگ خُدا کے  بارے میں بدلتے انسانی تصورات  کا احاطہ کرنے والی مشہور کتاب  ‘خُدا کی تاریخ’ میں   لکھتی ہیں  کہ لوگ   خُدا کے حوالے سے عملیت پسند (pragmatic ) واقع ہوئے   ہیں ۔ یعنی ہر دور میں انہیں خُدا کے کسی ورکنگ ماڈل کی ضرورت رہی ہے ۔ ایسا ماڈل جو رُوح عصر سے متصادم نہیں بلکہ   ہم آہنگ ہو ۔

موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے الحاد کی  بڑی  وجہ یہ بھی ہے جس کی طرف کیرن اشارہ کررہی ہیں  ۔درج بالا اسباق کے علاوہ  فکری تاریخ  سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ جو نظریہ یا تصور  روحِ عصر سے ہم آہنگ نہ ہو اجتماعی شعور اس کا   وہی حشر کرتا ہے  جو  سمندر مردہ مچھلی کا  کرتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “فروغِ الحاد کا چیلنج

  • 09-05-2016 at 5:01 pm
    Permalink

    A new perspective for me, very well reasoned

  • 09-05-2016 at 5:59 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔ تاہم مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ الحاد کے فروغ کو ایک منفی روایت کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے۔ ایک نظریہ اگر مضبوط ہے تو وہ اپنی جگہ بنا لے گا ۔ اگر کمزور ہے تو اپنی موت مر جائے گا۔

  • 09-05-2016 at 8:52 pm
    Permalink

    جن لوگوں اور جن نظریت کو عام طور پر ہمارے ہاں ملحدانہ قرار دیا جاتا ہے ان میں سے اکثر آخری تجزیے میں توحید پرستوں سے زیادہ موحد نکلتے ہیں ،،،، ملحد کا لیبل ایک بجائے خود ایک تعصب کی نشاندہی کرتا ہے حتیٰ کے مذاھب کے بنیادی ماخذ بھی اس ٹرم سے تقریبا خالی ہیں، اور مزاھب ابراھیمی تو شرک سے منع کرتے ہیں ، الحاد پر بات نہیں کرتے ،،، ہمارے ہاں شرک و الحاد کو اکثر ھم معنی سمجھ لیا گیا

  • 09-05-2016 at 11:54 pm
    Permalink

    Salman Sahab ke bat main bahut wazan hay

  • 11-05-2016 at 4:18 pm
    Permalink

    اس کالم کا ابتدایہ خاصا ثقیل ہونے کی وجہ سے سمجھنے کےلئے وقت درکار ہے۔مجموعی طورپر اس کالم میں اہل مذہب کے جن منفی رویوں کی نشاندی کی گئی ہے اس سےانکار ممکن نہیں ہے۔ ناچیز کی اپنی رائے میں ہر چیز میں الحاد ڈھونڈنے کے بجائے توحید ڈھونڈا جائے تو بہت سارئے مسائل حل ہوسکتے ہیں کیونکہ قرآن کے بقول ہر چیز میں اللہ کی نشانیاں ہیں تو پھر ہر چیز میں الحاد کہاں سے آتی ہے اس سوال کے جواب کا انتظار رہے گا۔

Comments are closed.