سیکولرزم…. لادین انتہا پسندی


asif Mehmoodاحباب کا اجتہادِ تازہ یہ ہے کہ سماج کو انتہا پسندی سے بچانا ہے تو اسے سیکولر خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ساتھ ہی دلیل دی جاتی ہے کہ سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے…. یہ دونوں باتیں ، اس طالب علم کے نزدیک غلط ہیں۔جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں:سیکولرازم عملاً لادینیت ہی کا نام ہے اور یہ اعتدال بھی نہیں بلکہ مذہبی ملائیت کے برعکس لادین ملا ئیت کا نام ہے۔ یہ رد عمل کی ایک کیفیت کا نام ہے جو اتنی ہی خوفناک ہے جتنی کہ مذہبی ملائیت۔ ملائیت حلیے کا نہیں ، افتادِ طبع کا نام ہے۔چنانچہ اب اس سماج کو ایک طرف مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیکولر انتہا پسندی موجود ہے۔سماج نے اگر آگے بڑھنا ہے تو اسے ان دو انتہاوں کے بیچ اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔میرے نزدیک مذہبی انتہا پسندی اور سیکولر انتہا پسندی کے درمیان اعتدال کا راستہ ، اسلام ہے۔
پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔ مذہبی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے معاملے میں جملہ کوتاہیوں کے باوجود جب مذہب کی بات آتی ہے تو ’دل ہے کہ کھنچتا سا چلا جائے ہے‘ والا معاملہ درپیش ہوتا ہے۔ایسے معاشرے میں مذہب کو عضو معطل بنانا آسان کام نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے سیکولرازم کی داعی قوتوں نے سماج کو یہ باور کرانا شروع کر دیا کہ سیکولرازم تو محض اخلاقیات، انسانیت اور محبت کا نام ہے جو کسی طرح بھی مذہب سے متصادم نہیں۔یہ الجھن اب ایک ہی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ ہم مغرب کے اپنے علمی ماخذ کی طرف رجوع کریں اور دیکھیں کہ سیکولرازم کا مطلب کیا ہے۔
انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے مطابق:”سیکولرزم ایک ایسا اخلاقی نظام ہے جس کی بنیاد عام پندونصائح کے اصولوں پر رکھی گئی ہواور جو الہامی مذہب پر انحصار نہ رکھتا ہو۔سیکولرزم تمام اہم سوالات مثلا خدا کے وجود اور روح کے غیر فانی ہونے وغیرہ پر بحث و تمحیص کا حق دیتا ہے“
وبسٹرز نیو ورلڈ ڈکشنری آف دی امریکن لینگوئج میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے: ’سیکولرازم اعتقاد اور اعمال کا ایسا نظام ہے جو مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرتا ہو۔‘ اسی ڈکشنری میں لفظ سیکولرائز کے معنی ہیں :”کسی چیز سے مذہبی کردار کو نکال دینا“۔اب آپ غور فرمائیے،مذہبی عقیدے کی کسی بھی صورت کی نفی کرنا،گویا مذہب کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیںاور مذہبی کردار کو نکالے بغیر کوئی چیز سیکولرائز نہیں ہو سکتی۔ یہ لادینیت نہیں تو کیا ہے؟
پھر بھی کوئی خوش فہمی باقی ہو تو انسائیکلو پیڈیا آف ریلی جن کھول لیجئے،اس کے مطابق:”سیکولرازم ایک ایسا نظریہِ حیات ہے جو غیر مذہبی اور مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ سیکولرزم ایک ایسا طریقہ عمل ہے جس میں مذہبی حساسیت،فعالیت اور مسلمہ مذہبی قوانین اپنی سماجی وقعت کھو دیتے ہیں‘۔
انسائیکلو پیڈیا آف تھیالوجی کو بھی دیکھتے جائیے: ’سیکولرزم ایک ایسا طریقہِ عمل بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے ذریعے انسانی زندگی کے مختلف عناصر جیسے آراء، رسوم و رواج،سماجی طرزِعمل حتی کہ اشیاءاور انسانوں پر بھی اس بات کی پابندی ہو کہ وہ اپنا تعین مذہب کے ذریعے نہ کریں‘۔
لرنر ٹائپ کنسائز انگلش ڈکشنری کے مطابق سیکولرازم وہ نظریہ ہے ”جو مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دے“۔
اب اسلام کے سارے قوانین آپ نے ایک طرف رکھ چھوڑے۔اس کا نظامِ تعزیر،اس کا قانونِ شہادت،اس کا معاشی ضابطہ،اس کے فیملی لاز،سب آپ نے چھوڑ دیے۔ عقیدے کی کسی بھی صورت کی آپ نے نفی کردی،اپنی رائے،اپنی ذت،اپنے طرزِعمل اور اپنی پوری حیاتِ اجتماعی پر آپ نے قدغن لگا دی کہ یہ اپنا تعین مذہب کے حوالے سے نہیں کر سکتے، آپ نے مذہب دشمن اصولوں کی وکالت کرنے والا طرزِحیات اپنا لیا،آپ نے مذہبی حساسیت،مذہبی فعالیت اور مذہبی قوانین کو معمولی سی اہمیت دینے سے بھی انکار کر دیااور آپ نے مذہبی عقیدے کی ہر شکل اور مذہبی عبادت کی ہر قسم کی نفی کر دی…. اگر یہ سب دین کی نفی نہیں ہے تو کیا ہے۔ یہ لادینیت نہیں تو اور کیا ہے؟
دین کے ساتھ یہ مذاق نہیں ہوسکتا کہ اسے محض انفرادی معاملہ قرار دیا جائے۔دین محض انفرادی معاملہ ہے بھی نہیں۔قرآن واضح طور پر یہ کہ چکا ہے کہ ©©” ادخلو فی السلم کافة“، یعنی پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاﺅ۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی اجتماعی زندگی سے اس کو نکال باہر کریں اور اسے ایک فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کر دیں۔ اسلام کے قوانین محض عبادات تک محدود نہیں۔ یہ تعزیر سے معیشت تک پھیلے ہوئے ہیں۔حیاتِ اجتماعی کا کون سا ایسا پہلوہے جس کے بارے میں اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو؟ اب ہمیں خود سے ایک سوال پوچھ لینا چاہیے: کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو ہمیں اسلام کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہیے۔ دوسری صورت میں صاف کہ دینا چاہیے کہ ہمیں اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں۔ دین سے بیزار لوگوں میں اتنی جرات تو ہونی چاہیے کہ وہ کھل کر بات کریں بجائے اس کے کہ وہ لادینیت کی ایک نئی تشریح پیش کرنا شروع کر دیں اور سیکولرازم کو خوش کن لبادہ اوڑھا کر قابل قبول بنانے کی کوشش کریں۔
ایک آدی مسلمان ہوتے ہوئے سیکولر نہیں ہو سکتا۔ اور اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مسلمان بھی ہے اور سیکولر بھی تو اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔یا وہ خود دھوکے میں ہے یا وہ دوسروں کودھوکہ دے رہاہے۔اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ سیکولرزم مذہب کی نفی نہیں کرتا تو وہ خود دھوکے میں ہے۔ اور اگر وہ ایک اسلامی معاشرے میں اپنے نظریات کو خوش کن تصورات میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہے تا کہ انہیں قبولیت مل سکے تو وہ دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔
احباب کہیں سیکولرازم کو اہل مذہب کے ناقص تصورات کے ردِ عمل میں ایک ناگزیر برائی کے طور پر تو نہیں لے رہے؟اگر ایسا ہے تو انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ ایک خوفناک غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مغرب نے جب کلیسا کے خلاف بغاوت کی تو یہ ایک قابلِ فہم بات تھی کیونکہ مذہب کی تعبیر کے جملہ حقوق بحق پوپ محفوظ تھے اور یہ تعبیر اتنی ناقص تھی کہ کسی صاحبِ فہم آدمی کےلئے اس پر صاد کرنا ناممکن تھا۔اہل مغرب کے پاس حقیقی دین تک پہنچنا ناممکن تھا اس لئے کلیسا کی ناقص تعبیر کے رد عمل میں وہ سیکولر ہو گئے۔ ہمارا مذہبی طبقہ بھی آج اپنے مقام پر نہیں۔ ہمیں بھی حق حاصل ہے کہ ہم اہل مذہب کے ناقص تصورات کے خلاف بغاوت کر دیں۔ لیکن ہمیں سیکولر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مغرب کے بر عکس ہمارے پاس اپنا مذہب قرآن و سنت کی صورت میں حقیقی شکل میں موجود ہے۔ہم ملائیت کو رد کریں گے تو سیکولر نہیں ہوں گے بلکہ قرآن و سنت سے رجوع کریں گے۔ اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ ہم مذہبی ملائیت سے بیزار ہو کر سیکولر ملائیت کی لعنت میں گرفتار کیوں ہوں؟ ہم قرآن اور سنت سے رہنمائی کیوں نہ لیں…. نومولود سیکولر احباب اس سوال پر غور فرما سکیں تو عین نوازش ہو گی۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “سیکولرزم…. لادین انتہا پسندی

  • 20-01-2016 at 11:37 am
    Permalink

    Breif and great piece of writing.

  • 20-01-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    محترم دوست نے ڈکشنری کے محدود معنوں کے مطابق خود ہی سیکولرزم کی ایک تعریف مقرر کر دی اور خود ہی ان تعریفات میں موجود رخنوں کو اپنے مفروضوں سے بھر دیا. نہ صرف یہ، بلکہ ایک آدھ فتوی جڑ کر مکالمے کا راستہ بھی مسدود کر دیا. بہر کیف، ہم ان کی عائد کردہ پابندی کی نہایت ادب سے خلاف ورزی کرتے ہوۓ، یہ عرض کریں گے کہ سیکولرزم، جیسا کہ اسی جریدے اور دیگر بے شمار علمی تحریروں میں بتایا گیا ہے، صرف ہیت اجتماعی سے متعلق معاملات سے خدائی احکامات کی من مانی تفسیرات کو باہر رکھنے کا نام ہے. کسی آیت قرآنی یا حدیث صحیح سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام کا بنیادی مقصد ریاست کا قیام ہے. اسلام کا بنیادی کام، جیسا کہ بے شمار نظیروں اور نقلی دلائل سے ثابت ہے، فرد کو اخلاق کا اعلی نمونہ بنا کر اس اعلی اخلاق کے مظاہرے کے ذریعے لوگوں کو دعوت دینا ہے. معلومہ انبیا میں صرف دو، یا زیادہ سے زیادہ تین پیغمبران، داعی دین ہونے کے علاوہ سربراہان مملکت بھی رہے. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انفرادی اخلاق، فرد کی روح کی بالیدگی اور دعوت الی الحق ہی محکمات ہیں. باقی امور متشابہات کا درجہ رکھتے ہیں جن میں وقتا فوقتا اجتہاد کے ذریعے ترامیم کی جاتی رہیں. اس حوالے سے رسول (ص)، صحابہ کرام (ر ض) اور قرون اولی کے اسلاف کا طرز عمل گواہ ہے. یہاں محض زور بیان یا آدھی آیت کے لفظی ترجمے کی من چاہی تعبیر سے کام نہیں چلے گا. عقلی و نقلی دلائل لانے ہوں گے. تاریخ سے نظیر لانی ہو گی. .. گر یہ نہیں تو بابا، یہ سب کہانیاں ہیں..

Comments are closed.