لولی لنگڑی جمہوریت کس پل پر بنتی اور ٹوٹتی ہے ؟


ایک شریف بندے نے خواب دیکھا، کہ عید قرباں پر اس کی جانب سے قربان کیا جانے والا بکراجنت میں لنگڑا لنگڑا کر گھاس چرر رہا ہے، اس نے بکرے سے پوچھاکہ ایسے کیوں چل رہے ہو؟ تو بکرا بولا : ” میاں جی، جب تک آپ کے فریزیر میں میری ران پڑی رہے گی اور آپ کی شکم پری نہیں کرے گی، اس وقت تک مجھ کو ایسے ہی چلنا پڑے گا۔ ‘‘ میاں جی کی سمجھ میں بات آگئی، اور فوری طور پر بکرے کی ران صدقہ کرکے اپنی قربانی بارگاہ الہی میں قبول کروالی۔

وطن عزیز میں جب بھی جمہوری دور آیاتو، سیاست دانوں، دانشوران ملت و جمہوریت نے جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہ پہنچنے کی وجہ یہی بتائی کہ جمہوریت لولی لنگڑی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ملکی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو، یہ حقائق علم میں آتے ہیں، کہ دستور ساز اسمبلی نو سال تک دستور سازی نہ کرسکی۔ اور قیام پاکستان سے لے کر پہلے مارشل لاء نافذ ہونے تک نصف درجن سے زائد وزیراعظم تبدیل ہوئے ۔ یہاں تک کہ جواہر لال نہرو کو کہنا پڑگیا، ” میں اتنے پاجامے نہیں بدلتا، جتنے پاکستان کے وزیراعظم بدلتے ہیں۔ ‘‘ یہ سب کیسے ہوا؟ آئیے اس پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔

قائد ملت کی شہادت کے بعد گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین وزیراعظم بن گئے اور سینیئر بیورو کریٹ وزیر خزانہ غلام محمد گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ قائد ملت، گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کے اختیارات میں دخل اندازی کرتے تھے، اب گورنر جنرل غلام محمد وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے اختیارات میں مداخلت کررہے تھے۔ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی کے خواہاں تھے۔ جب یہ خبر گورنر جنرل غلام محمد تک پہنچی تو، خواجہ ناظم الدین کی حکومت آرمی چیف ایوب خان کی تھپکی کے ساتھ برطرف کردی گئی۔ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی اقدام کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور کوئی مزاحمت نہیں کی۔

امریکہ میں سفیر کی خدمات انجام دینے والے جواں سال محمد علی بوگرہ وزیر اعظم بن گئے۔ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے بخوشی ان کو قبول کرلیا اور مسلم لیگ کی صدارت بھی ان کو سونپ دی۔ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ کے وزراء کی اکثر یت وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں شامل ہوگئی۔ اب وطن عزیز میں سیاست دانوں کی بجائے، سابقہ نوکر شاہی سے تعلق رکھنے اعلی افسران گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں خواجہ ناظم الدین، فضل الرحمن و دیگر کی طرف پیش کی گئی آئینی ترامیم سے وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے اتفاق کیا، دستور ساز اسمبلی نے پروڈا کا قانون منسوخ کردیا اور ساتھ ہی انڈیا ایکٹ 1935 ء میں ترمیم کرتے ہوئے، گورنر جنرل کے کابینہ توڑنے کے اختیارات کم کردیے، عجلت میں کی گئی ان ترامیم کو اسی روز گزٹ میں بھی شائع کردیا گیا۔ اور اعلان کیا گیا، کہ قائد اعظم کے یوم ولادت پر 1954 ء کو نیا آئین نافذ کردیا جائے گا۔ جس وقت دستور ساز اسمبلی نے یہ ترامیم منظور کیں، گورنر جنرل غلام محمد کی موجودگی دارالخلافہ کراچی میں نہیں تھی۔

گورنر جنرل غلام محمد کو جب آئینی ترامیم کے متعلق پتا چلاتو، انہوں نے 24 اکتوبر 1954 ء کو وطن عزیز میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے، دستور ساز اسمبلی توڑنے کا اعلان کردیا۔ اسپیکر دستور ساز اسمبلی مو لوی تمیزالدین نے گورنر جنرل کے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا۔ سندھ چیف کورٹ کی طرف سے متفقہ فیصلہ آیا، کہ دستور ساز اسمبلی خود مختار ادارہ ہے اوردستور ساز اسمبلی کواس وقت تک نہیں توڑی جاسکتی، جب تک وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرلیتی۔ وفاق نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت سے رجوع کیا، وفاقی عدالت کے ججوں کی اکثریت نے چیف کورٹ سندھ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور دستور ساز اسمبلی توڑنے کے گورنر جنرل کے اقدام کو آئینی قرار دے دیا۔

گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی اقدام کی وفاقی عدالت کی جانب سے جائز قرار دینے کے بعدوطن عزیز میں نظریہ ضرورت وجود میں آیا۔ گورنر جنرل غلام محمد نے اسمبلی تو برخاست کردی تھی، لیکن وزیراعظم محمد علی بوگرہ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھاکیونکہ ان کا تعلق نوکر شاہی سے تھا اور امریکہ بہادر کے بھی منظور نظر تھے۔ وزیراعظم محمد علی بوگرہ نے نئی کابینہ تشکیل دی اور آرمی چیف ایوب خان کو وردی سمیت وزیر دفاع مقرر کردیا۔ وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے کے بعدجنرل ایوب خان نے کہا : ” میں نے وزارت دفاع اس لیے قبول کی کیونکہ میں سیاست دانوں اور فوج کے درمیان پل بننا چاہتاتھا۔ ‘‘

فوج اور سیاست دانوں کے درمیان جو مفاہمتی پل جنرل ایوب خان بنا یا تھا، وطن عزیز میں پہلے مارشل لاء کے نفاذ تک اسی پل پر وزرائے اعظم اور حکومتوں کی تبدیلی کا فیصلہ ہوتا رہا۔ اسی سیاسی و فوجی مفاہمتی پل پر طے ہوا کہ وطن عزیز مزید جمہوریت کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لیے مارشل لاء لگایا جائے۔ اسی پل پر اکٹھا ہوکر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر سیاست دانوں نے جنرل ایوب خان کی صدارتی مہم، مادر ملت فاطمہ جناح کے خلاف چلائی۔ مادر ملت کو غدار ملت بھی اسی پل پر قرار دیا گیا۔ اسی پل پر فیصلہ ہوا کہ ستر کے عام انتخابات کی کامیاب جماعت عوامی لیگ کو حکومت نہ دی جائے اور اسمبلی کا اجلاس جو بلایا گیا ہے، اس کو ملتوی کیا جائے۔ اسی پل پر فیصلہ ہوا کہ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی جائے۔ اور سقوط ڈھاکہ کے بعد پیپلزپارٹی کو حکومت دی جائے۔

اسی سیاسی و فوجی مفاہمتی پل پر چند سیاست دانوں کی فرمائش پرپانچ جولائی 1977 ء کو مارشل لاء لگایا گیا اور منصوبہ بندی کرکے منتخب وزیر اعظم کا عدالتی قتل کیا گیا۔ اسی پل سے ایم۔ کیو۔ ایم بنانے کا فیصلہ ہوا، تاکہ اس وقت کی مقبول سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی مقبولیت کو ٹھیس پہنچے۔ اسی پل پر لسانی، علاقائی، مذہبی و مسلکی منافرت پر مبنی نعروں کی گونج سنائی دی۔ اسی پل پر فیصلہ ہوا، کہ غیر جماعتی انتخابات کرائے جائیں اور آٹھویں ترمیم منظور کرائی جائے، تاکہ ایک آمر کے غیر آئینی اقدامات کو آئینی تحفظ حاصل ہو۔ اسی پل پر جنرل ضیاء الحق نے اپنے سیاسی جانشین اور روحانی بیٹے کی سیاسی و اخلاقی حمایت پر جونیجو حکومت کی برطرفی کا فیصلہ کیا۔

جنرل ضیاء الحق جب اپنے رفقاء کے ساتھ فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے تو، اسی پل پر سول و ملٹری بیوروکریسی نے نومبر 1988 ء میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت قرار پائی تو، اسی پل پرصوبائی انتخابات سے قبل ’جاگ پنجابی جاگ ‘ کا نعرہ لگوا کر صوبہ پنجاب میں میاں نواز شریف کے وزیر اعلی بننے کی راہ ہموار کی گئی۔ اور اسی سیاسی و فوجی مفاہمتی پل پر بے نظیر اقتدار کے حصول کے لیے مفاہمت پر راضی ہوئیں اور غلام اسحق خان اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بالترتیب بطور صدر اور وزیر خارجہ تسلیم کرنے پر راضی ہوئیں۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک دفعہ پھر اسی پل پر حکمت عملی تیار کی گئی اور صدر غلام اسحق خان نے بے نظیر بھٹو کی حکومت بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کردی۔ عام انتخابات کے بعد، اب نوا ز شریف وطن عزیز کے وزیر اعظم تھے۔ میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف بھی اسی پل پر وہی حکمت عملی تیار کی گئی، جو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف کی گئی تھی۔ لیکن میاں صاحب نے سیاسی اور عدالتی طور پر مزاحمت کی اور عدالت عظمی نے ان کی حکومت بحال کردی۔ جب کہ ماضی میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی جائز قرار دے دی تھی۔ بہرحال، اسی فوجی و سیاسی پل پر پھر معاملات طے ہوئے اور صدر غلام اسحق خان اور وزیر اعظم نواز شریف استعفے دے کر رخصت ہوئے۔

عام انتخابات کے بعد پھر بے نظیر بھٹو وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہوئیں اور پھر اس پل پر ان کی حکومت برطرف کرنے کے لیے سر گوشیوں کا آغاز ہوا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت ان کی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے صدر فاروق لغاری نے برطرف کردی۔ اب عام انتخابات کے بعد پھر میاں نواز شریف وطن عزیز کے وزیر اعظم تھے۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ان کے آرمی چیف پرویز مشرف سے براہ راست اختلافات پیدا ہوئے اور جب میاں صاحب نے جنرل پرویز مشرف کی بر طرفی کا فیصلہ کیا تو، فوج نے میاں صاحب کی حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور گرفتار کرلیا۔ میاں نواز شریف کے خلاف ہائی جیکنگ، اغواء اور دہشت گردی کے مقدمات قائم ہوئے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے میاں صاحب کو عمر قید کی سزا سنادی۔

فوجی حکومت نے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی اور عدالت میں درخواست دی، کہ میاں نواز شریف کو سزائے موت دی جائے۔ صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے، میاں صاحب کے بیرون ملک بہی خواہ کام آئے اور ایک معاہدے کے تحت میاں صاحب دس سال کے لیے بیرون ملک جلا وطن کردیے گئے۔ بے نظیر بھٹو بھی خود ساختہ جلاوطن تھیں، دوران جلاوطنی بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہوا۔ لیکن میثاق جمہوریت ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو نے غیر ملکی طاقتوں کے ایماء پر جنرل پرویز مشرف سے این۔ آر۔ او کرلیا۔ اور وطن عزیز واپس تشریف لے آئیں، وطن واپسی پر شاہراہ فیصل پر ان کے استقبالی جلوس میں بم دھماکے ہوئے، جس میں ان کی تو جان بچ گئی لیکن پیپلز پارٹی کے متعدد کارکن جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں