علی گیلانی کی رہائی


mujahid ali

پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی گیلانی کو تین برس بعد افغانستان کے علاقے غزنی سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ افغان حکومت کے اعلان کے مطابق سوموار کی صبح غزنی میں افغان فورسز اور امریکی فوجیوں کے مشترکہ آپریشن میں ایک نامعلوم دہشت گرد گروہ کے قبضہ سے علی گیلانی کو رہا کروایا گیا۔ تین برس بعد پاکستان کے اہم لیڈر کے فرزند کی رہائی ایک اچھی خبر ہے لیکن یہ اس علاقے میں دہشت گرد گروہوں کی قوت اور اثر و رسوخ کے بارے میں کئی سوال بھی سامنے لاتی ہے۔

علی حیدر گیلانی اس وقت کابل میں ہیں جہاں ان کا طبی معائینہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد انہیں پاکستان بھجوانے اور اہل خاندان سے ملوانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخلیوال نے فون کرکے یوسف رضا گیلانی کو علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں القاعدہ کے ہمدرد ایک گروہ کے قبضہ سے رہا کروایا گیا ہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس دوران افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستان کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کو بھی علی گیلانی کی رہائی کی اطلاع دے دی تھی۔ ملک بھر میں اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور سے پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے مسرت کا اظہار کیا ۔ اس خبر کے عام ہوتے ہی کئی شہروں میں مٹھائیاں بانٹی گئیں اور مبارک باد کے پیغاموں کا تبادلہ کیا گیا۔

ali_haider_gilani

اگرچہ یہ ایک خوشی کی خبر ہے اور خاص طور سے علی حیدر گیلانی کے خاندان نے اس خبر پر سکھ کا سانس لیا ہوگا کہ وہ تین برس بعد اپنے بیٹے، بھائی اور عزیز سے مل سکیں گے۔ اس سے قبل مارچ میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو ساڑھے چار برس قید کے بعد اچانک رہا کردیا گیا تھا اور وہ کوئیٹہ کے نزدیک ایک مقام پر پائے گئے تھے۔ علی گیلانی کو تین برس تک قید رکھا گیا۔ تاہم ان کے خاندان کو ان کی خیریت اور زندہ ہونے کی اطلاع دی جاتی رہی تھی۔ گزشتہ برس کے دوران ایک بار یوسف رضا گیلانی سے علی گیلانی کی فون پر بات بھی کروائی گئی تھی۔ یہ کال بھی افغانستان سے ہی آئی تھی۔ شہباز تاثیر بھی افغانستان سے رہا ہوئے تھے اور انہیں ان کے اغوا کاروں نے ہی بلوچستان لاکر چھوڑ دیا تھا۔ شہباز کی رہائی کے حوالے یہ تاثر ہے کہ انہیں تاوان لے کر رہا کیا گیا تھا جبکہ علی گیلانی کو ایک فوجی آپریشن میں بازیاب کروانے کی خبرآ ئی ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ ان دونوں سانحات کے بارے میں ذیادہ تفصیلات اور حقائق منظر عام پر نہیں آسکیں گے۔ تاثیر خاندان نے شہباز تاثیر کی رہائی کے بعد اغوا کاروں اور ان حالات کے بارے میں ذیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں ، جن میں شہباز کو حراست کی طویل مدت صرف کرنا پڑی تھی۔ گیلانی خاندان بھی اس بارے میں خاموشی اختیار کرناہی مناسب سمجھے گا۔

صرف اس بات سے پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی قوت اور اثر و رسوخ کے بارے میں اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ شہباز تاثیر اور علی حیدر گیلانی کا اغوا ہائی پروفائل معاملات میں آتا ہے لیکن اس دوران متعدد شہریوں کو تاوان کے لئے اغوا کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ شہباز اور علی حیدر کے اغوا اور طویل حراست کے حوالے سے یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔ یہ پارٹی شروع سے طالبان اور انتہا پسندی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرتی رہی ہے۔ اسی لئے 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی ، اے این پی اور ان کی ہم خیال دوسری سیاسی پارٹیوں کو دہشت گرد گروہوں کی طرف سے دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ طالبان سے ہمدردی کا اظہار کرنے والی کسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے کسی بااثر شخص کو اس قسم کے جرم کا نشانہ نہیں بنایا گیا، جس کا سامنا پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں کے بیٹوں کو کرنا پڑا۔ سلمان تاثیر کو تو جنوری 2011 میں ان کے محافظ نے ہی قتل کردیا تھا۔

امریکہ اور اتحادی افواج نے پندرہ برس تک افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے جنگ کی ہے لیکن یہ ممالک اس میں ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد کرکے سرخرو ہونے کی مضحکہ خیز کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان افغان طالبان کے ساتھ تعلقات اور رابطوں اور ان کے اہل خاندان کو اپنے ملک میں پناہ دینے کا اعتراف کرتا ہے۔ اس کے باوجود اس کے شہری اس قسم کے گھناؤنے جرائم سے محفوظ نہیں رہتے۔ مسلح گروہ خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں وہ مقامی آبادیوں کے تعاون اور کسی حکومت کی انٹیلی جنس کی سرپرستی کے بغیر اتنے مؤثر طریقے سے طویل عرصے تک دہشت گردی اور جرائم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ عام طور سے حکومتیں اور ملکوں کے ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، جو دوسرے فریق کو نقصان پہنچا سکے۔

حالات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کام میں سب ہی ملک ملوث رہتے ہیں اور کوئی بھی ایسے جرم سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ تاہم اس خطے میں تین دہائیوں سے جاری مسلح جد و جہد اور ان گروہوں کو مکمل طور سے بے بس کرنے کی کوششوں میں ناکامی سے ، سب کو یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی سرپرستی کسی نہ کسی وقت سرپرستی کرنے والوں کے لئے بھی مشکلات کا سبب بن جاتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali