چھٹا خواب نامہ۔۔۔ چار خواب


11 مئی 2018
درویش رابعہ کی خدمت میں آداب پیش کرتا ہے
درویش رابعہ کا خط پڑھ کر کافی دیر تک اداسی کی دھند میں کھویا رہا۔ اسے ماضی کے وہ دن رات یاد آنے لگے جب وہ مشرق کے روایتی ماحول میں رہتا تھا اور خود بھی اداسی اور تاریکی کا شکار تھا لیکن پھر اس کے دل میں نجانے کہاں سے امید کی ایک کرن آئی اور آہستہ آہستہ اس کے سراپا کو روشن کر گئی۔

درویش ان دنوں پاکستان کے پشاور شہر کے باہر اپنے والدین عائشہ اور باسط اور چھوٹی بہن عنبر کے ساتھ ایک دریا کے پاس رہتا تھا اور دریا کے کنارے دور تک سیر کو جانا اور خود کلامی کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔

سولہ برس کی عمر میں درویش ایک شام جب دریا کے کنارے سیر کر رہا تھا تو اسے اچانک احساس ہوا کہ زندگی ایک قیمتی تحفہ ہے اور اسے اس تحفے کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ایک بھرپور زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ اسے زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے چند خواب دیکھنے چاہئیں اور پھر پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ان خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کر سکے۔ چنانچہ اس نے چار خواب دیکھے

درویش کا پہلا خواب ایک ڈاکٹر، ایک ماہرِ نفسیات، ایک مسیحا بننا تھا تا کہ وہ انسانی جسم، انسانی ذہن، انسانی لاشعور اور انسانی ذات کی گتھیاں سلجھا سکے اور دوسرے انسانوں کی اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے میں مدد کر سکے۔

درویش کا دوسرا خواب ایک شاعر اور ایک دانشور بننے کا تھا تا کہ وہ ساری دنیا کے ادیبوں، شاعروں اور فلاسفروں کو پڑھ سکے اور پھر علم و ادب کے سمندر میں چند قطروں کا اضافہ کر سکے۔ وہ ایک کتاب نہیں بلکہ بہت سی کتابیں لکھنا چاہتا تھا۔ اس کا خواب تھا کہ جس طرح وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں کی کتابیں لینے لائبریری جاتا ہے اور لوگ اس کی کتابیں لینے لائبریری جائیں۔
درویش کا تیسرا خواب ساری دنیا کی سیر کرنا تھا تا کہ وہ مختلف ممالک کے شہروں کو دیکھے اور ان کے شہریوں سے ملے۔ وہ ایک مردِ جہاں دیدہ بننا چاہتا تھا۔

درویش کا چوتھا خواب دنیا کے چاروں کونوں کے مردوں اور عورتوں، شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں سے دوستی کرنا، ان کی محبتوں اور نفرتوں، دکھوں اور سکھوں کی کہانیاں سننا اور پھر انہیں رقم کرنا تھا۔

درویش نے یہ خواب زندگی کی صبح میں دیکھے تھے۔ اب جبکہ اس کی زندگی کی شام آئی ہے اور وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے فیض کا یہ شعر یاد آتا ہے
؂ فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

درویش خود کو خوش قسمت محسوس کرتا ہے کہ اس کے نوجوانی کے سارے خواب پورے ہوئے۔ اب وہ نجانے کب سے جاگتی آنکھوں سے ایک اور نیا خواب دیکھ رہا ہے۔ برسوں پیشتر اس نے اس خواب کا نام ’ادبی محبت نامے’ رکھا تھا۔ وہ خواب ایک ایسی کتاب لکھنے کا تخلیقی خواب تھا جس میں درویش اور رابعہ کے خطوط شامل ہوں۔ اس کے ذہن میں رابعہ کا کردار ایک فرضی کردار تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اسے زندگی میں ایک زندہ کردار ملے گا جو ادیبہ بھی ہوگی اور اس کا نام بھی رابعہ ہوگا اور وہ مل کر ایک مشترکہ تخلیقی خواب دیکھیں گے اور پھر اسے مل کر شرمندہِ تعبیر کریں گے۔

اس مشترکہ خواب کی تکمیل کے لیے وہ رابعہ کا تہہِ دل سے مشکور ہے کیونکہ وہ اس خواب کو اکیلا پایہِ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا تھا۔ بطور ایک شاعر اور ادیب کے درویش برسوں سے یہ محسوس کرتا رہا ہے کہ ادب میں خطوط کو بطورِ صنف کے وہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی جتنی کہ شاعری، افسانے اور ناول کو ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس صنف میں دو اصناف کو مل کر تخلیقی کام کرنا پڑتا ہے۔

درویش کو اندازہ ہے کہ اپنے خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنے کے لیے اس کا مرد ہونا اور مشرق سے مغرب ہجرت کرنا اہم تھا۔ ویسے تو ہر فنکار کو اپنے خوابوں اور آدرشوں کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن ان خوابوں اور آدرشوں کی قیمت ایک عورت اور وہ بھی مشرقی عورت کے ناطے اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے وہ رابعہ کی جدوجہد کا تہہِ دل سے احترام کرتا ہے۔
درویش نے مشرق سے مغرب کی طرف اپنی پرواز کا ذکر اپنے شاعری کے دوسرے مجموعے ’آزاد فضائیں‘ کے دیباچے میں برسوں پیشتر یوں کیا تھا
؂ اپنی پرواز کا اندازہ لگانے کے لئے
اپنے ماحول سے آزاد فضائیں مانگیں

جراتِ پرواز
ایک پرندے کی خوابِ غفلت سے آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کا آشیانہ فرسودہ روایات کی تیلیوں اور بوسیدہ اقدار کی گھاس پھونس کا مرہونِ منت ایک قفس تھا جسے آشیانے کا نام دے دیا گیا تھا۔ اس کے شام و سحر ایک ایسے درخت پر گزرتے جس پر خاندان کے آسیب سایہ فگن تھے۔ وہ درخت بذاتِ خود ایک ایسے چمن کا حصہ تھا جس میں کسی زنداں کی طرح
کلیوں کو کھلنے کی
بادِ صبا کو گزرنے کی
چاند کو نکلنے کی

اور
موسمِ بہار کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
چاروں طرف گھٹن، تاریکی اور خزاں کے سائے لہراتے رہتے۔
اس پرندے کا شعور ذرا اور بیدار ہوا تو اسے احساس ہوا کہ اسے

اپنی آنکھوں سے دیکھنے
اپنے کانوں سے سننے
اپنے ذہن سے سوچنے
اپنی زبان سے گیت گانے
اپنے ماحول کو تسخیر کرنے
اور اپنے پروں سے اڑنے کی اجازت نہیں تھی۔

اسے یہ جان کر دکھ ہوا کہ اس سے پہلے چند پرندوں نے اڑ جانے کی کوشش کی تو یا تو ان کے پر کاٹ دیے گئے یا وہ شکاریوں کے تیروں کی زد میں آ کر گر پڑے۔ جن پرندوں میں جراتِ پرواز نہیں تھی ان میں سے چند قفس کی تیلیوں سے ٹکرا کر مر گئے۔

وہ پرندہ عجب کشمکش کا شکار تھا۔ وہ نہ تو ماحول کی دیواروں سے سر ٹکرا کر خود کشی کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی شکاریوں کی زد میں آنے کا خواہش مند تھا۔
وہ ایک ایسی فضا میں اڑ جانا چاہتا تھا جہاں وہ
ہواؤں کی تازگی
پھولوں کی خوشبو
بہتی ندی کی موسیقی
چاند کی روشنی
اور
موسمِ بہار سے محظوظ ہو سکے

اسے چند بزرگ پرندوں نے بتایا کہ وہ پرندے جو صیاد کی زد میں آگئے ان کے ذہنوں میں ماضی کی زنجیروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہش تو تھی لیکن فردا کا کوئی واضح تصور نہ تھا۔ ان کے دل تاریکی سے نالاں تو تھے لیکن روشنی تک پہنچنے کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔ پرواز کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے ذات کی گہرائیوں میں اترنا ضروری تھا جو ان کے بس کی بات نہ تھی
وہ پرندہ ایک طویل عرصے تک اپنی پرواز کی تیاریاں کرتا رہا اور جب وہ اڑا تو خوش قسمتی سے ایک ہی اڑان میں اپنے ماحول سے دور بہت دور چلا آیا۔ وہ مختلف پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور وادیوں کے اوپر سے گزرا تو اسے بہت سے شہر نظرآئے اور ہر شہر میں اپنے شہر کی طرح آہ و زاری کرنے والے بھی ملے اور آزادی کے گیت گانے والے بھی۔

اس پرندے کو اس بات کی خوشی ہے کہ وہ جن منزلوں کی طرف پرواز کر رہا ہے ان فضاؤں میں اور بھی پرندے شامل ہو رہے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک غول بنتا جا رہا ہے۔ اس کی دلی تمنا ہے کہ وہ اپنی پرواز بلند سے بلند تر کرنے کی سعی کرتا رہے اور ان پرندوں کو دعوتِ پرواز دیتا رہے جو اپنی اڑان کے لیے پر تول رہے ہیں۔

درویش اپنے کلینک میں بیٹھا رابعہ کو خط لکھ رہا ہے یہ وہ کمرہ ہے جہاں اس کی اپنی میوس muse سے ملاقات ہوتی ہے جو اس کے لیے ادبی تحفے لاتی ہے اس لیے وہ اسے کرئیٹیو لیبر روم creative labour room کہتا ہے۔

رابعہ شاید نہیں جانتی کہ درویش کینیڈا میں ماہرِ نفسیات بننے سے پہلے پاکستان کے شہر پشاور کے زنانہ ہسپتال کے لیبر روم میں کام کیا کرتا تھا۔ اس کام کے دوران اسے مشرقی عورتوں کے کرب اور دردِ زہ کی شدت سے آگاہی حاصل ہوئی۔ اس نے لیبر روم میں عورتوں کے بارے میں بہت سی نظمیں لکھی تھیں وہ ان میں سے ایک نظم رابعہ کے ساتھ شیر کرنا چاہتا ہے تا کہ رابعہ کو درویش کے عورتوں سے تخلیقی اور انسانی رشتے کا اندازہ ہو سکے

خون کے آنسو
عورتیں وقت سے ہر آن لڑیں
عورتین خون کی ہولی کھیلیں
ہر مہینے جو وہ حالات کی زد میں آئیں
اپنے جسموں میں پگھلتا ہوا لاوا پائیں
عورتیں زیست سے ہر ماہ جو نامہ لائیں
اپنی تقدیر کو یوں اس میں نوشتہ پائیں

عورتیں اپنی حقیقت جانیں
عورتیں بچے جنیں مائیں بنیں
اپنی آغوش بھریں
اور اگر اس سے وہ انکار کریں
ایک دوراہے سے آواز سنیں
یا تو وہ بانجھ رہیں

یا ہر اک ماہ وہ سب خون کے آنسو روئیں
اپنے رستے ہوئے زخموں کی فضا میں سوئیں
عورتیں درد کی تصویریں ہیں
عورتیں کرب کی تفسیریں ہیں
عورتیں خون میں ڈوبی ہوئی تحریریں ہیں

اگرچہ درویش رابعہ کے خط کے بارے میں اور بھی بہت کچھ لکھنا چاہتا ہے لیکن درویش کو کچھ مریض بھی دیکھنے ہیں، کچھ مزدوری بھی کرنی ہے اس لیے وہ رابعہ سے اجازت چاہتا ہے۔ اب وہ رابعہ کے اگلے خط کا انتطار کرے گا۔ درویش کو تجسس ہے کہ رابعہ نے کس قسم کا تخلیقی خواب دیکھا تھا اور جب درویش نے اپنے خواب کا ذکر کیا تھا تو کیا اسے حیرت ہوئی تھی؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں