یہودی ایجنٹ اور شریف حکومت


\"asif

عمران تو ہوا یہودی ایجنٹ، حضرت مولانا کے ہاں کیا رات میں فرشتے اترتے ہیں کہ قبلہ دامن نچوڑیں تو وہ وضو کے لیے کچھ تبرک اکٹھا کرکے ساتھ لے جائیں ؟۔ امام الہند یاد آتے ہیں،کہا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے ،سینے میں دل نہیں ہوتا کیا اس کی آنکھ سے مروت بھی اٹھ گئی؟

مولانا جب یہ ارشاد فرما رہے تھے ، شرافت کی سیاست بھی ان کے پہلو میں موجود تھی۔ وزیر اعظم بخوبی جانتے ہیں کہ انتہا پسندی نے اس ملک کی پور پور لہو کر دی ہے۔ پھر کے پی کے سماج کی اپنی ایک ساخت ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں یہودی ایجنٹ کا الزام شاید اتنی آگ نہ لگائے لیکن کے پی کے آگ میں جل رہا ہے۔ ڈرون حملوں کے ذریعے ہونے والے درندگی اور دیگر عوامل نے ایک خاص نفسیات تشکیل دے رکھی ہیں۔ یہاں کسی کو یہودی ایجنٹ کہا جائے تو اس کے نتیجے میں کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔

عمران کے ساتھ کل کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟مولوی صاحب یا وزیر اعظم صاحب ؟جو اپنے مکھڑوں پہ آج کل کالا کالا چشمہ لگا کر اپنی بصیرت کا ابلاغ کرتے پھرتے ہیں۔ کیا مناسب نہ ہوتا شرافت کی سیاست وہیں مولانا کو ٹوک دیتی کہ ہمارا عمران سے سیاسی اختلاف ضرور ہے لیکن سیاست میں یہ اسلوب گفتگو اب قابل برداشت نہیں ہے۔ ذرا تصور کیجیے وزیر اعظم کا اخلاقی وجود کتنا توانا ہو جاتا اگر وہ یہ کام کرگزرتے۔ لیکن یہ وہ کوہ کنی ہے شرافت کی سیاست کا زہرہ جس کے تصور ہی سے آب ہو جائے۔ ن لیگ کی سیاست صرف مبینہ طور پرہی شرافت کی سیاست رہی ہے ورنہ عمل کی میزان پر یکسر ایک دوسرا روپ ہمارے سامنے آتا ہے۔

ویسے تو شرافت کی سیاست پر دیوان لکھے جا سکتے ہیں لیکن نمونے کے طور پر تحریک انصاف کی خواتین کے بارے میں جناب رانا ثناء اللہ کے تازہ ارشادات ہی کافی ہیں۔ مائیں بہنیں ، ہماری تہذیبی روایت ہے کہ، سانجھی ہوتی ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے اسلوب گفتگو نے مگر اس کو بانٹ دیا ہے۔ انہوں نے ماضی میں بھی بہنوں بیٹیوں کے بارے میں ایسا ایسا زہر اگلا کہ بیان سے باہر ہے۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں سب سے بے ہودہ اورغلیظ گفتگو شیخ رشید نے کی اور گاہے اسمبلی کے فلور پر نواز شریف صاحب کی موجودگی میں کی۔ شرافت کی سیاست ایک دفعہ بھی شیخ رشید کو یہ نہ کہہ سکی کہ اسمبلی میں بازاری زبان استعمال کرنے سے اجتناب کرے۔ یہ شخص اسمبلی میں جتنی غلاظت پھیلاتا ، شرافت کی سیاست اس کی اتنی ہی بلائیں لیتی۔

جن دنوں ان نون غنوں کا نعرہ تھا کہ ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے انہی دنوں محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کسی تقریب میں لی گئی تصاویر شائع کرا کر عوام میں تقسیم کی گئیں جن پر لکھا تھا : تکلف برطرف ہم تو سر بازار ناچیں گے، ہمارے ساتھ اس گھر کے درودیوار ناچیں گے۔ بھٹو کی بیوی اور بیٹی کی تذلیل کرنے والی شرافت کی یہ سیاست اس وقت با لکل گونگی ہو گئی جب قبلہ زعیم قادری ایک تقریب میں کولہے مٹکاتے اور ٹھمکے لگاتے خواتین و حضرات کو شریفانہ رقص کے اسرار و رموز بتاتے پائے گئے۔

جمائمہ خان پاکستان کی بھابھی تھیں۔ انہوں نے چند ٹائلیں خرید کر باہر بھیجیں ان پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا۔ ابھی عمران نے رائے ونڈ کے گھیراؤ کی بات کی تو طبلچیوں نے مشرقیت راگ گانا شروع کر دیا کہ کسی کے گھر جانا اچھی بات نہیں۔ عمران تو ابھی راے ونڈ نہیں آئے لیکن شرافت کی سیاست نے جمائما کے گھر کے باہر مظاہرہ کر کے اس مبینہ شرافت کی حقیقت آشکار کر دی۔ قاضی حسین احمد جیسا نجیب آدمی اتفاق ہسپتال سے علاج کروا بیٹھا۔ شرافت کی سیاست چونکہ کریانے سٹور سے ایک خاص نسبت رکھتی ہے وہ قاضی صاحب کے پاس آئی کہ ان کے شخصی احترام میں علاج پر اٹھنے والے اخراجات نہیں لیے جائیں گے۔ قاضی صاحب نے مگر ایک ایک پائی ادا کر دی کہ وہ اپنے ہی مزاج کے آدمی تھے۔ چند سال بعد جب قاضی صاحب سے سیاسی اختلافات ہوئے تو شرافت کی سیاست نے ایک نون غنے سے قاضی حسین احمد کے خلاف اخبارات میں اشتہارات شائع کروانے شروع کر دیے۔ ان اشتہارات کے اوپر مولانا مودودی کی تصویر بھی چھپی ہوتی تھی تا کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مولانا کے اصل جانشیں تو میاں نواز شریف ہیں۔ ایسے ہی ایک اشتہار میں قاضی صاحب کو یہ طعنہ دیا گیا کہ انہوں نے اتفاق ہسپتال سے مفت علاج کرایا۔ قاضی صاحب شرافت کی سیاست خوب سمجھتے تھے۔ انہوں نے ادائیگی کی ساری رسیدیں سنبھال رکھی تھیں۔ انہوں نے رسیدیں سامنے رکھ دیں۔ لیکن وہ کوئی عام سیاست نہیں تھی جو شرمندہ ہوتی۔ وہ شرافت کی سیاست تھی۔

نوابزادہ نصر اللہ خان کا یہ بیان قوم کیسے بھول سکتی ہے کہ جب انہیں شرافت کی سیاست نے ہاتھ دکھائے تو وہ چیخ اٹھے: ’’ ساری عمر میں نے سیاست دانوں سے معاملہ کیا اور سرخرو ہواپہلی بار تاجروں سے واسطہ پڑا اور افسوس کر رہا ہوں ‘‘۔ شرافت کی صحافت بھی چونکہ ان کی جیب میں پڑا ہے اس لیے دعوی یہی رہا کہ وضع داری کی امین یہی شرافت کی سیاست ہے۔ قلم فروشوں نے عہدے مناصب اور لقمہ تر کے لیے اس تاثر کو مضبوط کیا ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ محمد خان جونیجو کو ابھی قبر میں نہیں اتارا گیا تھاکہ شرافت کی سیاست مسلم لیگ کی قیادت پر ہاتھ صاف کرنے بیٹھ گئی۔ قبر کی مٹی خشک ہونے کا انتطار نہ کرتے قبر میں اتارے جانے کا انتظار تو کر لیا ہوتا۔

ارشاد حقانی جیسے بزرگ صحافی کی گواہی موجود ہے کہ شریفانہ سیاست نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایاتھا اور حامد میر کی گواہی تو آپ نے سن ہی لی ہو گی۔ برادرم رؤف کلاسرہ کا کہنا ہے انہیں ٹائٹ کرنے کے لیے بھی وزیر اعظم ہاؤس سے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ گویا اسلامی جمہوریہ پاکستان شریف میں اب وہی رہ سکتاہے جو مکمل شرافت کے ساتھ رہے۔ عمران خان تو سوال اٹھاتا ہے۔ یہودی ایجنٹ کہیں کا۔ یہ گستاخی کیسے برداشت کی سکتی ہے چنانچہ تازہ ارشاد ہے دہشت گردوں اور دھرنے والوں کا مقصد ایک ہے۔ ادھر مولانا صاحب جن کے بارے میں تاثر ہے کہ وصولی تک ان کی سیاست اصولی ہوتی ہے فرماتے ہیں پانامہ لیکس یہودی سازش ہے۔ قبلہ مولوی صاحب کے ایک برادر خورد خوشاب میں ڈپٹی کمشنر رہ چکے ہیں ابھی ابھی ان کا تبادلہ کسی مزید اچھے منصب پر ہو گیا ہے۔ یہ سوال پوچھنا بھی یقیناًیہودی سازش ہی ہو گا کہ یہ صاحب اس منصب تک کیسے پہنچ گئے اورانہوں نے مقابلے کا امتحان کب پاس کیا۔ مشرف دور میں شہداء کی زمینوں والی بات کرنا بھی یہودی سازش ہی ہو گی۔ اس لیے خاموش ہی رہنا چاہیے۔

معلوم نہیں اپوزیشن کے منصب کے بارے میں مولوی صاحب کا کیا خیال ہے کہ وہ بھی یہودی سازش تو نہیں ؟کیونکہ صاحب ہربار اعلان کلمہ الحق کے لیے حکومت میں تشریف فرما ہوجاتے ہیں۔ یہودی ایجنٹ اس میں میخیں نکالیں گے لیکن میرے جیسے طالب علم کے نزدیک تو اس میں تو کوئی حکمت ہے۔ ادھر چھوٹے مولوی صاحب، جنہوں نے ڈاڑھی اس وقت رکھی جب وزیر اعلی بننے میں کلین شیور کاوٹ پیدا کرتی نظر آئی، فرماتے ہیں : ’’میاں صاحب حکم دیں ہم بنی گالہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ‘‘۔

عمران خان سے ہمیں بھی اختلاف ہے۔ اور ان کی بعض غلطیاں پہاڑوں جیسی ہیں۔ لیکن یہ اہل اقتدار باجماعت ان کی ہجو کیوں کہہ رہے ہیں؟چھلنی تو بولے قبلہ، لیکن چھاج کیوں بولے جس میں سو چھید۔ انتخابی معرکہ لندن میں ہوا مٹھائیاں ن لیگ بانٹ رہی ہے اورجے یو آئی کی وارفتگیاں ایسی ہیں جیسے صادق صاحب برطانیہ میں مدارس چلا کر دین کی خدمت انجام دے رہے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف صاحب کی کابینہ میں اسحاق ڈار جیسوں کی جگہ صادق جیسا ٹیکسی ڈرائیور کا بیٹا کب شامل ہو گااور کب وہ وقت آئے گا جب مولانا فضل الرحمن صاحب سینیٹ کا ٹکٹ طلحہ محمود جیسے صاحب ثروت لوگوں کی بجائے کسی ٹیکسی ڈرائیور کو دے کر ثواب دارین حاصل کریں گے؟ ویسے آپ کا کیا خیال ہے مولانا اس وقت نواز شریف کا ساتھ صرف ثواب دارین حاصل کرنے کے لیے دے رہے ہیں؟

صدیوں بعد ایک ایسی حکومت آئی ہے جس میں تقوی اور انصاف جیسے اعلی اسلامی اصول کارفرما ہیں،شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں، مولانا بھی اس حکومت کا حصہ ہیں۔ شاید یہی چیز باعث برکت بنی ہے۔ عمال حکومت کی کمر خشیت الہی سے دوہری ہو رہی ہے ،بیت المال بھر ا پڑا ہے ،خوش حالی اتنی ہے کہ اسحاق ڈار صبح نکلتے ہیں شام ہو جاتی ہے لیکن زکوۃ لینے والا کوئی نہیں ملتا۔۔۔ اتنی مثالی اسلامی حکومت کے خلاف عمران خان احتجاج کر رہا ہے۔ یہودی ایجنٹ کہیں کا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔