نواز شریف اب سیاسی بھوت بن کر ڈراتا رہے گا


الیکشن سر پر ہیں کمپین ماٹھی ہے اور سیاست ٹھنڈی۔ نواز شریف گرفتاری دینے واپس لاہور آ رہے تھے۔ سیاست نے گرم اس کے بعد ہی ہونا تھا۔ ایسے میں سوچا کہ جائزہ قریب سے لیا جائے۔ پورے چار دن لاہور میں گزارے۔ وہ دن چڑھا جب نواز شریف نے واپس آنا تھا تو اسلام آباد پہنچ گیا۔ اب اسلام آباد دیکھنا تھا کہ یہاں کیا چل رہا۔

لاہور میں تیاریاں ہو رہی تھیں نواز شریف آئیں گے تو کیا کرنا ہے۔ یہاں اک مزے کی بات جان لیں وہ جنہیں آج کل ہم محکمہ زراعت والے کہہ کر چھیڑتے ہیں نہ انہیں ان کے اپنے ساتھی چڑیا گھر والے کہتے ہیں۔ چڑیا گھر کو جب شیر کے ساتھ جوڑ کر پڑھیں گے تو خود ہی مسکرانے لگیں گے۔

جہاز کا رخ موڑ کر اسلام آباد لینڈ کروا کر وہاں مریم اور میاں صاحب کو گرفتار کرنا کوئی آپشن تھا ہی نہیں۔ اس کی وجہ ہوابازی کے عالمی معاہدے اور قوانین تھے۔ ایک بار طاہر القادری کے جہاز کا رخ موڑ کر بھولا سبق پڑھ لیا گیا تھا۔ اتنے جرمانے اور اتنے طعنے ملے تھے کہ اب کوئی ایسا سوچ بھی نہیں رہا تھا۔

ائیر پورٹ تک کتنے لوگ آئیں گے۔ یہ سوال تھا جس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش ہو رہی تھی۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ کیسے کرنا ہے؟ اس کی جزیات طے کی جا رہی تھیں۔
یہ سب تو ہو چکا، اس لیے تفصیلات اب غیر ضروری ہیں۔

مسلم لیگ نون کیا سوچ رہی تھی اس کی کچھ اہمیت البتہ اب بھی ہے۔ پارٹی کے پالیسی معاملات سے بہت متعلق لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم بس اپنے لیڈر کے لیے نکلیں گے باہر۔ ہمارا اتنا ہی مقصد ہے کہ جب وہ آئیں تو ہم روڈ پر ہوں۔ ہمیں پتہ ہے کہ نہ تو نواز شریف لاہور گھوم سکیں گے نہ ان کا ورکروں سے آمنا سامنا ہو گا، نہ ہی کسی خطاب کا امکان ہے۔

یہ لوگ بڑے کلیئر تھے کہ کچھ بھی ہو جائے ہم نے صورتحال کو تصادم کی جانب نہیں لے جانا۔ اپنی درجہ اول کی قیادت کو کم سے کم استعمال کرنا ہے۔ ان کو سامنے لانے سے بچنا ہے اور کارکنوں کے ساتھ مل کر ایک پاور شو کرنا ہے۔

مسلم لیگ والے بہت واضح تھے کہ الیکشن کے دنوں میں نہ تو وہ کوئی ایف آئی آر افورڈ کر سکتے ہیں نہ اپنے کارکنوں کی گرفتاری۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سارےجذبات غصے اور سزا کو بس ووٹ میں بدلنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ہمارا ووٹر کو باہر نکالنے والی مشین ہی ڈسٹرب ہو جائے یہ ہم نہیں چاہتے۔

اس پلان پر پوری طرح عمل ہوا۔ شہباز شریف نے ڈھیروں ڈھیر بدنامی کمائی۔ مسلم لیگی ورکر ان سے خاصا بدظن ہوا۔ وہ بعد میں وضاحتی پریس کانفرنسیں بھی کرتے رہے۔ ان کی متوقع لیڈر شپ کو اک مزید ڈینٹ پڑ گیا۔

یہاں اک مزید وضاحت بھی ضروری اور دلچسپ ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ کو نواز شریف کے بیانیے کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ فطری طور پر یہ مانا جا رہا کہ حمزہ اور شہباز شریف مخالف گروپ میں ہیں۔ ویسے تو شہباز شریف بھی نواز شریف کے منصوبوں پر ہی عمل کر رہے ہیں۔ لیکن یہ جاننا اہم ہے کہ اگر کوئی حقیقی فیصلہ کن لمحہ آیا تو حمزہ شہباز اپنے تایا اور مریم نواز کے ساتھ ہی کھڑے دکھائی دیں گے۔

نواز شریف اور مریم اب جیل پہنچ چکے ہیں تو ہم بھی اب اسلام آباد چلتے ہیں۔

اسلام آباد میں بہت سے پرائیویٹ گروپ الیکشن الیکشن کھیلتے ہیں۔ سارا سال الیکشن سیاست کو سائنسی بنیادوں پر مانیٹر کرتے رہتے ہیں۔ جب الیکشن قریب آتے ہیں تو پھر دیہاڑی لگاتے ہیں۔ اپنی پانچ سال کی محنت کو اچھی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ عیش کرتے ہیں اور پھر کام سے لگ جاتے ہیں۔ ایسے کام کے کچھ لوگوں کا نام دوستوں نے سافٹ وئر رکھا ہوا ہے۔

نواز شریف کے لینڈ کرنے سے ایک دن پہلے ہمارے سافٹ وئیر نے الیکشن نتیجہ جاری کیا۔ مسلم لیگ نون ستاسی پی ٹی آئی ایک کم ستر پی پی بتیس اور آزاد امیدوار بیس سیٹوں پر جیت رہے تھے۔ یہ دو سو نو سیٹیں ہیں جو سافٹ وئیر کے مطابق کلیئر ہیں۔ باقی پر مقابلہ ہو رہا۔ ایم ایم اے متحدہ اور اے این پی تقریبا چالیس سیٹ پر گھول کر رہی ہیں۔ ڈھائی سو سیٹ بنتی ہیں۔ پیچھے فاٹا کی کچھ سیٹیں اور چھوٹی پارٹیاں بچتی ہیں۔

سافٹ وئر کا یہ نتیجہ محکمہ زراعت والوں کو بھی پتہ ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں مجھے کیا پتہ۔ خود سوچیں نواز شریف کو اس لیے تھوڑی نکالا ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔ نیب کورٹ سے سزا اس لیے ہوئی ہے کہ ہائی کورٹ سے بری ہو جائیں۔ ہو بھی جائیں تو آگے سپریم کورٹ ہے۔ اپنا جواب ہے جناب توہین عدالت والی باتوں کا سوچ کر بھی ٹانگیں کانپتی ہیں۔ بس اتنے لکھے کو ہی کافی سمجھیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ کرنے والوں نے اس لیے نہیں کیا کہ نون لیگ پھر آ جائے۔ اس لیے لیڈر کیا ڈبے بھی اٹھانے پڑیں تو اٹھائیں گے کہ پھر یہ سب کرنے کا فائدہ۔ یہ میں کوئی حتمی منصوبہ نہیں بتا رہا یہ بتانے کی کوشش کر رہا کہ واپس نون کو ہی لانا ہے تو یہ سب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

اپنے سافٹ وئیر کو آدھی رات چھیڑا تھا۔ وہ بیٹھے حساب لگا رہے تھے۔ ان کہا کہنا ہے کہ ایک بہت بڑا شفٹ آیا ہے نواز شریف کی لینڈنگ کے بعد اسے کیلکیولیٹ کر رہے ہیں۔ یہ حساب کتاب کر لیں تو آپ کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ بیچارے بڑی محنت کر رہے پولنگ سٹیشن کے لیول پر صورتحال چیک کر رہے ہیں۔

الیکشن کور کرنے کے لیے پاکستان میں انٹرنیشنل آبزرور بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ دو دن پہلے یہ اپنے کام کا آغاز کر چکے ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں خود بھی ان ٹیموں کے ساتھ بطور آبزرور کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اب تک جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق اس بار الیکشن ڈے پر معاملات بہت بہتر ہوں گے۔ دھاندلی کے امکانات کافی کم ہوں گے۔ نتائج کی ترسیل اور نشر کرنے کا نظام بہت بہتر کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں سفارتی حلقوں میں پاکستانی حالات پر گلاسی گپ چلتی رہتی ہے۔ یہ گپ آج کل بالکل اچھی نہیں ہے۔ اس گپ شپ میں شامل ہونے والوں اور اس سے آگاہ رہنے والے لوگ اچھی باتیں نہیں کر رہے۔ وہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے حالات اگلے ڈیڑھ دو سال غیر مستحکم رہیں گے۔ اس الیکشن کے بعد پھر الیکشن ہوں گے۔ کسی صورت نون لیگ کو سیٹیں نہیں لینے دی جائیں گی۔

نام لے لے کر بتایا جا رہا ہے کہ کہاں کہاں الیکشن ڈے پر دنگے ہوں گے۔ کون کون ان میں متوقع طور پر شامل ہو گا۔ الیکشن پراسیس کی کریڈبلٹی خراب ہوتی جا رہی ہے۔ نون لیگ پی پی اور باقی پارٹیاں کم سیٹ ملنے پر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گی۔

اک بارلے ( باہر والا، غیر ملکی ) سے دلچسپ تبصرہ سننے کو ملا۔ اس کا کہنا تھا کہ نواز حکومت کا گلا تو دبا دیا گیا۔ اس کی حکومت کی جان نکال دی گئی۔ مار پھر بھی نہیں سکے اس کا سیاسی بھوت بنا بیٹھے ہیں۔ یہ بھوت اب ان سب کو چمٹنے آ گیا ہے۔ انہیں ڈراتا رہے گا دوڑاتا رہے گا۔ بھوت کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ اسے دوبارہ سے مارا بھی نہیں جا سکتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 321 posts and counting.See all posts by wisi