ایک صاحب ہیں اقرارالحسن


usman ghaziایک صاحب ہیں، خود کو اقرارالحسن بتاتے ہیں اور اے آروائے نیوز پر پروگرام بھی کرتےہیں

یہ صاحب ان دنوں چیلنج پہ چیلنج کررہے ہیں، کہتےہیں کہ وہ ایک صحافی ہیں اور ان کے سندھ اسمبلی میں کیے گئے اسٹنگ آپریشن کو کوئی غلط ثابت کرکے دکھائے۔

انہوں نے سندھ اسمبلی کے رپورٹر ارباب چانڈیو کو چیلنج کیا، سما نیوزکو چیلنج کیا، سانپ گزرگیا اور یہ لکیر پیٹنے میں اتنے مصروف ہیں کہ لگتا ہے کہ کوئی اور کام دھندہ ہی نہیں۔

ان صاحب کا شاید مسئلہ یہ ہے کہ ان کے چیلنج کو کسی نے قبول نہیں کیا۔

ان صاحب کے چیلنج کو قبول نہ کرنا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے سارے صحافی غلط ہیں؟

شاید ایسا نہیں ہے۔۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ صحافی اس بات ہی کو اپنی توہین سمجھ رہے ہیں کہ اقرارالحسن نام کا آدمی خود کو صحافی کہہ رہا ہے۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے کراچی پریس کلب کا اجلاس ہوا، پاکستان کے سب سے بڑے پریس کلب نے ان صاحب سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

اگرآپ کبھی ان صاحب کو ٹی وی پر دیکھیں تو یہ سوچ کردیکھئے گا کہ یہ صحافی نہیں ہے بلکہ انٹرٹینمنٹ کا پروگرام کرنے والے ایک بہترین اینکر ہیں اور ہم سب ان کی اینکرنگ کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور دعاگو ہیں کہ یہ خوب ترقی کریں مگر انہیں سے صحافیوں سے نہ جوڑا جائے، عزت نفس بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے۔

لوگ سوچتے ہوں گے کہ صبح شام چیلنج چیلنج چلانے والے اس آدمی کا حلق سوکھ چکا ہے اور سماء نیوز خاموش ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے۔

سماء نیوز کیا سوچتا ہے۔۔ یہ سماء نیوز ہی کو پتہ ہوگا تاہم میرا ذاتی خیال ہے کہ سما نیوز چونکہ مالکان سے لے کر رپورٹر تک صحافیوں پر مشتمل ایک ادارہ ہے تو اسے صحافیوں کی عزت نفس کا خیال ہے اور جواب نہ دینے کی وجہ شاید یہ ہے کہ کون اس ٹھہرے ہوئے تالاب میں پتھر پھینکے۔۔ اپنے کپڑے گندے ہوتے ہیں۔

میرا قطعاً ذاتی خیال ہے کہ چونکہ سماء نیوز پاکستان کا نمبر ون چینل ہے اور یہ بذات خود ایک چیلنج ہے، اس چینل کو کیا ضرورت کہ کسی کا چیلنج قبول کرے۔۔ اگر اقرارالحسن سماء نیوز کو شکست دینا چاہتا ہے تو یہاں پر بھی سرعام کی طرز کا ایک پروگرام ہوتا ہے۔۔ یہ پروگرام اقرارالحسن کی اہلیہ کرتی ہیں، موصوف سماء میں اپنی اہلیہ کے پروگرام سے زیادہ ریٹنگ لے آئیں۔۔ یہی ان کی کامیابی ہے۔

میرا اقرارالحسن سے ایک سوال ہے، کچھ دنوں پہلے انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا مؤقف سچ ثابت ہوگیا ہے اور ایک نجی چینل پر پیمرا نے 25 ہزار روپے کا جرمانہ بھی کردیا ہے۔

اقرارصاحب ۔۔ بتائیں گے کہ وہ نجی چینل کون سا ہے؟ جب یہ خبر چل رہی تھی تو سماء نیوز کی فوٹیج چلائی جارہی تھی تو گمان کیا جاسکتا ہے کہ سماء نیوز ہوگا تاہم سنا ہے کہ سماء نیوز کو تو ایسا کوئی نوٹس ہی نہیں ملا۔

اگر آپ کی خبروں کا یہ معیار ہے تو صحافت سیکھ ہی لیں اور ہاں!! صحافت سیکھنے کے لئے آپ اسی رپورٹر ارباب چانڈیو کے پاس جائیں، جس کو آپ صبح شام چیلنج کررہے ہیں، ان کا 23 برس کا صحافتی تجربہ ہے، اچھا سیکھ لیں گے۔

اچھا آخری بات تو رہ گئی ۔۔ کراچی پریس کلب نے اقرارالحسن سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے ، یہ کلب ہزاروں صحافیوں کانمائندہ ہے ۔۔ تو پھر کیا خیال ہے صحافی اقرارالحسن صاحب۔۔ کراچی پریس کلب کے خلاف آپ گرینڈ آپریشن کب کر رہے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ایک صاحب ہیں اقرارالحسن

  • 10-05-2016 at 3:37 am
    Permalink

    آپ کے اس کالم میں اقرار الحسن کے پروگرام سے متعلق کوئ دلیل یا دعوی نہیں۔ صرف کالم برائے کالم ہے۔اقرار کا کام قابل تعریف تھا اس پر حکومتی ردعمل بھونڈا تھابلکہ اس پروگرام کو ہٹ کرانے میں صوبائی وزیرداخلہ کا رول تھا۔ چانڈیو کے عرصہ تئیس سال بطور صحافی کام کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انداز صحافت انتہائی بھونڈا تھا۔

  • 10-05-2016 at 9:53 am
    Permalink

    غازی صاحب اقرار الحسن جو پروگرام کرتے ہیں کم از کم وہ انٹرٹینمنٹ تو نہیں ہوتا۔ اقرار الحسن نے خود سندھ اسمبلی میں آواز دے کر کہا یہاں کسی کے پاس ویپن ہے، اور پھر وہ پسٹل نکال کر دیا۔۔۔اور سماء بریکنگ نیوز دے رہا ہے، رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، دھر لیا گیا۔ اور اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ مگر آپ نے ضرور ایک تعصب سے بھر پور جانبدار کالم لکھ مارا ہے۔۔۔

  • 10-05-2016 at 2:28 pm
    Permalink

    سبحان اللہ اقرار کے خلاف اتنا غصہ ہے کہ دلیل گئی تیل لینے بس لفاظی کے زور پر ہی پورا کالم لکھ مارا ہے۔کیا اراباب چانڈیونے جو خبر دی تھی وہ غلط نہیں تھی؟کیا سماء نیوز نے غلط خبر نہیں چلائی؟اگر چلائی تو نمبر ون چینل میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ معافی مانگ لے؟؟؟
    حد ہے یار لوگ جذبات میں بس لفاطی کرتے چلے جاتے ہیں اور حقائق کی ماں بہن بھی ایک کرتے چلے جاتے ہیں۔23سال کا تجربہ رکھنے والے چانڈیو نے سو زاوئیے کی غلط خبر چلائی اس پر کوئی مذمت نہیں۔بس اقرار غلط ہے۔جیتے رہیں جی آج کل یہی معیار ہے حق سچ کا کہ لفاظی کرو اور جیب بھرو۔گھر جاو۔سچ کیا ہے یہ بھاڑ میں جائے

  • 10-05-2016 at 4:34 pm
    Permalink

    ایک صاحب ہیں عثمان غازی
    (راشداحمد)
    ایک صاحب ہیں عثمان غازی صاحب۔ہم سب پر کالم لکھتے ہیں اور اچھا لکھتے ہیں مگر ان کا تازہ کالم جو ہم سب پر چھپا ہے اس میں انہوں نے اے آر وائی نیوز کے مقبول پروگرام ’’سرعام‘‘ کے اینکر پرسن اقرارالحسن پرطنز نما چوٹیں کی ہیں اور پاکستان کے ’نمبرون‘چینل سماء نیوز کی بھرپور وکالت کی ہے۔کہانی کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ سرعام کے اینکرپرسن اقرارالحسن نے سندھ اسمبلی میں ایک اسٹنگ آپریشن کیا جس میں ایک دوسرے صاحب اسمبلی میں پستول لیکر پہنچ گئے اور اقرار نے اسمبلی فلور پر ممبران کے سامنے کھڑے ہوکر وہ پستول ’برآمد‘ کیا اور یوں انتظامیہ کو ان کی نااہلی کی طرف توجہ دلائی۔۔۔اس وقت پاکستان کے ’نمبرون‘ چینل نے یہ خبرمرچ مصالحہ کے ساتھ نشر کرنی شروع کر دی کہ اقرار کو ہیرو پنتی مہنگی پڑگئی اور موصوف پستول لیکر اسمبلی میں گھس گئے۔یہ خبر ’۲۳سالہ تجربہ کار‘ اراباب چانڈیو نے رپورٹ کی۔اسی طرح دیگر چینلز اور اینکرز کی طرف سے بھی یہ الزام لگایا گیا کہ اقرار اپنے تعلقات کو بنیاد بنا کر اسمبلی میں پستول لے گئے۔
    بعد میں ثبوتوں اور ویڈیو کلپز کی مدد سے یہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی اور ساری کہانی طشت از بام ہوگئی۔یہ بھی ثابت ہوا کہ سماء نیوز نے غلط خبر بریک کی اور تجربہ کار چانڈیو صاحب کی رپورٹنگ بھی غلط تھی۔کیا اس نمبر ون چینل کو معذرت کرنے کی اخلاقی جرات ہوئی؟جواب ہے نہیں۔کیا تجربہ کار رپورٹر صاحب نے کوئی معذرت کی؟جواب ہے نہیں۔
    اب جب کہ آپ کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا تو ظاہر ہے آپ چیلنج کیسے قبول کریں گے؟اب آپ یہی کہیں گے کہ فلاں پریس کلب نے مذمت کی اور فلاں نے لاتعلقی کا اظہار کیا؟پریس کلبز کی حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اسلام آباد پریس کلب کے انتخابات کی کہانی ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی۔کتنے معروف پاکستانی اینکر ہیں جو کسی کلب سے وابستہ ہیں؟ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کلبز کیا کرتے ہیں اور ان کی دسترس میں کون سے صحافی ہیں۔
    عثمان غازی صاحب لکھتے ہیں:’’ ان صاحب کے چیلنج کو قبول نہ کرنا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے سارے صحافی غلط ہیں؟‘‘یعنی اس چیلنج کو قبول نہ کرنے والا صرف ایک صحافی غلط ہے۔باقی غلط نہیں ہیں۔تو جناب ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ اس واقعہ میں ایک ہی بندہ کی غلطی ہے اسے معافی مانگنی چاہئے۔ہم نے یا اقرار نے کب تمام صحافیوں کو غلط کہا۔
    موصوف مزید لکھتے ہیں:’’ شاید ایسا نہیں ہے۔۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ صحافی اس بات ہی کو اپنی توہین سمجھ رہے ہیں کہ اقرارالحسن نام کا آدمی خود کو صحافی کہہ رہا ہے۔‘‘ تو جناب عرض یہ ہے کہ کون سےصحافیوں کی آپ بات کررہے ہیں؟ان کی جو محلوں کی سطح پہ سو سوروپے ہتھیانے کے لئے کہتے پھرتے ہیں تم مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں۔میں صحافی ہوں۔وہ صحافی جوارباب اختیار سے ذاتی تعلقات رکھتے ہیں اور ان کے میسجز اپنے پروگرام میں فخر سے دکھاتے ہیں۔وہ صحافی جو لوگوں کو اپنے پروگرامز میں مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں اور بیتھ تماشہ دیکھتے ہیں۔وہ صحافی جن کے بارے میں ان کا ادارہ کہتا ہے کہ ریٹنگ کے لئے یہ کچھ بھی کرے گا۔وہ صحافی جن کے پاس کچھ عرصہ قبل مشکل سے موٹر سائیکلز ہوتی تھیں اورآج مہنگی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔جناب اگر یہی صحافی اقرار کے صحافی ہونے کو اپنی توہین سمجھ رہے ہیں تو سبحان اللہ۔واہ واہ۔چھاج کا بولنا تو قابل فہم ہے چھلنی کس بنیاد پر زبان درازی کرے؟
    سماء نیواز اس لئے نہیں خاموش کہ اسے صحافیوں کی عزت نفس کا خیال ہے بلکہ اس لئے خاموش ہے کہ ان کے پاس جواب نہیں۔ورنہ اپنے کسی مفاد پہ زد پڑے تو دیکھیں کیسے کئی کئی گھنٹے لائیو پروگرامز کرکے اپنا گلا خشک کرتے ہیں۔جناب عزت نفس کا اتنا ہی خیال رہتا ہے انہیں تو کم از کم خبر دیتے ہوئے دیانت داری سے کام لیتے۔صریحاً جھوٹ بول جاتے ہیں مگر عزت نفس پر آنچ نہیں آتی۔غالب کو بھی کعبہ جاتے شرم آگئی تھی مگر کئیوں کو نہیں آتی۔

Comments are closed.