سنی لیونی کے اصلی نام پر سکھ رہنما برہم


سنی لیونی

ویب سیریز کے ڈائریکٹر ادتیا دت نے اداکارہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں اپنا اصلی نام استعمال کرنے کے حق حاصل ہے

انڈیا میں سکھ رہنماؤں نے بالی وڈ اداکارہ سنی لیونی کی زندگی پر بننے والی ویب سیریز کے خلاف مظاہرے کرنے کی دھمکی دی ہے کیونکہ ان کے مطابق اس میں نام ’کور‘ استعمال کیا گیا ہے۔

بالی وڈ اداکارہ سنی لیونی کی زندگی پر بننے والی ویب سیریز ’کرن جیت کور، دی ان ٹولڈ سٹوری آف سنی لیونی‘ کا حال ہی میں ٹریلر جاری کیا گیا ہے۔

کور لیونی کا اصلی نام کا حصہ ہے اور اسے سکھ برادری میں خواتین کے نام کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔

اس ویب سیریز کے نام میں کور کا استعمال کیا گیا ہے جس پر بعض سکھ رہنما برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے نام کے تقدس میں کمی آتی ہے۔

اسے تشہیری حربہ بھی کہا جا رہا ہے۔

کور نام سنہ 1699 میں سکھوں کے 10ویں گرو ، گرو گوبند سنگھ کی جانب سے ذات کا فرق ختم کرنے اور سکھ خواتین کو برابری دینے کے لیے دیا گیا تھا۔

اس سیریز کے نام میں سنی لیونی کے پیدائشی نام کو استعمال کیا گیا ہے جو کہ کرن جیت کور وہڑا ہے، تاہم وہ اپنے پورن سٹار نام سے زیادہ پہچانی جاتی ہیں۔

16 جولائی کو زی5 پر دکھائی جانے والی اس سیریز میں سنی لیونی کی زندگی پر نظر ڈالی گئی ہے۔

زی5 جو کہ ایسل گروپ کی ملکیت ہے کہ چیئرمین سبھاش چندرا کے نام خط میں انڈین سیاست دان منجندر سنگھ سرسا نے کہا ہے کہ یا تو اس سیریز کو بند کر دیا جائِے اور یا پھر اس کے ٹائٹل میں سے کور کا لفظ نکال دیا جائے۔

سرسا شرومانی اکلی دل پارٹی کے رکن اور دہلی سکھ گوردوار مینیجمنٹ کمیٹی کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

تاہم چندرا نے ان کے خط کا جواب صرف یہ دیا کہ ان کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

سنی لیونی

AFP
ویب سیریز کے نام میں کور کا استعمال کیا گیا ہے جس پر بعض سکھ رہنما برہم ہیں

دیگر سکھ گروپوں اور رہنماؤں نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے تو وہ نیٹورک کے دفتر کے باہر مظاہرے کریں گے۔

ایس جی پی سی کے ترجمان دلجیت سنگھ بیدی کا کہنا ہے: ’کور ایک پاک نام ہے جو گرووں کی جانب سے خواتین کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ہم منگل کو اس سیریز کے بنانے والوں کے خلاف درخواست جمع کروائیں گے۔‘

ویب سیریز کے ڈائریکٹر ادتیا دت نے اداکارہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اپنا اصلی نام استعمال کرنے کے حق حاصل ہے۔

انھوں نے دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا: ’میں سکھ برادری کی عزت کرتا ہوں۔ میں خود پنجابی ہوں لیکن یہ حیران کن بات ہے کہ آج کے جدید دور میں کسی کے اپنے خاندانی نام کو استمعال کرنے پر اعتراض کیا جا رہا ہے، یہ ان کا پیدائشی حق ہے، اور یہ سب کس لیے؟ یہ سیریز سنی لیونی کی زندگی کی سچی کہانی پر مبنی ہے، کوئی کیسے سچ کو تبدیل کر سکتا ہے اور کیوں؟‘

سنی لیونی کینیڈا میں ایک سکھ پنجابی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ وہ سنہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں پورن اداکارہ بن گئیں اور ایک کامیاب کریئر کے بعد وہ بالی وڈ اداکارہ بن گئیں۔

انھوں نے بالی وڈ میں 2012 میں فلم جسم 2 سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا لیکن وہ پہلے ہی 2011 میں ٹی وی شو بگ باس کی وجہ سے انڈیا میں اپنا نام بنا چکی تھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6390 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp