مریم نواز کا طلوع: خورشید ندیم کا ناقابلِ اشاعت قرار پایا کالم


مریم نواز اب لیڈر ہیں۔ یہ ایک باپ کی خواہش کا اظہار نہیں، تاریخ کا فیصلہ ہے۔
جمعہ کی سہ پہرچار بجے، یہ سطور لکھی جا رہی ہیں۔ ٹیلی وژن کی سکرین متحرک ہے اور بتا رہی ہے کہ کیا حکومت اور کیا عوام، پورا پنجاب بھی متحرک ہے۔ تھوڑی دیر پہلے بتایا گیا کہ سعد رفیق، ان کا بھائی اور کئی دوسرے راہنما نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی آئی جی پنجاب کا بیان بھی نشر ہو رہا ہے کہ کسی سیاسی کارکن کو نہیں، صرف شر پسندوں کو پکڑا گیا ہے۔ گویا سعد رفیق سیاسی کارکن نہیں، کوئی شر پسند ہے۔ ہر شہر سے قافلے، رکاوٹیں عبور کرتے، لاہور کے لیے رواں دواں ہیں۔ پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں بیداری کی یہ لہر مریم نواز کی قیادت پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے۔ یہ مزاحمتی تحریک کابا ضابطہ آغاز ہے۔

جمہوریت میں موروثی سیاست نہیں چل سکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو بھٹو کے جانشین مرتضیٰ ہوتے بے نظیر نہیں۔ مونس الہیٰ آج چوہدری پرویز الہیٰ کی گدی پر بیٹھے ہوتے۔ والدین کی خواہش اپنی جگہ مگر لیڈر وہی بنتا ہے جو خود کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے عصبیت منتقل ہو۔ ایک وقت آیا جب نصرت بھٹو صاحبہ نے اپنا وزن مرتضیٰ کے پلڑے میں ڈال دیا۔ سیاسی عصبیت مگر بے نظیر ہی کو ملی۔ والدہ کی خواہش کچھ نہ کر سکی۔

یقیناً نوازشریف چاہتے تھے کہ مریم ان کی جانشین بنیں۔ انہوں نے اس کی کوشش بھی کی۔ مریم کو یوتھ پروگرام کا نگران بنا دیا گیا۔ ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں یہ منصب چھوڑنا پڑا۔ درست طریقہ یہی ہوسکتا تھا کہ انہیں مسلم لیگ کی تنظیم میں متحرک کیا جاتا۔ وہ اپنی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کرتیں اورفطری طریقے سے مرکزی قیادت تک پہنچتیں۔ اگر سیاست اپنے فطری ڈگر پر چلتی رہتی تو مریم کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی تاریخ سامنے رہے تو پہلی رکاوٹ انکل ہوتے۔

سیاست کو مگر یہاں کون فطری راستے پر چلنے دیتاہے۔ مسلم لیگ اور شریف خاندان ایک آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ یہ قائدانہ صلاحیت کا امتحان تھا۔ ایسے موقع پر جرات اور بصیرت کی ضرورت تھی۔ انکل مصالحت کے علم بردار بن کر کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا: سڑکوں پہ نکلنے کی کیا ضرورت ہے؟ کوئی بولا: ریاستی اداروں سے بگاڑنا نہیں چاہیے۔ سب کمین گاہوں میں بیٹھ کر معرکہ سر کرنا چاہتے تھے۔ جوڑ توڑ، ڈرائینگ روم کی سیاست۔ جرات کا مظاہرہ کسی انکل نے نہیں کیا۔ ایسے میں یہ پرویز رشید تھے یا پھر مریم نواز جنہوں نے میدان میں اترنے کی بات کی۔

حالات نے جس جرات کا تقاضا کیا، اس کا اظہار مریم نواز نے کیا۔ انہوں نے باپ کے قدم سے قدم ملایا۔ مشکل میں نوازشریف کی طاقت بن گئیں۔ عشق کی ایک جست نے قصہ تمام کر دیا۔ ان حالات میں قیادت کا ہما کسی اورسرپر بیٹھ ہی نہیں سکتا تھا۔ عوام لیڈر اسی کو مانتے ہیں جو بہادرہو۔ مصلحت بین کم ہی عوامی نظروں میں جچتا ہے۔ عوام نے دل کے دروازے ان کے لیے وا کر دیے۔ اگر آج وہ لیڈر ہیں تو یہ محض نوازشریف کی خواہش کی وجہ سے نہیں ہیں۔ یہ تاریخ اور اس ملک کے عوام کا فیصلہ بھی ہے۔

ہمیں ابھی اس وقت کا انتظا رہے جب سیاسی جماعتیں اتنی مستحکم ہو جائیں کہ قیادت جمہوری طریقے سے سامنے آئے۔ نوازشریف سمیت تمام روایتی سیاست دانوں نے اپنی جماعت کو مستحکم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس وقت کسی بڑی سیاسی جماعت نے وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جس سے قیادت کسی ضابطے کے تحت سامنے آئے۔ جہاں موروثیت ہے وہاں اس کا بات کا امکان مو جود ہے کہ جماعت قائم رہے۔ جہاں یہ نہیں ہے، وہاں سیاسی جماعت کا کوئی مستقبل نہیں۔ عمران خان کا کوئی وارث سیاست میں نہیں۔ اس لیے ان کے بعد پارٹی کا بھی کوئی مستقبل نہیں۔ کیا اس جماعت میں کوئی ایک ایسی شخصیت موجود ہے جسے عمران کے بعد لوگ اپنا راہنما مان لیں؟ یہ جماعتیں نہیں، پرستاروں کے کلب ہیں۔

سیاست ہماری خواہشات کے نہیں، زمینی حقائق کے تابع ہوتی ہے۔ چاہتا میں بھی یہی ہوں کہ سیاست میں موروثیت نہ ہو مگر سیاسی عصبیت کسے ملتی ہے، اس کا انحصارسیاسی اور سماجی عوامل پر ہو تا ہے۔ یہ عوامل کسی کی خواہش کے تابع نہیں۔ بے نظیر کی سیاست اگر بلاول کو منتقل ہوگئی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ موروثی سیاست کی مخالفت کرنے سے کیا حقیقت بدل جا ئے گی؟
ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ موروثیت میں صرف اقتدار منتقل نہیں ہوتا، سیاست منتقل ہوتی اور اس میں لازم نہیں کہ ہمیشہ سکون ہی ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جو سیاست بے نظیر کو منتقل ہوئی، اس کا آغاز جیل سے ہوا اور انجام مقتل میں۔ نوازشریف صاحب نے شاید یہ چاہا ہو کہ وہ وزارتِ عظمیٰ مریم کو منتقل کریں گے۔ تاریخ کا فیصلہ ان سے مختلف تھا اور وہی نافذ ہوا۔ تاریخ نے باپ کی مشکلات مریم کو منتقل کیں۔ اس فیصلے کے تحت مریم کا سیاسی سفر جیل سے شروع ہو ہو رہا ہے۔ یہ تاریخ کا جبر ہے جس کے سامنے سب بے بس ہیں۔

نون لیگ کے لیے نیک شگون ہے کہ شہبازشریف صاحب کو نوازشریف کا بیانیہ سمجھ آگیا ہے۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اس وقت نون لیگ کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ مجھے ان لوگوں پر حیرت ہے جو اس مرحلے پر نوازشریف کو مصالحت کا پیغامات بھیج رہے ہیں۔ اس وقت کی مصالحت نوازشریف کے کس کام کی؟ اگر ایسی کسی پیشکش میں ان کے لیے کوئی کشش ہوسکتی تھی تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہو سکتی تھی۔ اب توان کے لیے مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

ریاست المعروف نگران حکومت نے جمعے کو حکمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ایک سیاسی عمل کا راستہ روک کر اپنی جانب داری پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اب واضح ہو گیا ہے کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بن کر عسکری صاحب نے اپنی عزت میں اضافہ نہیں کیا۔ اب توب چشم ِ سر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک جماعت کے لیے فضا کو ممکن حد تک سازگار اور نون لیگ کے لیے ہر ممکن حد تک غیر سازگار بنا یا جا رہا ہے۔ سیاسی حرکیات مگر کسی انسان کی حکمتِ عملی کے تابع نہیں۔ ان کی چال اپنی ہوتی ہے۔

جمعہ کو پاکستان کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ نون لیگ نے جس طرح مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے، یہ حیرت انگیز ہے۔ مسلم لیگ کو نواز شریف صاحب نے جس طرح نظر انداز کیا، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے۔ اس کے باوجود عام لوگوں نے جس والہانہ وابستگی کا اظہار کیا، وہ نئے سیاسی امکانات کوظاہر کر رہا ہے۔ اب سیاست عملاً نئے دور میں داخل ہو چکی۔ مسلم لیگ کو اب انتخابی قوت کے ساتھ ساتھ، مزاحمتی قوت کے طور پر بھی ابھرنا ہے۔

میرا خیال ہے کہ دوسری سیاسی جماعتیں، وقت کے قافلے سے بچھڑ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنا وزن عوامی حاکمیت کے پلڑے میں نہیں ڈالا۔ جمہوری قافلے کی قیادت اب مسلم لیگ کے ہاتھ میں ہے۔ تحریکِ انصاف سے مجھے اِس وقت زیادہ امید نہیں۔ وہ آج نوازشریف صاحب سے اندھی نفرت میں مبتلا لوگوں کا گروہ ہے جس کے سامنے کوئی مثبت پروگرام نہیں۔ ان پر حقیقی منظر نامہ انتخابات کے بعد واضح ہو گا۔ پیپلزپارٹی پر البتہ افسوس ہوتا ہے۔ وہ نہ انتخابی قوت بن سکی نہ مزاحمتی۔

بدلتی سیاسی حرکیات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب مسلم لیگ کی قیادت مریم نواز کے پاس ہے۔ یہ موروثیت کا نتیجہ نہیں، تاریخ کا فیصہ ہے۔ تاریخ کے باب میں اللہ کی ایک سنت ہے جس کا سب پر یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ وقت آیا تو انہوں نے خود کو قیادت کا مستحق ثابت کیا۔ جرات قیادت کی پہلی نشانی ہے۔ باقی صلاحیتیں کا ذکر اس کے بعد ہوتا ہے۔ مسلم لیگ کی سیاست اب انکلز کے ہاتھوں سے نکل چکی جس طرح پیپلزپارٹی کی قیادت۔ بے نظیر بھٹو کی آمد کے بعد، انکلز کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ آج مریم کہنا چاہیں تو سر بلند کر کے کہہ سکتی ہیں:روک سکو تو روک لو!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں