نواز شریف پر جہاز میں کیا گزری؟


ہمارے پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈز ابوظہبی پروٹوکول والے نے سنبھال رکھے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں مسافروں کی گنجائش رکھنے والے اس وسیع و عریض فرسٹ کلاس لاؤنج میں ہم پانچ چھ افراد کے سوا کوئی بھی نہ تھا۔ ایک دو ویٹرز تھے یا دور ایک کونے میں بیٹھے سکیورٹی کے دو باوردی ارکان۔ سفید عباؤں والے پروٹوکول افسران گاہے گاہے آتے اور ایک طائرانہ سا جائزہ لے کر چلے جاتے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد ہم سب نے ایک ہی میز پر دوپہر کا مختصر سا کھانا کھایا۔

عین اسی دوران یہ خبر سوشل میڈیا یا شاید کچھ پاکستانی چینلز کی زینت بنی کہ میاں صاحب اس وقت ابوظہبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زید النیہان کے محل میں ہیں اور خصوصی نوعیت کے کچھ مذاکرات ہورہے ہیں جس میں بعض پاکستانی حکام بھی شریک ہیں۔ پھر خبر آئی کہ فلائٹ ایک منصوبے کے تحت تاخیر کا شکار ہورہی ہے اور ہمیں اس وقت پرواز کی اجازت ملے گی جب پاکستان سے اوکے کا سگنل ملے گا اور اندازہ ہے کہ ہماری پرواز صبح دو یا تین بجے لاہور پہنچے گی۔ یہ افواہیں، مستند خبروں کا سا بھیس بنائے کبھی میرے، کبھی مریم اور کبھی رمیزہ کے فون پر آرہی تھیں۔

پھر معلوم ہوا کہ جہاز میں بڑی تعداد میں کچھ مشکوک افراد سوار ہونے کو ہیں جو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ورکرز ہیں اور بڑی بدمزگی کا خطرہ ہے۔ میاں صاحب ان افواہوں سے بے نیاز لندن اپنے بچوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے حسن سے کہا کہ ”تم اور حسین مل کر اپنی والدہ کی نگہداشت کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرلو۔ وہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود رہے اور جو وظیفہ ہم لوگ گھر میں پڑھتے تھے، اسے جاری رکھنا۔ میں اس وظیفے کے بڑے اچھے اثرات دیکھ رہا ہوں“۔

پھر انہوں نے اپنے نواسے جنید اور پوتے حمزہ سے بات کی۔ انہیں تلقین کی کہ گھر کے باہر گالی گلوچ اور بدتمیزی کرنے والے لوگوں سے مت الجھو۔ مریم نے حسین سے امی کا پوچھا۔ پھر کہا اللہ کرے وہ جلد ہوش میں آجائیں لیکن حسین بھائی انہیں بالکل نہ بتانا کہ میں اور ابو جیل میں ہیں۔ باقی سب کو بھی سمجھا دو۔ انہیں بالکل پتہ نہ چلے۔ کہنا کہ بس جلد آنے والے ہیں۔ میں نے کہا کہ ”مریم تمہیں کوئی نہیں ڈالے گا اڈیالہ یا کسی بھی جیل میں، تمہیں کسی ریسٹ ہاؤس میں لے جائیں گے اور ممکن ہے گھر ہی کو سب جیل قرار دے ڈالیں“۔ وہ ایک لمحے کا توقفکیے بغیر بولی ”یہ کیا ہوا انکل؟ اگر ابو جیل میں ہیں تو میں بھی جیل میں رہوں گی۔ اڈیالہ ہو یا کوئی اور جیل۔ میں ایک دن بھی کسی ریسٹ ہاؤس نہیں جاؤں گی“۔

سفید عبا پوش پروٹوکول والے ہمارے پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ تھامے آگئے۔ چلنے کا اشارہ کیا۔ ہم سب ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گیٹ 51 کو پہنچے۔ اس وقت ایک اور افواہ ہم سب کے ذہنوں میں کلبلا رہی تھی کہ ہمیں عام مسافروں کی پرواز میں نہیں لایا جارہا، کسی خصوصی چھوٹے طیارے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ لیکن ایسا نہ تھا۔ یہ وہی پرواز EY243 تھی۔ تمام مسافر پہلے ہی اپنی نشستوں تک پہنچائے جا چکے تھے۔ اب کے ہمارے ساتھ سفید پوشوں کے ساتھ ساتھ کوئی درجن بھر باوردی پولیس کے افسر اور سپاہی بھی تھے۔ یہ سارا قافلہ ہمیں جلو میں لئے جہاز کے اندر تک گیا۔

جونہی ہم ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر بزنس کلاس کے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے، ایک بپھری ہوئی لہر سی اٹھی، صحافی تیزی سے لپکے، کیمروں کی لائٹس آن ہوئیں، موبائل فون حرکت میں آئے اور سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ میاں صاحب وہیں کھڑے کھڑے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے لگے۔ سکیورٹی اور پروٹوکول کے لوگ جا چکے تھے۔ طیارے کا سٹاف ہکابکا یہ سب کچھ دیکھے جارہا تھا اور پریشان تھا۔ سات آٹھ منٹ نواز شریف اور مریم وہاں سے حرکت نہ کرسکے۔

میرے ہاتھ میں 11۔ F سیٹ کا بورڈنگ کارڈ تھا جو بزنس کلب کے پہلے کمپارٹمنٹ کی آخری قطار میں تھی۔ ساتھ والی نشست مریم کی تھی۔ میاں صاحب اس سے آگے کی نشست پر تھے۔ میں نے انہیں اپنی سیٹ پیش کردی تاکہ وہ اور مریم اکٹھے بیٹھ سکیں۔ میں ان کی سیٹ پر چلا گیا۔ ذرا دیر بعد ہی صحافی ایک بار پھر امڈ پڑے۔ عام مسافروں نے بھی فون سنبھالے اور تصویریں بنانے اور بنوانے لگ گئے۔ کوئی آدھ گھنٹہ بعد نیب ریفرنسز میں میاں صاحب کے وکیل خواجہ حارث پچھلی نشست سے اٹھ کر آئے۔ مریم نے انہیں اپنی نشست پیش کردی اور خود آگے ایک خالی سیٹ پر جا بیٹھیں۔ میاں صاحب اور خواجہ حارث احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کے حوالے سے مشاورت میں مصروف ہوئے تو مریم صحافیوں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عرفان صدیقی کی دیگر تحریریں
عرفان صدیقی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں