کڑوے کسیلے لوگوں کے ملک کی داستان


adnan-khan-kakar-mukalima-3

کہتے ہیں کہ گزرے وقتوں میں کالے کوسوں کی مسافت پر ایک ملک نیم روز نامی ہوا کرتا تھا۔ اصل نام تو اس کا کچھ اور تھا لیکن رفتہ رفتہ وہ اپنے باشندوں کی منفی ذہنیت اور کڑوے کسیلے رویے کی وجہ سے نیم چڑھے لوگوں کے روز و شب والا ملک کہلانے لگا اور بعد میں مختصراً اسے ملک نیم روز کہا جانے لگا۔ وہاں کے لوگ کبھی کسی بات پر خوش نہ ہوتے تھے۔ اگر ارد گرد کی ولایتوں میں ان کے کسی باشندے کو عزت دی جاتی تھی تو وہ شور مچاتے تھے کہ ہمارا یہ شہری تو کسی قابل ہی نہیں ہے، ہم نے تو اسے آج تک پوچھا بھی نہیں ہے، تو اقوام عالم اسے عزت کیوں دے رہی ہیں۔ یہ ضرور ہمارے دشمنوں سے مل گیا ہے۔ اور اگر وہ ملک ان کے باشندوں کو نظر انداز کرتے تھے تو پھر بھی یہ قوم شور مچاتی تھی کہ کیا ہم کسی قابل ہی نہیں ہیں جو کوئی ہمارے کسی عالم فاضل شخص کو مانتا ہی نہیں ہے، ہم تو نمبر ون قوم ہیں، یہ ہمارے خلاف سازش ہے۔ اقوام عالم نے ان کے ایک عالم کو اس کی سائنسی کاوش پر ایک نوبل نامی انعام دیا تو سب ناراض ہو گئے کہ اس بدعقیدہ شخص کو یہ سائنس کا سب سے بڑا انعام کیوں دیا گیا ہے۔ اایک خاتون نے اپنے ملک میں عورتوں کو تیزاب سے جلانے پر ایک فلم بنا ڈالی اور مسئلہ اٹھانے پر اس کو ایک بڑا انعام مل گیا تو سب اس کے دشمن ہو گئے کہ ہمارے خلاف یہ کیسی سازش ہے کہ اس عورت نے ہمیں بدنام کر ڈالا ہے۔ اس عورت کے خوب لتے لیے گئے لیکن تیزاب سے جلنے والیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا۔

دوسری اقوام کو یہ اپنے معاملے میں بولنے پر ڈانٹتے تھے اور خود ساری دنیا کے ہر معاملے میں کود پڑنا اپنا حق جانتے تھے۔ یہ لوگ کھیل تماشے اور آتش بازی اور رنگ و نور کے بہت شوقین تھے اور اپنی خوشی میں اپنے ہمسائیوں کو بھی ان کے لاکھ انکار کے باوجود شامل کرتے تھے۔ اسی لیے اکثر دور دور کے ملکوں میں یہ آئے دن کوئی نہ کوئی گل کھلاتے اور کافی شور والے پٹاخے چلاتے ہوئے پائے جاتے تھے اور ازراہ تشکر وہاں سرکاری مہمان کا درجہ پاتے تھے اور دنیا بھر کے میڈیا پر ان کا خوب تذکرہ کیا جاتا تھا۔

ان کے اس رویے کی وجہ سے دور و نزدیک کے سب ملک ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور اس کے باشندوں کو اپنے ملک آمد پر خصوصی قطاروں میں کھڑا کرتے تھے۔ دوسرے ملکوں کے لوگوں کو تو وہ فوراً اپنے ملک میں داخل ہونے دیتے تھے لیکن نیم روز کے باشندوں کو گھنٹوں ائیرپورٹ پر ہی روکے رکھتے تھے اور خوب اصرار کرتے تھے کہ کچھ خاطر مدارات اور خدمت کا موقعہ دیں، ہمیں اپنی آنکھیں تو آپ کی دید سے ٹھنڈی کرنے دیں۔ بلکہ نیم روز والوں کی ویڈیو بنا کر یادگار کے طور پر محفوظ کر لیتے تھے تاکہ بار بار دیدار کر سکیں۔ قدیم شعرا اپنی محبوباؤں کے سراپے کو بھی اس طرح اپنی شاعری میں محفوظ نہ کرتے ہوں گے جیسے یہ محبت کرنے والے قدردان نیم روز کے باشندوں کو ان کی جھیل جیسی گہری آنکھوں کی پتلی سے لے کر نشان انگشت تک مکمل طور پر اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کر لیتے تھے۔

یوں تو ملک میں بہت سے نابغے تھے لیکن زیادہ نام وہاں ہوشربا بغلول خان اور نثار سنیاسی نامی دو عظیم وقائع نگاروں کا ہوا کہ صحافی کہلاتے تھے۔ بلا کی نگاہ اور فراست پائی تھی انہوں نے۔ وہ پلک جھپکتے میں ملک نیم روز کے خلاف بیرونی سازش کا سراغ لگا لیتے تھے اور پل بھر میں بظاہر بہت معصوم سے تعریفی جملوں میں یہ اپنے پیارے ملک و مذہب کے خلاف توہین دریافت کر لیتے تھے۔ سارے ملک میں ان کا طوطی بولتا تھا لیکن حق یہ ہے کہ دنیا کی کسی بھی طوطی سے زیادہ یہ خود بولتے تھے۔ بڑے سے بڑے مخالف کو یہ پل بھر میں یہود و نصاری کا ایجنٹ ثابت کر دیتے تھے اور اگر وہ نابکار اقبال جرم سے انکار میں کچھ ہچر مچر کرتا تھا تو وہ دین و وطن کا دشمن قرار پاتا تھا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ اچانک مشہور ہوا کہ ایک ننھی بچی کو کچھ لوگوں نے سر میں گولی مار دی۔ دنیا میں بہت غل مچا۔ گو کہ گولی مارنے والوں نے اقبال جرم کر لیا تھا لیکن پھر بھی ان دو دانشوروں اور ان کے ماننے والوں کی نگاہ سے اصل حقیقت نہ چھپ سکی۔ انہوں نے سب کو سمجھایا کہ دیکھو، اول تو گولی مارنے والے نیک لوگ ہیں۔ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وہ بچیوں کو گولی ماریں۔ اور اگر انہوں نے گولی ماری بھی ہے تو سوچ سمجھ کر شریعت کے مطابق ہی ماری ہو گی کہ وہ تو اکبر الہ بادی کے الفاظ میں خلاف شرع تھوکتے بھی نہیں ہیں۔ اور بفرض محال گولی ماری بھی ہے تو سر میں گولی لگنے کے بعد کون زندہ بچتا ہے۔ اس لیے یہ سب یہود و نصاریٰ کا سازشی ڈرامہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

بہرحال، چند ماہ بعد وہ بچی ملک سے باہر علاج کے بعد ہٹی کٹی ہو گئی اور کئی اقلیموں کی ملکاؤں، بادشاہوں اور سربراہوں نے اس کے اعزاز میں دعوتیں کر ڈالیں۔ دنیا بھر کے حکمران اس بچی کی تقریر سننے کو ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور اس کی خوب داد و تحسین کی۔ اس سے یہ بھی فرمائش ہوئی کہ اپنی آپ بیتی ہی لکھ ڈالو۔ اور اس نے لکھ ڈالی جو دنیا بھر میں مشہور ہوئی اور اسے بہت مال و دولت ملا۔

اب اس بچی کو گولی مارنے کے معاملے کے ملک نیم روز کے خلاف سازش ہونے میں کسی کو کوئی شبہ تھا تو وہ نہ رہا۔ نیم روز کے اصل دانشور تو ہوشربا بغلول خان اور نثار سنیاسی تھے لیکن ساری دنیا میں کتاب اس سکول کی ننھی بچی کی مقبول ہوئی جا رہی تھی۔ یہ نیم روز کے خلاف سازش نہ تھی تو اور کیا تھا کہ وہاں کے عالموں کو چھوڑ کر وہاں کے بچوں کو عزت دی جا رہی تھی۔ ہوشربا بغلول خان نے ترنت کتاب منگائی۔ اسے سونگھا، تولا اور حتی کہ ادھر ادھر سے چند صفحات کھول کر ایک آدھی سطر بھی پڑھ ڈالی۔

wisemen-arguing

یہ عظیم حکیم ایسے ہی تو دانشور مشہور نہ ہوا تھا۔ یہ باکمال شخص ساتھ والے شخص کی پلیٹ سے دیگ کے چند دانے چکھ کر ہی پوری دیگ کا حال بتا دیتا تھا۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا تھا اور اس کی گنتی سے چڑیا یا کوئی درست گنتی جاننے والا اختلاف کرتا تھا تو اسے دائرہ اسلام سے خارج کر ڈالتا تھا کہ محض ایک نگاہ میں ہی یہ مخالفینن کی نیتوں کا حال جان سکتا تھا۔ اس صاحب حال دانشور کے لیے اس کتاب کے چند جملے پڑھ کر ہی اپنا مطلب نکال لینا کیا مشکل تھا۔ اس نے ایک تہلکہ خیز مضمون لکھ کر پرچے میں چھاپ دیا اور اس کتاب کے اس بچی سمیت پرخچے اڑا دیے۔ نثار سنیاسی نے بھی غالباً یہی مضمون پڑھ کر اس سے اقتباسات اٹھائے اور سیر پر سوا سیر والا مضمون لکھ ڈالا۔ اس طرح ان دونوں کی مہربانی سے ملک نیم روز کے باشندوں نے کتاب کو پڑھے بغیر ہی اس کا مکمل متن جان لیا۔ ویسے بھی ان کو ہوشربا بغلول خان نے نصیحت کر ڈالی تھی کہ کتاب پڑھ کر وقت ضائع کرنا ہی مقصد ٹھہرا تو مضمون ہی پڑھ کر یہ مقصد حاصل کر لیں۔

جنہوں نے کتاب کو چھوا تک نہ تھا وہ اس پر ماہرانہ رائے دینے لگے۔ اور سولہ سالہ بچی کی سوانح عمری کو ایسے تولنے لگے جیسے اس نے مریخ کا سفرنامہ لکھ ڈالا ہو۔ اور جنہوں نے کتاب پڑھی تھی وہ ان پر سر پیٹنے لگے۔ جس بات پر اس بچی نے ڈیڑھ دو سو صفحے لکھ ڈالے اس کا کہیں ذکر نہ ہوا اور جس بات پر اس نے ایک ڈیڑھ صفحہ بھی نہ لکھا وہی توڑ موڑ کر حاصل مضمون قرار پائی۔

اب دیکھیں کہ ملک نیم روز کے یہ دانشور کون سی نئی سازش پکڑتے ہیں اور قوم کو کون سا نیا خطرہ دکھا کر سرخرو ہوتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

10 thoughts on “کڑوے کسیلے لوگوں کے ملک کی داستان

  • 10-05-2016 at 1:42 pm
    Permalink

    Adnan Sb,your articles and posts are a treat. After a long time I see some classic satire. Keep on writing. God bless you.

  • 10-05-2016 at 2:01 pm
    Permalink

    I am still confused about the role of Hoshruba Baghlol Khan and his sermons titled ‘Burf-e-Khas’. Don’t know if telling everyone about Armgeddon is a good service or not?

  • 10-05-2016 at 4:07 pm
    Permalink

    اوھو، ارے، اچھا توآج آپ کے نشانے پر انصار عباسی اور اوریا مقبول جان ہیں۔

  • 10-05-2016 at 4:58 pm
    Permalink

    امپورٹڈ تجزیہ ہے جی
    کیا وہ لوگ ایسے ہی انصاف پسند ہیں جیسے تنقیدوطنز کے ساتھ اپ نےثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کمال کرتے ہیں جی۔۔۔۔۔۔

  • 10-05-2016 at 7:30 pm
    Permalink

    The guy is trying to be Nadeem Farooq Piracha of Urdu journalism.

    • 10-05-2016 at 7:44 pm
      Permalink

      Sarcasm is a type of literature which predates NFP by a few thousand years. On any given day, I prefer Ibne Insha over NFP, but I have my own style 🙂

  • 10-05-2016 at 10:57 pm
    Permalink

    ہوشربا بغلول خان اور سنیاسی کا منجن ایک زمانے میں خوب مارکیٹ ہوتا رہا جب مملکت نیم روز میں یہودیوں کی سازشوں کے نتیجے میں سائبرورلڈ قائم نہیں ہوا تھا۔۔۔اللہ غارت کرے ان یہود ونصاریٰ کو کہ جب سے یہ سوشل میڈیا نامی شیطانی چرخہ وجود میں آیا ان کا بہترین سے سے بہترین منجن بھی کوئی کوڑیوں کے دام خریدنے کو تیار نہیں۔۔ان دونوں کا ایک اور استاد ، جس کا ہر جملہ گھنی ٖداڑھیوں اور لمبی عباوں سے شروع ہوتا، آج کل مملکت نیم روز میں جمہوریت کا ٹانک مارکیٹ کررہا ہے۔۔۔سبحان تیری قدرت

  • 11-05-2016 at 12:04 pm
    Permalink

    بے حد اچھا طنز ہے ہماری صحافت کے دو بزرجمہروں پر جن کی سازشوں کی بو سونگھنے کی حس بہت تیز ہے۔

  • 11-05-2016 at 1:32 pm
    Permalink

    Adnan, I regularly read Hum Sub. Today you are in your real style. Issi tarah likhtey rahiye. Aaap ke Tanz ki Aanch zyada tez ho to bahut se “saliheen” aur “neem-saliheen”type ke log sar kujhatey reh jatey hein.

Comments are closed.