پردیس میں خواتین کا گھریلو تشدد سے بچاؤ


lubna mirza 1

امیگرینٹ خواتین میں‌ گھریلو تشدد مقامی خواتین کے معابلے میں‌ ایک زیادہ مشکل صورت حال ہے کیونکہ ان کو کئی تہذیبی اور قانونی بندشوں‌ کا سامنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں‌ کے رسم ورواج اور اعتقاد گھریلو تشدد کا جواز پیش کرکے اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور کچھ ان کی موجودگی سے منکر ہوتے ہیں‌۔ ایک عام آدمی ایسا کچھ کہے تو آپ سوچیں‌ گے کہ چلو ان کی معلومات کم ہیں لیکن مجھے خود دیسی ڈاکٹرز نے کہا کہ انہوں‌ نے اپنی تمام زندگی میں‌ کبھی گھریلو تشدد نہیں‌ دیکھا۔ اس بات سے میں‌ سوچ میں‌ پڑ گئی کہ وہ کس دنیا میں‌رہ رہے ہیں۔ اور مجھے یہ اندازہ ہوا کہ اس موضوع پر لوگوں‌کی معلومات کتنی کم ہیں۔

اگر آپ امریکہ میں باہر کے کسی ملک سے آئی ہیں اور آپ کے خلاف گھریلو تشدد کیا گیا ہے تو یہاں پر آپ کی مدد کے لیے کچھ ہدایات دی گئی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ آپ مدد حاصل کرنے کی حقدار ہیں اور آپ کے حقوق اور ان لوگوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں جو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پولیس کو کال کرنے میں یا خواتین کے شیلٹر استعمال کرنے میں کوئی شرم یا جھجھک محسوس نہ کریں۔ آپ کو ان لوگوں کو اپنا امیگریشن اسٹیٹس دکھانے یا بتانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ان کی جاب ہی یہی ہے کہ وہ مشکل میں گرفتار انسانوں کی مدد کریں۔ ایسا ماضی میں ہو چکا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس طرح ملک سے نکال دیا گیا تھا لیکن اب یہ خدمات انجام دینے والی ایجنسیاں لوگوں کے امیگریشن اسٹیٹس کی بنیاد پر مدد فراہم نہیں کرتیں ۔ جرم کے خلاف ہر انسان کی مدد کی جاتی ہے۔

امریکی قانون میں‌ ’وائلنس اگینسٹ ومن ایکٹ‘ میں‌ کی گئی 1994 اور 2000 کی ترامیم نے امیگرینٹ خواتین کے لیے عوام میں‌ شعور بڑھانے اور ان کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان قوانین نے متشدد افراد کے لیے سزائیں‌ مقرر کی ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے پر کام کیا ہے کہ ان امیگرینٹ والدین کے بچے گھریلو تشدد سے آزاد زندگی گذار سکیں۔

دوسری بات یہ کہ اگر آپ کو یہ کہہ کر ہراساں کیا جارہا ہے کہ بدسلوکی برداشت کرو ورنہ امیگریشن والوں سے شکایت کر کے ملک سے نکلوا دیا جائے گا تو یہ یاد رہے کہ ایسا ہونا ناممکن کے قریب ہے کیونکہ امیگریشن سروس لوگوں کی ذاتی کالز کی بنیاد پر کسی کا پیچھا کرنے نہیں آتیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ لاکھوں امیگرینٹس کے پیچھے ایک کے پیچھے ایک کی بنیاد پر بھاگ سکیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایسا کرنے سے بدسلوکی کرنے والا خود کو بھی ایک خطرے میں ڈالے گا اس لیے آپ اس بات کو سمجھیں کہ یہ ایک خالی دھمکی ہے۔ جہاں‌ طاقت کا توازن بگڑا ہوا ہو توکچھ لوگ اس طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہ ایک کافی عام بات ہے کہ اگر کوئی متشدد صاحب خود امریکی شہری ہیں‌ اور دوسرے ملک سے شادی کرکے بیوی لائے ہیں‌ جن کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے تو وہ اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں‌ اور ڈراتے دھمکاتے ہیں‌ کہ وہ یہ پیپر ورک فائل نہیں‌ کریں‌ گے۔ اگر آپ اپنے شوہر پر انحصار کرتی ہیں کہ وہ گرین کارڈ کے لیے فائل کرے گا اور اگر آپ نے اسے چھوڑا تو اس پروسس میں مشکل پیش آئے گی تو یہ معلوم رہے کہ امریکی قانون کے تحت گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو حق حاصل ہے کہ وہ یہ رشتہ چھوڑ کر اپنے بل بوتے پر خود یہ قانونی کاغذات حاصل کرسکیں۔ خواتین کے شیلٹر میں کام کرنے والے لوگ آپ کی اس سلسلے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اگر آپ خوفزدہ ہیں تو کسی دوست سے کہیں کہ وہ آپ کی طرف سے قانونی اہل کاروں سے رابطہ کریں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے دوست انتہائی کم ہوں کیونکہ ایسے افراد جو گھریلو تشدد کرتے ہیں وہ اپنے شکار کو تنہا کرتے ہیں۔ ان کو انگریزی سیکھنے، گاڑی چلانے، نوکری کرنے یا باہر کسی سے بات کرنے سے روکتے ہیں تاکہ ان کے جرم پر پردہ پڑا رہے۔

’وی اے ڈبلیو اے‘ کے قانون کے مطابق اگر کسی متشدد شوہر نے خود سے ویزا ایکسپائر ہونے دیا اور پھر اپنی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر بیوی کی شکایت لگا دی کہ اس کو ملک سے نکال دیا جائے تو اس قانون کے تحت یہ خواتین اس بے دخلی سے ریلیف حاصل کرسکتی ہیں۔ جج یہ دیکھے گا کہ آپ کا کردار کس قسم کا ہے جس سے مراد یہ کہ کیا آپ جرائم میں‌ ملوث ہیں‌؟ کیا چیز جرم ہے اور کیا نہیں‌ وہ تمام ملکوں‌ میں‌ مختلف ہیں اور جتنا ہوسکے ان کے بارے میں‌ جاننا ضروری ہے۔ آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ آپ پچھلے تین سال سے امریکہ میں‌ رہی ہیں، اوریہ کہ آپ کے بچوں‌ کو واپس اپنے ملک جا کر نہایت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ یہ سب دیکھنے کے بعد آپ کو قانونی شہری کا درجہ دے دیا جائے گا۔

کئی متشدد افراد دوسرے ملکوں‌ میں‌ جاکر غریب یا مڈل کلاس لڑکیوں‌ سے شادی کرکے ان کو امریکہ لے آتے ہیں۔ ان میں‌ سے کئی خواتین نہ تو انگریزی جانتی ہیں‌، نہ گاڑی چلانا اور نہ ہی ان کو امریکی قانون اور اپنے حقوق کا کچھ علم ہوتا ہے۔ یہ قصہ صرف جنوبی ایشیائی افراد کا ہی نہیں، میں‌ ایسے کئی افراد کو جانتی ہوں‌ جو کئی مختلف ملکوں‌ کے ہیں۔ میری اپنی بہت پرانی اچھی دوست ساؤتھ امریکہ سے ہے۔ اس کا پہلا گورا شوہر اس کو شادی کرکے لے آیا اور گھر میں‌ قیدی بنا لیا۔ وہ بہت ذہین لڑکی تھی، اس نے اپنے شوہر کی نجی کمپنی پر ہفتے میں‌ سات دن کام کرکے اس کو ترقی دی اور خود ہی سیسمی اسٹریٹ دیکھ دیکھ کر اتنی انگریزی سیکھ لی کہ باہر کسی سے بات کرسکے۔ وہ اپنے شوہر سے کم عمر بھی تھی اور خوبصورت بھی۔ کہنے لگی وہ مجھ پر مستقل نظر رکھتا تھا۔ ایک دفعہ وہ لوگ کہیں‌ شاپنگ پر گئے تو وہ ایک قطار میں‌ لگے کپڑے دیکھ رہی تھی۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ مروڑا اور ساتھ میں‌ گاڑی میں‌ لے گیا اور بولا وہ کالا آدمی جو وہاں‌ کھڑا تھا وہ تمھیں‌ پسند ہے جو تم اس کے پاس کھڑی تھیں۔ وہ حیران ہوگئی کہ کون کالا آدمی، اردگرد کون لوگ کھڑے ہیں‌ اس نے اس بات پر دھیان نہیں‌ دیا تھا۔ کئی بار اس کو تشدد کی وجہ سے گھر سے نکل کر شیلٹر میں‌ پناہ لینی پڑی۔ اس نے آخر کار اپنے شوہر سے طلاق لی اور اپنے بل بوتے پر گرین کارڈ کے لیے اپلائی کیا۔ اس آدمی نے کافی روڑے اٹکانے کی کوشش کی اور امیگریشن والوں‌سے یہ تک کہہ دیا کہ اس لڑکی نے مجھ سے گرین کارڈ کے لیے نقلی شادی کی ہے۔ لیکن ان افسروں‌ نے اس کی نہیں‌ سنی۔ اتفاق کی بات تھی کہ ان میں‌ ایک افسر کی اپنی بیٹی کے گھر میں‌ تشدد چل رہا تھا اور وہ اس کی مدد کررہے تھے تو اس طرح‌ انہوں‌ نے اپنے دل میں‌ ہمدردی محسوس کی اور اس کی سچوئیشن کو سمجھا۔ اب اس نے پی ایچ ڈی مکمل کرلی اور کالج میں‌ پروفیسر لگ گئی۔ اس کا دوسرا شوہر بھی گورا ہے۔ وہ ایک پڑھا لکھا اور اچھا آدمی ہے۔ دونوں‌ ساتھ میں‌خوشی خوشی رہتے ہیں۔

‘جینڈر بیسڈ اسائلم‘ کے قانون کے تحت اگر آپ کی جان کو واپس اپنے ملک جانے سے خطرہ ہے تو آپ اس ویزا کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ میری ایک اچھی دوست سائکولوجسٹ ہے۔ اس نے جب اپنے شوہر سے طلاق لی تو اس کے سسرال سے دھمکیاں‌ ملیں‌ کہ تم لاہور واپس آکر دیکھو، ہم تمھیں‌ جان سے مار دیں‌ گے تو اس طرح‌ کی صورت حال میں‌ آپ یہ ویزا حاصل کر سکتی ہیں۔

سر نہ ڈھانکنا ایران میں‌ غیر قانونی ہے، امریکہ میں‌ نہیں، ہم جنس پرست ہونا انڈیا میں‌ غیر قانونی ہے کینیڈا میں نہیں، گائے کا گوشت کھانا انڈیا میں‌ غیر قانونی ہے ویت نام میں‌ نہیں، شراب پینا سعودی عرب میں‌ غیر قانونی ہے انڈیا میں‌ نہیں۔ جس ملک میں‌ بھی رہیں‌ وہاں‌ کے قوانین سمجھیں۔

آپ جہاں‌ سے بھی امریکہ آئی ہیں، خود کو ایک دیسی دائرے میں‌ بند مت کریں۔ دوسرے ملکوں‌ کے لوگو‌ں سے اور اپنے امریکی پڑوسیوں‌ سے ملتی جلتی رہیں۔ چاہے میکڈونلڈ میں‌ برگر تلنے کرنے کی جاب ہی کیوں نہ ہو، ہر انسان کو گھر سے نکل کر کچھ نہ کچھ کرنا چاہئیے وہ صرف پیسوں‌ کے لیے نہیں‌ ہوتا بلکہ اس سے اپنے اردگرد کی دنیا سمجھ میں‌ آتی ہے۔ ہر شہر میں‌ مہاجرین کا ایک نیٹ ورک سا بن جاتا ہے جیسے ویت نامی لوگوں‌ کا، چینی لوگوں کا اور فلپائنیوں‌ کا وغیرہ وغیرہ۔ وہ اچھا ہے کہ اپنے جیسے لوگوں‌ سے آپ گھل مل سکتے ہیں لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ گاسپ اور سوشل اسٹیٹس کم ہوجانے کے خوف سے لوگ ایک دوسرے سے باتیں‌ چھپاتے ہیں کیونکہ منہ سے نکلی اور سارے جہاں‌ میں‌ خبر پٹ گئی۔ اس طرح‌ آپ کو کون مشورہ دے گا؟ مشورہ دینے والے خود بھی ڈرتے ہیں۔ اس لیے اس سرکل سے باہر کے لوگ آپ کو بہتر مشورہ بھی دے سکیں‌ گے اور آپ کی مدد بھی کر پائیں‌ گے۔

اس کے علاوہ جو مختلف ملکوں‌ کے مہاجرین نے اپنے اپنے حلقے بنائے ہیں‌ وہ یہی سمجھتے ہیں‌ کہ باقی امریکیوں‌ سے ہم بہتر ہیں۔ ایسا کئی بار ہوا کہ خود ان کمیونٹیز کے لوگو‌ں نے ان خواتین کو طلاق لینے سے روکا اور وقتی صلح صفائی کرادی۔ پھر جب گھروں ‌میں‌ رات کے بیچ میں‌ مار کٹائی چل رہی ہوتی ہے تو یہ لوگ آپ کی مدد کو نہیں‌ آتے۔

جب بھی آپ خود کو یا اپنے بچوں‌ کو خطرے میں‌ گھرا محسوس کریں‌ تو 911 کو ضرور کال کریں‌ اور شیلٹر بھی جائیں۔ ان چیزوں سے ریکارڈ بنتا ہے جس کو آپ وقت پڑنے پر اپنے کیس کے دفاع کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔

ہر کسی کو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے بری خبریں دور دراز کہیں انجانے لوگو ں کو ہی پیش آتی ہیں جو اخبار یا ٹی وی میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہمارے اپنے گھروں کی ہیں اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں اور ان کا شکار کوئی بھی کسی بھی وقت بن سکتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کو بھی تعلیم یافتہ کریں خاص کر لڑکیوں کو اور ان کو ان کے امریکی حقوق اور قوانین سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی اور اپنی اولاد کی حفاظت کرنے کے لائق بن سکیں۔

ایک فیملی انڈیا سے ایک لڑکی بیاہ کر لے آئی اپنے بیٹے کے لیے۔ بیٹا امریکہ میں‌ پلا بڑھا تھا لڑکی ساری زندگی گاؤں‌ سے نہیں‌ نکلی تھی، وہ بہت مختلف تھے ان کی آپس میں‌ نہیں‌ بنی۔ اس کا ایک بچہ بھی ہوا۔ اس لڑکی کو ان لوگوں‌ نے بہلا پھسلا کر جہاز میں‌ سوار کراکے واپس انڈیا بھیج دیا۔ بچہ بھی رکھ لیا۔ اب وہ وہاں‌ گاؤں ‌میں ‌بیٹھی روتی رہتی ہے جہاں‌ چار لوگ اسے بتاتے ہیں‌ کہ وہ کتنی بری بیوی تھی۔ ایسے ظالم لوگ ہیں‌ دنیا میں‌ جو صرف اپنے بارے میں‌ سوچتے ہیں۔ بغیر تعلیم اور پیسے کے وہ وہاں‌ سے کیا کرسکتی ہے؟

امریکی ’ہپا قانون‘ کے تحت ہم اپنے ایک مریض کی انفارمیشن دوسرے مریض یا کسی بھی اور بندے سے شئیر نہیں کرسکتے ۔ اس سے ڈاکٹر کو ڈھائی لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ اس لیے آپ اپنے ڈاکٹر سے پرسنل ایشوز کو اس ڈر کے بغیر ڈسکس کرسکتی ہیں کہ وہ آپ کے گھر کے کسی اور شخص کو آپ کی اجازت کے بغیر کچھ بتائیں گے۔

اگر آپ نائن ون ون کو فون کریں اور وہ آپ کی بات یا زبان نہ سمجھ سکیں تو آپ ان سے کہیں کہ مترجم کا انتظام کریں۔ دنیا کے زیادہ تر ملکوں کی زبان جاننے والے پولیس کی مدد کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں اور وہ آپ کی زبان سمجھنے والے لوگوں سے آپ کی بات کروا سکتے ہیں۔ آپ مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہیں لیکن سب سے بڑی مدد تو انسان خود اپنی ہی کرسکتا ہے۔ لوگ صرف مشورہ دے سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments