معاشرے میں محدود ہوتا مولوی کا کردار!


zafar sultan picمعاشرے میں مولوی کے کردار کا جو تاثر ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ مولوی کی جو پہچان صدیوں پہلے تھی آج بھی برقرار ہے۔ مثال کے طور پر امامت و خطابت صدیوں پہلے بھی مولوی کے پاس تھی آج بھی مولوی امامت و خطابت پر قائم و دائم ہیں، مسجد و مدرسہ کے وارث کل بھی مولوی تھے آج بھی وہی ہیں۔ اسی طرح تجہیز تکفین اور نکاح کی ذمہ داری آج بھی انہی کے پاس ہے۔ مولوی حضرات نے یہ ذمہ داریاں چونکہ ازخود اپنے ذمے لی ہیں اس لئے ان سے کسی نے یہ ذمہ داریاں چھیننے کی کوشش نہیں کی۔ معاشرے میں مولوی کے کردار کااس حد تک جائزہ لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ مولوی کا جو کردار صدیوں پہلے تھا وہ آج بھی برقرار ہے۔

لیکن آج ہر طرف یہ سوال موضوعِ بحث ہے کہ معاشرے میں مولوی کا کردار محدود تر ہے۔ جو لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جتنے شعبہ ہائے زندگی ہیں ان میں مولوی کی نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر شعبہ ہیلتھ کا جائزہ لیں تو 100 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز میں سے بمشکل ایک آدھ ڈاکٹر داڑھی والا یا باقاعدہ مدارس کا پڑھا ہوا ہو۔ رہا سرکاری شعبہ تعلیمات اُس میں مولویوں کی نمائندگی ہیلتھ کی نسبت بہتر ہے کیونکہ عربی اور اسلامیات کے اکثر ٹیچرز مدارس ہی کے ہوتے ہیں لیکن چونکہ دیگر اساتذہ کی نسبت عربی اور اسلامیات کے ٹیچر انتہائی کم تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے مجموعی طور پر مدارس سے پڑھے ہوئے اساتذہ کی سرکاری تعلیمی اداروں میں تعداد ایک یا دو فیصد ہوتی ہے۔ عدلیہ میں مدارس کے پڑھے ہوئے طلباء کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مدارس کے طلباء کی نمائندگی انتہائی محدود پیمانے پر ہے۔ مسجد اور مدرسہ کے علاوہ دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں مولوی کا کردار عددی اعتبار سے انتہائی محدود ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو اعتراض اور سوال کرنے والوں کا اعتراض بے جا نہیں ہے۔ جبکہ مولویوں کی اکثریت اس بات سے انکاری ہے اور حال کی مثال پیش کرنے کے بجائے اپنے شاندار ماضی کی مثالیں پیش کرنے پر مصر ہیں کہ ہمارے اسلاف کی امورِ سلطنت سے لے کر ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمائندگی تھی۔یہ لوگ اپنے شاندار ماضی کچھ یوں پیش کرتے ہیں۔

”برصغیر پاک و ہند کے مدارس اسلامیہ نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم وفنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی و ملی قیادت و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدرسوں کی خدمات بڑی ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اورخطے کے لوگوں کو حریت سے ہم کنار کرنے میں مدارس اسلامیہ اور ان کے قائدین کی قربانیاں آب زر سے لکھی جانے کے قابل ہیں۔ وہ مدارس کے جانباز علماء ہی تو تھے جنہوں نے آزادی کی آواز اس وقت اُٹھائی جب عام لوگ خوابِ غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساس غلامی سے بھی عاری تھے، ان علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا، خصوصاً حضرت مولانا ولی اللہ شاہ ‘ مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا سید احمد شہید، مولانا شاہ اسماعیل شہید، مفتی صدرالدین، حاجی امداد اللہ اور اللہ مہاجرمکی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمدگنگوہی، حافظ ضامن شہید، مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الہندمولانا محمود حسین دیوبندی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا سید حسین احمدمدنی’ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری وغیرہ آسمانِ حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنہوں نے محکومی کی شب تاریک کو انوارحریت کی ضوفشانی سے معمور کر دیا۔

مذکورہ مجاہدین آزادی و علماء کرام سب مدارس اسلامیہ ہی کے فضلاء و فیض یافتہ تھے۔ ایک دو حضرات ایسے ہیں جو باضابطہ کسی مدرسے کے فارغ التحصیل نہ تھے لیکن علمائے کرام کے باضابطہ صحبت یافتہ ضرور تھے۔

یہ تھیں جنگ آزادی میں مدارس اسلامیہ اور علماء کی قربانیوں کی چند مثالیں۔ اسی طرح تاریخ بتاتی ہے کہ مدارس اسلامیہ سے اگر ایک طرف دین و مذہب اور کتاب و سنت کے خدام نکلے ہیں تو دوسری طرف ایسے ایسے شائقین ادب اور ماہرین فن بھی تیار ہوئے ہیں جنہوں نے شعر وادب کی چاشنی، شعر کی سحرانگیزی اور اردو ادب میں اپنی مہارت کی داد وصول کی۔ اردو کے بڑے بڑے رائٹرز پیدا ہوئے جیسے مناظر احسن گیلانی، شمس العلماء تاجور نجیب آبادی، سعید احمد اکبر آبادی اور حفظ الرحمان سیوہاروی جو نہ صرف مضمون نگار یا مصنف بلکہ بے شمار ایڈیٹر اور شاعر بھی۔ حامدالانصاری، ایڈیٹر مدینہ بخنور، مظہرالدین شیرکوٹی، مدیر پرامان دہلی کو کون نہیں جانتا۔ ان علماء کی بڑی خدمات ہیں اردو کے لئے جو بہت زیادہ اہمیت رکھتیں ہیں۔ انہوں نے برما، بنگال، دکن، کابل، بخارا، ایران، سماٹرا، جاوا، کشمیر اور نہ جانے کہاں کہاں دور دراز مقام تک اردو زبان کو پھیلایا ہے۔ مدارس دینیہ میں دور دراز سے تشنگانِ علوم اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ چونکہ برصغیر پاک و ہند میں ذریعہ تعلیم اردو زبان ہی رہی ہے لہٰذا وہ اردو سے شناسا ہو جاتے تھے، نہ صرف شناسا بلکہ اردو کے بہترین مقرر اور خطیب بن جاتے تھے۔ بہت سے شاعر اور ادیب بھی بن جاتے تھے۔ اگر ہم اس امر پر غور کریں کہ ان لوگوں کے جرائد و اخبارات تصانیف وغیرہ سے کتنے لوگوں نے اردو سیکھی اور ان کی تقریروں سے عوام کو زبان سے کتنی شناسائی ہوئی ہے تو یہ دائرہ بہت ہی وسیع ہو جاتا ہے جس کا احاطہ مشکل ہے”

اہل مدارس کا مذکورہ بالا ذکر اپنے اندر ایک روشن و درخشاں تاریخ لیے ہوئے ہے۔ اہل مدارس کے معاشرے میں محدود کردار پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں اگر وہ اعتراض نہ بھی کریں تو اہل مدارس کے اندر سے کوئی سوال کر سکتا ہے کہ جب ماضی میں یہی مدارس رشد و ہدایت کے سرچشمے ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام شعبہ جات میں مکمل رہنمائی کرتے تھے اور ان مدارس سے فارغ التحصیل حضرات کا معاشرے میں بھرپور کردار تھا تو آج محدود کردار کیوں ہے؟

کالم کا دامن چونکہ تنگ ہوتا ہے اس لیے اگلی نشست میں بتائیں گے کہ مولوی معاشرے میں کیسے فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments