سیاسی ثقافت اور روایت پر غور کی ضرورت


wajahatآزادی کے بعد ہماری تین نسلیں پیدا ہوکر جوانی اور بڑھاپے کی منزلوں کو پہنچ گئیں۔ سیاست کے موضوعات وہی رہے۔ معیشت کی تصویر وہی رہی اور معاشرے کا روگ وہی رہا۔ ناانصافی کی کہانیوں میں نام بدل جاتے ہیں۔ بھیتر کی الجھن دور نہیں ہوتی۔ دکھ کی چبھن کم نہیں ہوتی۔ واقعہ کی تفصیل بدل جاتی ہے، کہانی کا انجام نہیں بدلتا۔ ساٹھ برس پہلے گجرات کے بس اڈے پر ایک خاتون کے ساتھ چند اوباشوں کی درندگی کی خبر آئی تھی۔ شورش کاشمیری حیات تھے۔ انہوں نے چٹان میں معاملہ اٹھایا۔ اہل صحافت کو شرم دلائی، اہل حکومت کو کچوکے دیے۔ پرانے اخبارات کی فائلوں میں یہ واقعہ پڑھا تو خبروں کی عبارت، تجزیوں کی درد مندی، مذمت کی شدت اور عوامی غم و غصے سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آئندہ اس ملک میں ہر خاتوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسی زمانے میں بیگم جونا گڑھ منور جہاں کے مقدمے کا قصہ بھی چل رہا تھا۔ بانو نامی ایک خادمہ کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ عدالت سے بیگم صاحبہ کو ایک روز قید کی سزا ملی تو انصاف کے بخیے ادھڑ گئے۔ ہماری نسل نے ظلم اور انصاف کے ان استعاروں میں آنکھ کھولی۔ نصف صدی میں بہت کچھ ایسا دیکھنے کو ملا، جو نہ دیکھتے تو بہتر تھا۔ مشاہدہ زندگی پر اعتماد ختم کرنے کے لئے کافی تھا۔ اب زندگی کی شام میں آنے والی خبروں کی طرف محض اشارہ کافی ہے۔ کراچی میں ایک بھائی بہن کو قتل کر دیتا ہے، ایبٹ آباد میں ایک سولہ برس کی بچی زندہ جلا دی جاتی ہے۔ گجرات سے ایبٹ آباد تک کے سفر میں ایک جام صادق علی پڑتا ہے۔ عرفان الله مروت کا نام آتا ہے۔ عدل کی من مانی مسلسل رہی ہے۔ مظلوم کی بے بسی تبدیل نہیں ہوئی۔

محترم بھائی انیق ناجی نے سوال اٹھایا کہ ہم فوج اور سیاست دانوں کی کشمکش پر بات کرتے رہیں گےیا کبھی یہ سوال بھی اٹھائیں گے کہ دھوپ میں کھڑے ہو کر جن اہل سیاست کا جلسہ سنتے ہیں، نجی مجلسوں میں دھواں دھار بحث کرتے ہوئے ذاتی تعلق تلخ کر لیتے ہیں اور وقت کی ہر کروٹ پر آمریت کے فلک بوس پھریروں کے سامنے جمہوریت کا ننھا سا علم گاڑ دیتے ہیں، وہ سیاست دان ہماری جیب کیوں کاٹ لیتے ہیں۔ کیا ہماری سیاسی ثقافت کے بنیادی زاویوں پر غور کرنے کی ضرورت نہیں؟ ہم سیاست دان کی تحسین، تکذیب اور مذمت سے آگے بڑھ کر یہ سوال کب اٹھائیں گے کہ ہمارا صادق خان بھی انتخاب میں کامیاب ہونا چاہئے۔ یوں پوچھئے تو 1946 کے انتخابات سے لے کر 2013 تک چند درجن نام گنوائے جا سکتے ہیں۔ مردان کے نواب ہوتی کو کس غریب آدمی نے انتخاب ہروایا، بھٹو صاحب کے ٹکٹ پر کون اخبار ہاکر پارلیمنٹ تک پہنچا، میاں نواز شریف کی مقبولیت کی لہروں پر کس نے ووٹوں کی گنتی جیتی۔ حالیہ کالم میں بھائی یاسر پیرزادہ نے اوکاڑہ میں مقامی سیاست کی بہت اچھی مثالیں گنوائی ہیں۔ لیکن صاحب، ہماری سیاسی ثقافت میں سب اچھا نہیں ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی تنظیم کاری پر اخفا اور بے اصولی کے دبیز پردے ہیں۔ ہمارے سیاسی شعور کے ارتقا میں رخنے ہیں۔ اس کے کچھ تاریخی اسباب ہیں اور اس کے معاشرتی پہلو ہیں۔ سیاست، لمحہ موجود کے حقائق کو اصول کی کسوٹی پر پرکھتے رہنے کا نام ہے۔ نری آدرش پسندی زمینی حقیقت سے کاٹ دیتی ہے اور زمینی حقائق پر غیر ضروری توجہ دینے سے نصب العین اوجھل ہوجاتا ہے۔ اس وقت ایک منتخب حکومت موجود ہے، اختیار کے زاویے پورے طور پر شفاف نہیں لیکن آئین اپنا کام کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر سیاسی استحکام کے آثار ہیں۔ ہمیں کچھ دیر کے لئے بحران کے تپِ محرقہ سے ہٹ کر جسد اجتماعی کا جائزہ لینا چاہئے۔ تاریخ کی کچھ باز آفرینی اور آج کی تصویر کی خواندگی کرنی چاہیے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ چوہدری صاحب، شاہ صاحب، خان صاحب اور سردار صاحب کی شخصی رسہ کشی کے پس پردہ خدوخال کیا ہیں۔

ماننا چاہئے کہ پاکستان کی ریاست جن منطقوں، خطوں اور اکائیوں سے مل کر وجود میں آئی، غیر ملکی حکمرانوں سے نجات کی جد و جہد میں ان کا کردار ثانوی تھا۔ ہندوستان کا شمال مغربی حصہ سیاسی شعور کے ارتقا میں پسماندہ تھا۔ بر صغیر میں مقامی اختیار اور مرکزی حکومت میں کشمکش کی تاریخ مغلوں اور سلاطین کے عہد تک جاتی ہے۔ موجودہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں مقامی مقتدر طبقوں کے لئے آزادی کا مفہوم یہی تھا کہ نئے مرکزی حکمرانوں کے ساتھ تعلق کی کیا صورت پیدا کی جائے کہ مقامی باشندے پر اختیار قائم رہے۔ یہ سوچ نو آبادیاتی نظام سے آزادی کے بنیادی سیاسی تصورات سے متصادم تھی۔ پاکستان کے قیام کے لئے سیاسی جد و جہد کا مرکز ان خطوں میں تھا جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ ہم نے اقلیت کی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ان علاقوں میں اقتدار حاصل کیا جہاں اقلیت اور اکثریت کا توازن یکسر مختلف تھا۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ ایسے مرحلے پیش آئے جن کی پیش بینی کرنا بہت مشکل تھا۔ ذمہ داری کے تعین سے قطع نظر، واقعہ یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں آبادی کا تبادلہ کسی منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ اقلیتی علاقوں سے مسلم لیگ کی قیادت کا پاکستان تشریف لانا پہلے سے طے نہیں تھا۔ قیام پاکستان کے فورااً  بعد مقامی اور غیر مقامی سیاست دان میں کشمکش شروع ہوگئی۔ جملہ فریقین بوجوہ جمہوریت سے گریزاں تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے  بعد جمہوریت کی تشریح اور تفہیم پس پردہ چلی گئی۔ مقاصد کے تعین پر اجارہ داری قائم کر لی جائے تو اقتدار غیر حقیقی مقاصد متعین کرتا ہے۔ نصب العین کے نام پر طریقہ کار کی پابندی کو بالائے طاق رکھ دیا جائے تو اجتماعی زندگی شفاف نہیں رہتی۔ اسی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاستی ادارے عوام سے زیادہ ترقی یافتہ، باوسیلہ اور منظم تھے۔ ہماری سیاسی ثقافت انتظامی روایت سے کمزور تھی، پاکستان کے حصہ میں متحدہ ہندوستان کی 33 فیصد فوج اور  17 فیصد مالی وسائل آئے۔ ریاستی اداروں پر کاٹھی ڈالنے کے لیے جمہوری ثقافت کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی اور ہمیں جمہوریت سے گریز تھا۔ اس المیہ سکرپٹ کا ناگزیر نتیجہ یہ تھا کہ ریاستی اداروں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور سیاستدانوں کو غیر ضروری، غیر مفید اور نقصان دہ عنصر قرار دے دیا۔ اس کے بعد تعطل کی روایت قائم ہوئی۔ غیر آئینی اقتدارلامحدود طوالت کی خواہش رکھتا ہے۔ جواز کی عدم موجودگی میں اقتدار کی کشمکش جنم لیتی ہے اور استحکام کا امکان نہیں رہتا۔ اس میں غیر جمہوری روایت کے ساتھ تعاون کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔ فریقین میں باہم اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ غیر آئینی اقتدار کو استحصال اور نا انصافی کے لئے آزمودہ اور مفید مطلب بندوبست سمجھنے کی ترغیب جنم لیتی ہے۔ ایسے بند و بست میں حادثے جنم لیتے ہیں اور حادثے پر امید کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ حادثے، تعطل اور ہنگامے میں اصول مجروح ہوتا ہے۔ ہم نے صدر ایوب کے ہاتھ مضبوط کئے یا یحییٰ خان کے ساتھ تعاون کیا، ضیا الحق کے ہاتھ پر بیعت کی یا پرویز مشرف کو امید کی کرن قرار دیا، ہم بحیثیت قوم غیر حقیقی بیانیے، بین السطور مقاصد، غیر اخلاقی ہتھکنڈوں اور بدعنوانی کے خلجان میں مبتلا ہو گئے۔ مالی مفادات تو بدعنوانی کی محض ذیلی پیداوار ہوتے ہیں، حقیقی بدعنوانی کا تعلق غیر جمہوری نصب العین کی تائید سے غیر قانونی اختیار قائم رکھنا ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں کون سا سیاسی رہنما اور کارکن یہ تسلیم کر سکتا تھا کہ ہم کٹھ پتلی کا ناٹک کھیل رہے ہیں۔ ہمارا صحافی خبر نہیں دے رہا، کھیت میں بارودی سرنگ لگا رہا ہے۔ پولیس آفیسر قانون نافذ نہیں کر رہا قانون کی پستک بغل میں دبائے اختیار کی دریوزہ گری کر رہا ہے۔ ہم نے سیاست پر دھوکہ دہی اور مصلحت کی دبیز چادر ڈال دی ہے۔ اس غیر آئینی کھیل سے انحراف کرنے والوں پر ملک دشمنی کی تہمت رکھ دی جاتی ہے۔ ریاست اور حکومت کی درمیانی لکیر مٹا دی جائے تو جمہوری اختلاف غداری بن جاتا ہے۔ ہماری سیاست کی یہ روایت استبداد کی سنگی دیوار پر سائے اور پرچھائیں کی وہ جنبش رہی ہے جسے ہم دہشت کے عالم میں رقص قرار دیتے رہے۔

ہماری موجودہ سیاست میں بالائی سطح پر اداروں کی کشمکش ہے، وفاقی اکائیوں میں وسائل کی چھین جھپٹ ہے، ریاستی اداروں میں باہم رسہ کشی ہے۔ لیکن ایبٹ آباد کے گاؤں مکول، لاہور کے نواح ہنجروال اور کراچی کی بستی لیاری میں محض عصبیت کا کھیل ہے۔ مردانہ بالادستی کی سازش ہے۔ ذات پات کا تعصب ہے، زبان کی بنیاد پر گروہ بندی ہے، فرقے کی منافرت ہے۔ یہ جمہوری سیاست نہیں، جمہوریت کے نام پر نا انصافی، استحصال اور محرومی کی سازش ہے۔ ہم اس اندوہ سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں معیشت اور معاشرت کی ان اقدار پر مکالمہ کرنا چاہئے جن کی موجودگی میں سیاست دان کو نقب زنی، ریاستی اہل کار کو عوامی نمائندے کی نااہلی اور ملک کے شہری کو اپنی بے بسی کا دھڑکا نہ رہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سیاسی ثقافت اور روایت پر غور کی ضرورت

  • 10-05-2016 at 4:08 am
    Permalink

    بلکل سر ! ایسی جمہوریت میں فقط آہین ہی تو کام کررہا ہے آپ نے بجا فرمایا آہین کام کررہاہے بلوچستان میں اقتدار کے ایوانوں میں یا کراچی کے کمالوں میں فقط آہین ہی تو کام کررہا ہے ۔۔خارجہ امور میں تو آہین کی بالادستی قابل رشک ہے

  • 10-05-2016 at 9:46 am
    Permalink

    چلیں اب بات چقافت پہ ا گئی دیکھتے ہیں آگے کیاں تک جاتی ہے لیکن شکر ہے کہ جمہوریت کو سنجیدہ طور پہ دیکھنا تو شروع ہوا پہلے تو ایمانیات کا حصہ لگنے لگی تھی۔

Comments are closed.