کروئشیا کی بے حیا صدر نے اپنی قوم کو رسوا کر دیا


آپ اگر سیاسی حرکیات و سکنات پر نظر رکھنے کے شوقین ہوں تو کروئشیا کی خوبرو صدر ”کولندا گڑبڑ کتارووچ“ آپ کی نگاہوں سے بچ نہ پائی ہو گی۔ کروئشیا بظاہر ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی محض 41 لاکھ ہے، یعنی ہمارے لاہور کے جوہر ٹاؤن اور نواحی علاقوں کے برابر۔ یہ مشرقی یورپ کے علاقے بلقان میں واقع ہے اور پہلے یوگو سلاویہ کا حصہ تھا۔ اس سے پہلے یہ صدیوں تک خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا ہے۔ عالمی سیاست یا معیشت وغیرہ میں اس کا کوئی خاص حصہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچ گیا۔

بخدا ہمیں اس کے فائنل میں پہنچنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ایک مشرقی ملک ہونے کے ناتے اسے کچھ شرم و حیا تو کرنی چاہیے۔ پہلے تو ایک جوان جہان اور خوبرو عورت کو اپنا صدر بنا لیا۔ ادھر مشرق میں مقبول ہونے کو وہ دوپٹہ پہن کر تصاویر اترواتی ہے مگر آپ اسے گوگل کریں تو اس کی نہایت بے شرمی والی تصاویر دکھائی دیں گے جو یہاں پوسٹ کرنا ممکن نہیں ہیں، ان کی بجائے ہم دوپٹے والی تصویر پوسٹ کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بعض افراد یہ صفائی پیش کرتے ہیں کہ وہ تصاویر ان کی نہیں بلکہ ان سے مشابہ ایک امریکی ماڈل کی ہیں۔ اس سے تو الٹا یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ چوری چھپے امریکہ میں ماڈلنگ بھی کرتی رہی ہیں۔

ان تصاویر کو دیکھ کر بھی ہم نے حسن ظن سے کام لیا۔ یہ سوچا کہ جس طرح برطانیہ کی شہزادی کیٹ مڈلٹن کی نہایت ہی نجی حلیے میں تصاویر کو ایک بدطینت فوٹوگرافر نے اتار کر اخبارات میں پھیلا دیا تھا، ویسے ہی مس کولندا گڑبڑ کتارووچ کے ساتھ ہوا ہو گا کہ وہ اپنے گھر کے عقبی سمندر میں غسل کی نیت سے مختصر سی بکنی پہن کر نکلی ہوں گی تو فوٹوگرافر نے ان کے ساتھ شہزادی کیٹ مڈلٹن والی حرکت کر دی۔

لیکن جب ہم نے اس غریب سے ملک کی اس صدر کو فٹ بال کے ورلڈ کپ کے لئے سرکاری خرچے پر روس جاتے دیکھا تو پھر ہمیں کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا کہ اس بی بی کے نام کے بیچ میں ”گڑبڑ“ کیوں لگایا گیا ہے۔ چلیں سرکاری خرچوں پر یہ عیاشی بھی ادھر مشرق کے حکمرانوں کی عادت ہے۔ اسے بھی ہم کراہت سے قبول کر لیتے ہیں۔ مگر اس کے بعد اس نے جس طرح اپنے ملک کی عزت کو سربازار نیلام کیا وہ دیکھ کر ہم تو دنگ رہ گئے ہیں۔

اس عفیفہ نے ورلڈ کپ کا فائنل فرانس کے صدر ”ایمانویل مے خواں“ کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا۔ نام سے ہم یہ سمجھے رہے تھے کہ فرانسیسیوں کی عاشق مزاجی کی شہرت کے باوجود ایمان اس کے نام کا حصہ ہے تو اس کا کردار کچھ اچھا ہو گا۔ بدقسمتی سے ہم نے اس کے نام کے دوسرے حصے ”مے خواں“ پر غور ہی نہیں کیا کہ یہ کم بخت شرابی بھی ہو گا۔ اب خیال آتا ہے کہ دن رات شراب کے قصیدے پڑھنے کی وجہ سے ہی وہ مے خواں کہلاتا ہو گا۔

بہرحال ہوا یوں کہ فرانس نے یہ ورلڈ کپ فائنل کروئشیا سے جیت لیا۔ اب ورلڈ کپ ہارنے کے بعد بجائے اس کے کہ کولندا گڑبڑ کتارووچ ساتھ کھڑے فرانسیسی صدر مے خواں کا منہ نوچ ڈالتی، وہ ساری دنیا میں ہونے والی لائیو ٹرانسمیشن سے بے نیاز ہو کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر کھڑی ہو گئی جیسے وہ تو بس موقعے کی تلاش میں تھی کہ کسی بہانے اس خوبصورت فرانسیسی نوجوان سے عشق شروع کر دے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر وہ سرعام بوس و کنار میں مشغول ہو گئی جسے دنیا بھر کے اربوں لوگوں نے دیکھا۔

فرانسیسی صدر بے ایمانویل مے خواں ثابت ہوا۔ اس نے بھرپور گرم جوشی سے جواب دیا۔ اس کے بعد دونوں میدان میں نکلے تو ادھر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ ادھر بھی ان دونوں کے سرعام رومانس کا سلسلہ جاری رہا۔ بالکل یہی لگ رہا تھا کہ یہ دونوں پریمی بالی ووڈ کی فلم پکچرائز کروا رہے ہیں۔

جب یہ سلسلہ کچھ تھما تو فرانسیسی مے خواں صدر نے تمام پروٹوکول اور صدارتی سنجیدگی ایک طرف پھینکے اور اپنی اس رومانی فتح پر فرط جذبات سے بے قابو ہو کر ادھر سٹیڈیم میں ایک اونچی جگہ پر جا چڑھا اور ناچ گا کر جشن منانے لگا۔

لیکن کولندا گڑبڑ کتارووچ نے اسی پر بس نہیں کی۔ اس نے پہلے تو اپنی تمام ٹیم کو خوب بھینچ بھینچ کر گلے لگایا، اس کے بعد فرانسیسی ٹیم کے ساتھ بھی اسی محبت سے پیش آئی، مگر حد تو اس وقت ہو گئی جب تینوں ریفری بھی فیض یاب ہو گئے۔

کولندا گڑبڑ کتارووچ جس وقت یہ بے حیائی کر رہی تھی عین اس وقت سٹیڈیم میں موجود ہزاروں کروئشیائی تماشائی نم آنکھوں سے اپنی عزت کا یہ تماشا بنتے دیکھ رہے تھے۔ ان کے آنسو تو برستی بارش نے چھپا لیے تھے مگر ان کے چہرے کی اداسی چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ان کے یہ آنسو رائیگاں نہیں جائیں گے۔

امید ہے کہ اب تک برادر مشرقی ملک کروئشیا میں صدر کولندا گڑبڑ کتارووچ کی بے حیائی پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہوں گے اور حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہو گا۔ یا تو ادھر کے چیف جسٹس نے کولندا گڑبڑ کتارووچ کو یا تو نا اہل کر کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے ہوں گے ورنہ آرمی چیف نے تختہ الٹ دیا ہو گا، اور اب ادھر ایک صالح، ایماندار اور باحیا مشرقی شخص نے حکومت سنبھال لی ہو گی۔

کولندا گڑبڑ کتارووچ تو خیر ایک خوبرو اور پرکشش عورت ہے، اگر ہمارے صدر عزت مآب ممنون جیسا شخص بھی اس طرح کی حرکت کرتا تو ہماری غیرت مند قوم نے اسے برداشت نہیں کرنا تھا۔ شکر ہے کہ ہم پر شرم حیا والے لوگ حکومت کرتے ہیں، کولندا گڑبڑ کتارووچ یا ایمانوئل مے خواں جیسے نہیں۔ اگر ورلڈ کپ جیتنے کی قیمت ایسی بے حیائی ہے تو شکر ہے کہ ہم ورلڈ کپ نہیں جیتتے۔

اسی بارے میں

“کروئشیا کی بے حیا صدر” کولندا گریبر کتارووچ کے بارے میں کچھ مزید حقائق

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1009 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar