سعودیہ ایران بکھیڑا…. مصالحت کار کون؟


mirza mujhaid18 جنوری کو پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا دورہ کیا جہاں انہیں خادم حرمین شریفین ملک سلمان بن عبدالعزیزالسعود نے شرف ملاقات بخشا۔
19 جنوری کو چین کے رہنما شی جن پنگ ریاض کے دورے پر پہنچ رہے ہیں اور چین کی وزارت خارجہ کے نائب سربراہ زہانگ من نے ان کے دورے کے ضمن میں کہا ہے کہ فریقین ، سب کے لیے قابل قبول تزویری شراکت کاری سے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔
البتہ17 جنوری کو عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے بیان دیا تھا کہ سعودی عرب نے مصالحت کاری سے متعلق عراق کی پیش قدمی کو قبول کر لیا ہے اور یہ کہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ان کے ساتھ فون پر کی گئی گفتگو میں کہا ہے کہ ایران سعودی عرب تعلقات میں الجھاو¿ سے متعلق سلطنت سعودی عرب عراق کی مصالحت کاری کی پہل قدمی قبول کرتی ہے۔
حکومت پاکستان کا وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے دورے سے پہلے بھی یہی دعویٰ تھا کہ پاکستان ایران اور سعودیہ کے تنازع میں مصالحت کار کا کردار ادا کرے گا، حتیٰ کہ یہاں تک کہا گیا کہ اس ضمن میں پاکستان کی قیادت کو امریکہ، چین اور روس تک کی حمایت حاصل ہے مگر اس ضمن میں ان حکومتوں کی جانب سے کسی بھی گوشے سے اس دعوے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان سے ملاقات کے بعد بھی حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مصالحت کار کا لفظ استعمال کیے بغیر مصالحت کرانے کا ذکر تھا لیکن سعودی عرب سے عام رسمی بیان کے علاوہ ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی جس میں پاکستان کی جانب سے مصالحت کاری کیے جانے یا سعودیہ کی جانب سے ایسے کسی کردار کو قبول کیے جانے کا ذکر ہو۔
پاکستان نہ تو عرب ملک ہے اور نہ ہی وہاں کی قیادت شیعہ ہے۔ اس کے برعکس عراق عرب ملک بھی ہے اور اس کی قیادت بھی شیعہ ہے حتیٰ کہ شیعہ رضاکار دستے عراق کی فوج کے ساتھ مل کر عراق میں داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ چنانچہ یہ زیادہ صائب لگتا ہے کہ سعودی عرب عراق کو بطور مصالحت کار قبول کرے گا کیونکہ وہ عرب ملک اور شیعہ قیادت والا ملک ہے، ایرانی اور دنیا بھر کے شیعوں کے مقامات مقدسہ عراق میں ہی ہیں یعنی کربلا معلّٰی اور نجف اشرف۔
پھر پاکستان بچھڑے کی طرح کیوں کود رہا ہے؟ یاد کیجیے تھوڑا ہی عرصہ پیشتر جب سعودی عرب نے ایک نام نہاد اتحاد بنایا تھا جس میں اپنی مرضی سے پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کو شامل کر لیا تھا اس کے چند روز بعد ہی ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے روس کے دورے سے واپس آتے ہوئے، جہاں کریملن میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ان کے دوبدو مذاکرات ہوئے تھے، افغانستان سے پیغام دیا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ چائے پینے اور ان کی نواسی کی شادی کی مبارک باد دینے کے لیے چند گھنٹوں کے لیے لاہور رکیں گے۔ اس ملاقات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا تھا لیکن یہ نہیں بتایا گیا تھا آیا نواز شریف کو مودی نے پوتن کا کوئی پیغام تو نہیں پہنچایا تھا۔ پیغام بھی کیا تنبیہ ہی کہنا چاہیے کہ پاکستان سعودی عرب کے اتحاد میں شرکت کے ضمن میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
یہ تنبیہ اگر کی گئی ہوگی تو اس میں کوئی دھمکی نہیں ہوگی بلکہ اتنا باور کرایا گیا ہوگا کہ اوفا میں ہوئی شنگھائی تنظیم برائے تعاون کی سمٹ میں پاکستان اور ہندوستان کو بطور مکمل رکن لیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کا عبوری مرحلہ چل رہا ہے،جون میں تاشقند میں ہونے والی اس تنظیم کی سمٹ میں ان دونوں ملکوں کو اگر پاکستان سے کوئی سیاسی حماقت سرزد نہ ہو گئی تو غالباً مکمل اراکین کے طور پر لے لیا جائے گا۔
اس باوقار علاقائی تنظیم میں شامل ہونا پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے، پھر اس نے عبوری مرحلے کا آدھے سے زیادہ دورانیہ بہت عقلمندی سے گذار بھی لیا ہے۔ نہ تو یمن کے جھگڑے میں شریک ہوا اور نہ ہی شام کے تنازعے میں جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ سعودی عرب کے بنائے ہوئے اتحاد میں چونکہ وہ مسلمان ملکوں کا اتحاد ہے اس لیے چین ، روس اور ہندوستان کی شمولیت تو بعید از قیاس ہوتی البتہ امریکہ اور یورپ کی پس پشت اعانت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم 19 جنوری کو سامنے آنے والے، امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری کے ایک بیان نے ساری دنیا کو ششدر کرکے رکھ دیا ہے کہ ”جوہری ہتھیاروں کا حصول بھی سعودی عرب کو محفوظ نہیں بنا سکے گا“، جوہری ہتھیار دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں تو بن نہیں جاتے اور عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی او عالمی معاشرہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ایران کا عشروں پر محیط قضیہ سب کے سامنے ہے کہ کتنی مشکل سے حل ہو سکا بہر حال ہو گیا۔
جان کیری کے بیان سے تو یہی لگتا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے قرض چکانے کی بات کی ہوگی کیونکہ اس نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی توسیع میں اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ شاید سعودی عرب چاہتا ہو کہ پاکستان سے جوہری اسلحہ حاصل کرکے ایران کو ڈرائے اور دبائے رکھے مگر پاکستان کے لیے ایسا کرنا اپنے آپ کو نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کے مخالف کے طور پر پیش کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ظاہر ہے اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی نہیں مارنا چاہے گی اسی لیے ممکن ہے کہ مصالحت کاری کی چھتری تلے وہ وضاحت کرنے گئے ہوں۔
تاہم پاکستان بالکل نہیں چاہے گا کہ ایک ایسے وقت میں جب اس کا تدبر سے خارجہ پالیسی چلانا فرض بنتا ہے تاکہ اسے ہندوستان کی طرح شنگھائی تنظیم برائے تعاون میں بطور مکمل رکن لے لیا جائے، وہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے جس سے چین کی ہیٹی ہو کیونکہ جہاں ایک طرف روس ہندوستان کو اس تنظیم میں لیے جانے کی حمایت کرتا رہا تھا وہاں چین نے پاکستان کو مکمل رکن لیے جانے کی مسلسل حمایت کی ہے۔
یہ بیان تو پاکستان کی قیادت خاص طور پر مشیر برائے امور خارجہ اور آئی ایس پی آر کی جانب سے آتے رہے ہیں کہ سعودی عرب نے نہ فوج مانگی ہے اور نہ ہی پاکستان فوج بھیج رہا ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کے تقاضے بارے کوئی بات نہ تو کسی نے کی اور نہ کر سکتا ہے۔ درست ہے کہ بہت سے معاملات عوام کے سامنے لانے کے لیے نہیں ہوتے لیکن کم از کم مصالحت کرانے کی بات واضح ہونی چاہیے۔ مصالحت اپنے طور پر بھی کروائے جانے کی کوشش کی جایا کرتی ہے اور فریقین کے کہنے پر بھی مگر یہاں اگر ہے تو معاملہ مدعی سست گواہ چست والا معاملہ ہے۔
ایران عالمی منڈی میں آ چکا ہے۔ سعودی عرب کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے سبب اس برس سعودی عرب کے بجٹ کا خسارہ 537 ارب ریال رہا ہے۔ ایران کا تیل مارکیٹ میں آنے کے بعد تیل کی قیمتیں مزید گریں گی۔ سعودی عرب ہی نہیں روس، وینزویلا، کزاخستان اور بہت سے ملک مالی طور پر متاثر ہوں گے۔ عراق بھی تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، ایران بھی اور سعودی عرب بھی۔ چنانچہ اگر کوئی مصالحت کار ہو سکتا ہے تو عراق جس کے پیچھے امریکہ بھی ہوگا اور یورپ بھی۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنا دامن بچائے تاکہ تنازعے کی آنچ سے اس کو گزند نہ پہنچے۔


Comments

FB Login Required - comments