سپریم کورٹ کے جج سمیت چار جج صاحبان پریس کانفرنس میں بتائیں گے کہ دباؤ کہاں سے آ رہا ہے: شفیع نقی جامی


پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے اور اس وقت ملک میں سیاسی ہلچل جاری ہے ،ایک طرف عمران خان ملک بھر کے مختلف علاقوں میں جلسے کر رہے ہیں تو دوسری طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف احتساب عدالت کے فیصلے پر جیل چلے گئے ہیں۔ نواز شریف اپنے خلاف آنے والے تمام فیصلوں کو کسی دباﺅ کے نتیجے میں آنے والے فیصلے قرار دیتے ہیں ۔ تاہم اب بی بی سی کے معروف صحافی شفیع نقی جامی نے دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں چند جج صاحبان دباو کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کرنے والے ہیں ۔

تفصیل کے مطابق بی بی سی کے معروف صحافی شفیع نقی جامی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ ”اندر کی اطلاعات کے مطابق :سپریم کورٹ کے ایک ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک محترم جج صاحبان تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بیک وقت تحریر ی بیان دے کر یا مشترکہ پریس کانفرنس کر کے پاکستان کو یہ بتانے والے ہیں کہ دباﺅ اور فیصلے کہاں سے آرہے ہیں۔“

اس پر رد عمل دیتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی افتخار احمد نے کہا کہ بھارت میں سپریم کورٹ کے ججز کی چیف جسٹس آف انڈین سپریم کورٹ کے خلاف پریس کانفرنس ایک بڑی خبر تھی۔ اب ہم پاکستانی جج صاحبان کا انتظار کرتے ہیں ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں