لیہ میں انصافی امیدوار ایک دوسرے کے خلاف مہم چلارہے ہیں؟



لیہ کی سیاست میں یوں بھونچال آچکاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر مخالفین کیخلاف الیکشن مہم چلانے کی بجائے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن چلانے میں مصروف ہوگئے ہیں۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ حلقہ این اے 187 میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر مجید خان نیازی نے عوا م میں جاکر حلقہ این اے 188 کے پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈ ر ملک احمد نیاز احمد جھکڑ اور ملک غلام حیدر تھند جن کی زوجہ سعیدہ تھند جو کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑرہی ہیں، ان کے بارے میں وہ الفاظ استعمال کیے ہیں جوکہ اس بات کی نشاہدہی کرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا فیصلہ درست نہیں ہے اور یہ ٹکٹ ہولڈر اس قابل نہیں تھے کہ ان کو پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ دیاجاتا۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ملک نیاز احمد جھکڑ نے بھی پارٹی پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے حلقہ میں اپنی کامیابی کی آخری کوشش کے طورپر ایک آزاد امیدوار رفاقت گیلانی کی حمایت کررہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار سعیدہ تھند کی مخالفت کررہے ہیں۔اس صورتحال میں جوابا اپنی زوجہ سعیدہ تھند کی مخالفت پر غلام حیدر تھند جوکہ رکن قومی وصوبائی اسمبلی کے علاوہ ضلع ناظم بھی رہ چکے ہیں ،وہ نیاز جھکڑ کی مخالفت کررہے ہیں۔

تحریک انصاف کی لیہ سیاست میں بڑی مشکل یوں بھی ہے کہ حلقہ این اے 187 میں بہادر خان سہیٹر اور مجید خان نیازی جوکہ دونوں ٹکٹوں کی تقسیم کے آخری مرحلہ تک تحریک انصاف میں تھے لیکن جونہی بہادر خان سہیٹر کی بجائے مجید خان نیازی کو ٹکٹ جاری کیا گیا ،بہادرخان نے پارٹی فیصلہ تسلیم نہ کرتے ہوئے مجید خان نیازی کے مقابلے میں آنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس طرح تحریک انصاف کیلئے یوں اپ سیٹ کا امکان بڑھ گیاہے کہ نیازی اور سہیٹر دونوں ایک دوسرے کے ووٹ کاٹ رہے ہیں۔ بہادر خان سیاست میں خاص پہچان یوں رکھتے ہیں کہ سہیٹر فیملی بڑی دیر سیاست میں ہے اور ان کے بڑے پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی بنتے رہے ہیں ۔ اسی طرح بہادر خان خود بھی دوبار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے علاوہ وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں ۔ادھر تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر مجید خان نیازی رکن صوبائی اسمبلی کے علاوہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر خاصے متحرک تھے۔ ان کا بڑا طرہ امیتاز یہ ہے کہ موصوف غریب بچیوں کی شادیاں کروانے میں شہرت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اس حلقہ میں ٹکٹ کا ایشو معاملہ بہادر خان اور مجید خان میں خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کی بجائے پارٹی کے اندرونی اختلافات کے سامنے ہتھیار ڈال کر اس حلقہ کی سیٹ کو مشکل میں ڈال دیاہے۔

تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر مجید خان نیازی اور آزاد امیدوار بہادر خان سہیٹر کے مقابلے میں نواز لیگی امیدوار صاحبزادہ فیض الحسن ہیں جوکہ ایک سے زیادہ بارقومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے علاوہ سیاسی میدان میں متحرک ہیں۔ مجید نیازی اور بہادر سہیٹر کے درمیان جاری کشمکش نے صاحبزادہ فیض الحسن کو مقامی سیاست میں فائدہ ضروردیاہے ۔ بہادر خان سہیٹر نے تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ کے معاملے پر اختلاف کے بعد مقامی سیاست میں ایک بڑی انٹری یوں ڈالی ہے کہ رائے عباس بھٹی جوکہ اپنے فرزند صفدر بھٹی کو ایک بار پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی بنواچکے ہیں اورانکی بڑی دیر سے سہیٹر خاندان کے ساتھ دشمنی چلی آرہی تھی، ان کے ساتھ صلح کرلی ہے ۔اسی طرح ان کے صوبائی اسمبلی کے فرزندامیدوار کو اپنے کزن شہباب الدین سہیٹر کے حق میں دستبرار کروا لیا ہے۔ اس سیاسی جوڑ توڑ سے سہیٹر فیملی نے مجید نیازی کوالیکشن میں بھرپور مقابلہ کرنے کا پیغام دیاہے۔ لیہ کے حلقہ این اے 187 میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نیاز احمد جھکڑ کا مقابلہ پیر جگی کے گدی جانشین اور نوازلیگی امیدوار سید ثقلین بخاری کیساتھ ہے ،لیگی امیدوار بخاری پچھلے دوالیکشن 2008 اور 2013 میں ملک نیاز جھکڑ کو مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر امیدوار ہونے کے باوجود شکت دے چکاہے ۔اس باربھی ثقلین بخاری اپنے تئیں حلقہ میں خاصا متحرک تھا لیکن لیگی قیادت کیخلاف پانامہ کاروائی کے علاوہ گنا ،گندم اور دیگر زراعت دشمن پالیسوں نے سید ثقلین بخاری کو مشکل سے دو چار کر دیا تھا کیوں کہ زراعت پیشہ افراد کی طرف سے موصوف کو خاصا ردعمل کا سامناتھا ۔اور اس صورتحال کا توڑ پیرجگی کے گدی نشین ثقلین بخاری نے نکالا کہ جب شہبازشریف نے بحیثیت وزیراعلی لیہ کا آخری دورہ کیا تو موصوف نے شہبازشریف کو ملنے سے انکار کردیاتھا۔ لیہ انتظامیہ انہیں منتیں کرتی رہی تھی لیکن بخاری نے نہ ملنا تھا اور نہ ملا۔ بعدازاں پیرجگی کے گدی نشین کو پارٹی میں رکھنے کیلئے نوازشریف کا چینل استعمال کیاگیا اور بخاری نے پارٹی کا ٹکٹ لینے کی حامی بھری لی تھی۔

حلقہ این اے 187 میں الیکشن خاص کاٹنے دار یوں رہے گا کہ ایک طرف ملک نیاز جھکڑ نے اپنی پوری کوشش کرنی ہے کہ وہ ہار کی ہیٹرک مکمل کرنے کی بجائے جیت کر لیگی امیدوار سید ثقلین بخاری کیساتھ حساب برابر کرسکیں جبکہ ثقلین بخاری چوہدری اصغر گجر کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کرکے جیت اپنے نام کرناچاہتے ہیں۔ میرا تبصرہ لیہ کی سیاست پر یوں ہے کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈروں کو مخالف امیدواروں سے زیادہ پارٹی کے پارٹی کے امیدواروں سے ہے جوکہ ایکدوسرے کیخلاف صف آراء ہیں اور اپ سیٹ ہوسکتاہے مطلب تحریک انصاف نشتیں ہارسکتی ہے ۔ لیہ کی سیاست میں ایک انہونی یوں بھی ہوئی ہے کہ احمد علی والکھ جوکہ نوازشریف کے بڑی دیر سے قریبی تھے ،اس بات کو نوازلیگی قیادت نے اسوقت بھی ثابت کیاجب احمد علی اولکھ کو شہبازشریف کابینہ میں ایک نہیں سات وزراتوں سے نوازاگیا ،اس صلہ کا جواب احمد علی اولکھ نے لیگی برادران کو 2013 کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی اپنی سیٹ بھی ہارکردیاتھا ۔ اولکھ کی اس کارکردگی کے باوجود بھی شریف برادران نے احمد علی اولکھ کو نوازنے سے پیچھے نہیں ہٹے ،بلدیاتی الیکشن میں لیگی رکن قومی اسمبلی سید ثقلین بخاری اور صاحبزادہ فیض الحسن کے ضلعی چیرمین کیلئے امیدواروں کو نظرانداز کرکے احمد علی اولکھ کے بھائی عمراولکھ کو ضلع ناظم بنوادیا۔ یوں پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی لیکن شریف برادران کو اس بات کی پرواہ کہاں تھی ۔ادھر احمد علی اولکھ کے بھائی نے لیہ میں شریف برادران کے ایجنڈے کو یوں کامیابی سے آگے بڑھایا کہ ضلع کونسل لیہ کے 54 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بجائے خزانہ میں رہنے کو ہی ترجیج دی ،اس پر اولکھ مخالفین کا کہناہے کہ کمیشن کا ایشو تھا ۔اب دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ احمد علی اولکھ جس کو شریف برادران نے سات وزراتوں کے علاوہ بھائی کو ضلع ناظم شپ دی تھی ،موصوف بالٹی کے نشان پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔رہے نام اﷲ کا۔

لیہ میں ایک اور لاڈلہ شریف برادران کا اعجاز اچلانہ تھا ،جو ایم پی اے بننے کے بعد مخالفین پر جھوٹے مقدمات کے علاوہ اساتذہ کے تبادلوں اور انتقامی کارروائیوں میں شہرت رکھتاتھا ،اس کو پارلیمانی سیکرٹری داخلہ بنادیا پھر تو سونے پر سہاگہ یوں ہوا کہ موصوف نے انی مچادی ۔اس دوران وزیرداخلہ شجاع خانزادہ کی شہادت ہوئی تو اعجاز اچلانہ میڈیا کا سامنا کرنے کی بجائے چھپ گیا لیکن شریف برادران نے اس کی پشت پناہی جاری رکھی ۔ادھر چھوٹو گینگ کا معاملہ ابھرا تو موصوف کا یہی طریقہ واردات تھا۔ قصہ یہاں پرتمام نہیں ہوتا ہے بلکہ جائیداد اور دیگر غیر قانونی معاملات پر نیب بھی ان کے پیچھے لگ چکی ہے لیکن موصوف اپنی کارروائیوں میں مصروف ہے ۔ اب سابق وزیر اعجاز اچلانہ کی ایک تازہ ترین ویڈیو جو کہ الیکشن مہم کے دوران ریکارڈ ہوئی،اس میں موصوف ایک استاد کے گھر جاکر ووٹ سے انکار پر اس کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور سرائیکی میں فرماتے ہیں کہ ـ” میں تیکوں ٹھوکاں ہاں نا، توں میڈیا منتاں کریں ہا،تبادلہ رکے ہا،اج توں میڈا جھنڈا لئی بیٹھا ہویں ہا ” مطلب موصوف کا کہناتھا کہ میں تمہیں عبرت کا نشانہ بناتا اور پھر تم میری منتیں کرتے ،میں تبادلہ رکواتا اور آج تم میرا جھنڈ ا لگا کر بیٹھے ہوتے۔ میری سمجھ سے بالاترہے کہ ایک امیدوار کو کس قانون ،ضابطے اور آئین نے یہ حق دیاہے کہ وہ ووٹر کے گھر جاکر اس کی تذلیل کرے اور اس کو دھمکیاں دے؟ یا پھر اس کے اس انداز سیاست سے یہ معنی لیاجاسکتاہے کہ اعجاز اچلانہ اپنے قائد نوازشریف کے ووٹ کو عزت دو کے ایجنڈے کو یوں دھمکیوں کیساتھ آگے بڑھا رہاہے کہ ووٹر کو عبرت کا نشانہ بنادو اور اس کی گھر میں کھڑے ہوکر اس کی تضحیک کرو۔ الیکشن کمیشن کو بھی فرصت ملے تو اعجاز اچلانہ کی ویڈیو منگواکر اس کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرے کہ یہ الیکشن لڑنے کا اہل ہے یا پھر کوئی اور دھندا کرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں