کیا چیف جسٹس آئین سے بالا ہیں؟


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ڈیم بنانے کے لئے انتخاب سے پہلے جس پر جوش مہم جوئی کا آغاز کیا ہے، وہ اب محض تفنن طبع تک محدود نہیں ر ہی۔ اور نہ ہی یہ اب صرف 184(3) کی اوور ریچ کا معاملہ رہ گیا ہے۔ اس بارے میں تسلسل سے دئیے جانے والے پیغامات، احکامات، تبصرے اور ریمارکس اب ایک تشویشناک صورت حال اختیار کرچکے ہیں جن کی روشنی میں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے والے شخص کو اپنے کلام اور اقدام میں من مانی کرنے کا اختیار حاصل ہے یا اس کی قانونی اور آئینی حدود پر گفتگو اور قدغن عائد کرنے پر بھی غور ہونا چاہئے۔

 چیف جسٹس ثاقب نثار نے یوں تو گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک کا نظام درست کرنے اور عام لوگوں کی ہمدردی میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو استعمال کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے اور اپنے عملی اقدامات (جن میں ہسپتالوں کے دورے اور سرکاری افسروں کے علاوہ وزیروں کی طلبی اور جواب دہی شامل ہیں ) سے یہ واضح کیا ہے کہ اس ملک کے غریب اور مسائل سے دوچار لوگوں کو ثاقب نثار کی صورت میں ایک مسیحا میسر آگیا ہے۔ اس لئے اب انہیں پریشان ہونے اور فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عوام مطمئن اور خوش ہو جائیں کہ ان کا چیف جسٹس ان کے بارے میں غور و فکر کرتے ہوئے سارے مسئلے حل کرنے کے لئے پوری تندہی سے سرگرم ہو چکا ہے۔ لیکن اس ملک میں اگر واقعی قانون کو بالادست رہنا ہے اور تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ملک و قوم کی بہتری کے لئے وہی کام کرنا ہے جو آئین تجویز کرتا ہے تو اس رویہ پر سنجیدگی سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کس اختیار اور قانون کے تحت ملک میں ڈیم بنانے، ٹیکس عائد کرنے کا حکم دینے، قومی اسکیموں کے لئے چندہ اکٹھا کرنے اور ملک کو قرضوں سے پاک کرنے کی مہم چلانے کے اعلانات کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کی طرف سے یہ سارے اعلانات اور احکامات اس افسوسناک خلا کی وجہ سے سامنے آ رہے ہیں کہ ملک کے عوام سیاست دانوں سے مایوس ہیں اور اس ناراضگی کی وجہ سے وہ ہر اس شخص کی طرف دیکھتے ہیں جو ان کے مسائل کا آسان حل تجویز کرتا ہے۔ لیکن قبول عام کے اس رویہ کو ملک میں آئین و قانون کا محافظ ادارہ اور اس کا سربراہ نہ تو اپنی شہرت کے لئے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی اس طرح کسی ملک و قوم نے کبھی اپنے مسائل سے نجات حاصل کی ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ تازہ حکم سامنے آیا ہے کہ حکومت ملک میں ڈیم بنانے کے لئے پچیس فیصد سرمایہ ملک میں پانی کی قیمتوں کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے حاصل کرے۔ اس سے پہلے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک ایسا اکاؤنٹ کھلوا چکے ہیں جس میں عوام سے چندہ دینے اور قرضوں کے بغیر ملک میں ڈیم تعمیر کرنے کے لئے فنڈز جمع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس اپیل پر ملک کی مسلح افواج کی طرف سے دو روز کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان سامنے آچکا ہے۔ متعدد دوسرے سرکاری، نیم سرکاری یا نجی ادارے بھی چیف جسٹس کی خوشنودی کے لئے نیکی کے اس قومی کام میں حسب توفیق چندہ دینے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ ملک میں پانی کی قلت کے حوالے سے چیف جسٹس نے چند ماہ پہلے دلچسپی کا اظہار شروع کیا تھا لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس بارے میں ان کی طرف سے لگاتار ایسے احکامات سامنے آئے ہیں جن سے یوں لگنے لگا ہے کہ انہیں اس عہدہ پر پاکستان میں پانی کی قلت دور کرنے کے لئے ہی متعین کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس قانون کے شعبہ میں جتنی بھی مہارت رکھتے ہوں اور ان کا دل عوام کی ہمدردی اور ملک کو درپیش مسائل کی وجہ سے خواہ کتنا ہی کیوں نہ کڑھتا ہو، لیکن جب وہ حکومت کے کرنے کا کام خود کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں اور ملک کی حکومت کو اپنے تابع سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہوں تو انہیں ان اقدامات کا قانونی جواز بھی فراہم کرنا ہو گا۔

یہ جواز ’ریمارکس‘ کی صورت میں طعنہ زنی کر کے یا تقریروں میں نعرے بازی کے انداز میں قوم کے دکھ درد پر آنسو بہا کر فراہم نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے انہیں آئین کی اس شق کا حوالہ دینا ہو گا جس میں کسی ’نالائق‘ حکومت کے ہوتے سپریم کورٹ کو انتظامی فیصلے کرنے اور انہیں لاگو کروانے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ چیف جسٹس ڈیموں کی تعمیر کے عظیم منصوبہ سمیت  متعدد دیگر احکامات آئین کی شق 184 (3) کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے حاصل خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے دیتے رہے ہیں۔ اس آئینی شق کے فراخدلانہ اور کثرت سے استعمال کے بارے میں ملک کے وکیلوں کی تنظیموں کے علاوہ متعدد لوگ سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ ان فیصلوں کے دوررس نتائج کی وجہ سے سپریم کورٹ کے اس اختیار کی حدود متعین کرنے اور اس اختیار کی وضاحت کرنے کے لئے فل کورٹ سیشن بلائیں تاکہ اس حوالے سے سامنے آنے والے خدشات رفع ہو سکیں۔ چیف جسٹس نے ابھی تک ان درخوستوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا لیکن قومی مصلح کا رول ادا کرنے کا اعلان ضرور کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طرز عمل پر مسکرا کر بات ٹالنے یا اسے میڈیا پبلسٹی اسٹنٹ قرار دے کر نظر انداز کرنے کی بجائے، اب یہ پوچھا جائے کہ کیا چیف جسٹس اپنی مقررہ آئینی حدود سے تجاوز کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ایسی صورت میں انہیں منصف اعلیٰ کی کرسی پر فائز رہنے کا حق کیوں کر حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے اور جیسا کہ مقبول محاورہ میں یہ دلیل دی بھی جا رہی ہے کہ اگر سیاست دان اپنے فرائض پورا کرتے اور اگر وہ کرپشن کی بجائے نظم حکومت چلانے پر توجہ دیتے اور عوام کے مسائل حل کرتے تو نہ فوج کو بار بار سیاست میں مداخلت کرنا پڑتی اور نہ ہی سپریم کورٹ اہم قومی منصوبوں کو پورا کرنے کا بیڑا اٹھاتی۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ منصوبے کس قدر اہم ہیں اور انہیں پورا کرنا وقت کی ضرورت ہے، چیف جسٹس کو تو صرف یہ جواب دینا ہے کہ وہ کس اختیار کے تحت قوم کے کھیون ہار بنے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے ملک کی نگران حکومت کو واٹر پرائسنگ کے ذریعے ڈیم بنانے کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک تو ملک کی نگران حکومت تین ماہ کی عبوری مدت کے لئے غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کروانے کے لئے اختیار سنبھالتی ہے۔ کوئی نگران حکومت منتخب حکومت یا پارلیمنٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اسے پالیسی سازی اور ایسے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہو سکتا جو ملک کے بجٹ اور مالی معاملات پر دوررس اثرات کے حامل ہوں۔ کجا چیف جسٹس اس حکومت سے بنیادی پالیسی کے حوالے سے اقدام کرنے کا مطالبہ کرنے لگیں۔

اس ملک میں چار بار فوج نے سیاست دانوں کو نااہل اور بدعنوان کہتے ہوئے اقتدار سنبھالا اور ہر بار آئین کو منسوخ یا معطل کیا گیا۔ ہر فوجی حکومت ناکام ہوئی اور ملک کے مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بنی۔ تاہم ان سب فوجی آمروں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ انہیں ملک کا آئین یہ اختیار دیتا ہے۔ انہوں نے آئین سے انحراف کیا اور اس آئین شکنی کو قانون کا لبادہ پہنانے کے لئے سپریم کورٹ سے اس اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت درست ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ ملک کی سپریم کورٹ اگرچہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں یہ اعلان کرتی رہی ہے کہ نظریہ ضرورت اب دفن ہو چکا ہے لیکن کسی بھی چیف جسٹس نے ابھی تک کسی بھی طریقہ سے یہ واضح کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کسی سپریم کورٹ کو ملک کا مروجہ آئین یہ اختیار کیسے دیتا رہا ہے کہ آئین کا پابند اور نگران ادارہ خود ہی یہ طے کرلے کہ اسے آئین شکنی کو ’جائز‘ قرار دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر سپریم کورٹ ماضی کی آئینی بے اعتدالیوں کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ کرنے کا حوصلہ کر لیتی تو اس وقت ملک کو ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا جس میں ملک کا چیف جسٹس خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے تمام مسائل حل کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ فوج کے سربراہ تو آئین کو مسترد کرکے حکومتوں کو روندتے رہے ہیں لیکن موجودہ چیف جسٹس تو آئین کی سربلندی کا علم اٹھا کر یہ کام کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے اقدامات اب صرف ایک سیاسی پارٹی کو مطعون کرنے، ایک خاندان کو نشان عبرت بنانے یا ایک انتخاب پر اثر انداز ہونے کا سبب نہیں بن رہے۔ بلکہ جسٹس ثاقب نثار کے اقدامات ایک ایسی روایت کو جنم دے رہے ہیں جس کے مستحکم ہونے کے بعد اس ملک کو حکومت اور پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سب کام سپریم کورٹ اور اس کے فاضل چیف جسٹس ہی کرلیا کریں گے۔ کیا اس صورت حال کے ذمہ دار چیف جسٹس اس ملک کے آئین کے محافظ ہو سکتے ہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1006 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali