کیا ہم مرد کیڑے مکوڑے ہیں؟


khaldune shahidگزشتہ ماہ ٹنڈو غلام علی میں ایک آدمی نے ایک آٹھ سالہ لڑکی کو اغوا کیا۔ ایک ہفتے تک اس بچی کا گینگ ریپ کیا گیا اور پھر اسے گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔ گزشتہ برس پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے 3768 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یعنی اوسطاََ ہر روز دس سے زائد حادثات درج کیے گئے اور انگنت عزت و غیرت کی قربان گاہوں میں خاموش کر دیے گئے۔ پچھلے سال کے قصور اسکینڈل کو بھی ایسی ہی ایک قربان گاہ سے بازیاب کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق پاکستان میں اوسطاََ ہردو گھنٹے میں ایک ریپ ہوتا ہے اور ہر آٹھ گھنٹے میں ایک گینگ ریپ۔ اور جب کہ ریپ کی متفقہ مذمت کی جاتی ہے اور اکثر احتجاج بھی کیا جاتا ہے، اس گھناونے جرم کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے کوئی با معنی حکمت عملی تشکیل نہیں دی جاتی۔ وہ تمام افراد جو اس منطق پر یقین رکھتے ہیں کہ عورتیں موروثی اور قدرتی طور پر مد کے تابع ہیں، اور اس فرسودہ سوچ کو پھیلاتے ہیں وہ بھی ریپ میں شریک جرم ہیں۔ وہ تمام افراد جو اپنی اخلاقیات کی تشریح کی خلاف ورزی پر کسی لڑکی کے اوپر لعن طعن بھیجتے ہیں وہ بھی شریک جرم ہیں۔ وہ تمام لوگ جو مرد اور عورت میں غیرت کا دوہرا معیار رکھتے ہیں وہ سبھی شریک جرم ہیں۔ وہ تمام افراد جو خواتین کو اپنے جسم سے نفرت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ سب بھی شریک جرم ہیں۔ اور اسی طرح اگر آپ ایک خاتون کی عزت اس کے لباس کی لمبائی چوڑائی ناپ کے کرتے ہیں، تو آپ بھی شریک جرم ہیں۔ ہر وہ شخص جو کسی جرم کا سہولت کار ہو وہ شریک جرم کہلاتا ہے۔ بے شک ہم میں سے زیادہ تر افراد کسی ریپسٹ کی براہ راست مدد نہیں کریں گے، لیکن ہم میں سے اکثر افراد ایسے خیالات کی تائید کرتے ہیں جو جنسی تشدد کو ناگزیر بنا دیتے ہیں۔

یہ بتائیے کہ کونسا آدمی ریپ کی طرف زیادہ مائل ہوگا، پہلا جو یہ سمجھتا ہے کہ خواتین جو کسی مخصوص معیار کے مطابق کپڑے پہنتی ہیں صرف وہ قابل عزت ہیں یا دوسرا جسے یہ سکھایا گیا ہو کہ کوئی خاتون کیا پہنتی ہے اس سے کسی کی غرض نہیں ہونی چاہئے پھر چاہے وہ مروجہ تصورات سے ہٹ کر کپڑے پہنے یا حجاب۔

اب یہ بتائیے کہ کس آدمی کا جنسی تشدد میں ملوث ہونے کا زیادہ امکان ہے، پہلا وہ جو مردوں سے دوستی رکھنے والی عورتوں کو گری ہوئی نظر سے دیکھتا ہے یا دوسرا جسے زندگی کے ہر شعبہ میں لڑکے اور لڑکی کی برابری کا درس دیا گیا ہو؟ اور اب آخر میں یہ بتائے کہ کس آدمی کا ریپسٹ ہونے کا زیادہ امکان ہے، پہلا وہ جو ایک ایسے معاشرے میں رہے جہاں کسی خاتون کی عزت اس کے جسم یا لباس سے مشروط نہ ہو یا دوسرا وہ جسے یہ سکھایا گیا ہو کہ لڑکی ایک لالی پاپ کی مانند ہے جو اگر “صحیح طرح  سے” ڈھکی نہ ہو تو کیڑے مکوڑوں کا شکار بن جاتی ہے۔ کیا ہم مرد کیڑے مکوڑے ہیں؟ کیا ہم میں کوئی ضبط نفس نہیں؟  کیا ہم ایسے ہی غیر ذمہ دار ہیں؟

حیرانی کی بات یہ ہے کہ اکثر مرد حضرات جن کی “مردانگی” اور “انا” کو معمولی سے معمولی بات پر  ٹھیس پہنچ جاتی ہے وہ کس دھڑلے سے اپنے آپ کو کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ بیشتر خواتین بھی اس میں شریک جرم ہیں۔ پیر کو جب پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں ماڈل عینی خان کے ساتھ بدتمیزی کی گئ تو عندلیب عباس نے بھی ان کی ساڑھی اور “انداز” کو قصور وار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جلسے میں عینی خان کی آمد کا انداز خود ایک دعوت دے رہا تھا”۔ کوئی عندلیب عباس اور ایسی سوچ رکھنے والے ہر فرد سے یہ پوچھے کہ ٹنڈو غلام علی سے اغوا ہونے والی اس آٹھ سالہ بچی نے کیسے اپنے ریپسٹ کو مدعو کیا؟ پچھلے ہفتے اسلام آباد میں ریپ ہونے والے چھ سالہ لڑکے نے کیسے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی دعوت دی تھی؟ کیا وہ 3768 بچے جن میں بیشتر لڑکے تھے ان سب کے انداز میں کچھ ایسا تھا جس نے مجرم کو جنسی تشدد کے لئے مجبور کر دیا؟

اس غلط فہمی کو اب دفن کر دینا چاہیے۔ ایک خاتون جس نے اپنا سر نہ ڈھانکا ہو وہ ریپ کی دعوت نہیں دیتی، ایک بکنی پہنی لڑکی بھی ریپ کی دعوت نہیں دیتی۔ بلکہ کوئی بھی عورت کسی صورت میں بھی جنسی تشدد کی دعوت نہیں دیتی۔ جو لوگ جنسی تشدد کے لیے کوئی بھی جواز پیش کرتے ہیں انھیں محض ریپ کے عذر خواہ نہیں بلکہ ریپ میں شریک جرم سمجھنا چاہیے۔ اگر برقعے یا حجاب سے جنسی تشدد سے بچا جا سکتا ہوتا تو مصر میں 99 فی صد سے زائد خواتین جنسی طور پہ ہراساں ہونے کی گواہی نا دیتیں اور نہ ہی سعودی عرب میں ہر 1 لاکھ میں سے 60 خواتین کا ریپ ہوتا۔ اور یہ دھیان رکھیے کہ مذکورہ بالا اعدادوشمار میں ازدواجی ریپ شامل نہیں، کیونکہ ایک شادی شدہ خاتون کو تو ہم کاغذی طور پر بھی شوہر کی ملکیت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامسٹ سیاسی پارٹیاں تحفظ خواتین ایکٹ کے خلاف اتنا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں۔ ان سب حقائق کے باوجود ہم مغرب میں ریپ کے اعدادوشمار کا حوالہ دینا پسند کرتے ہیں اور اس بات پر صرف نظر کرتے ہیں کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں عزت اور غیرت کے نام پر جرائم کو چھپانے کا درس دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اس بات پر قائم ہیں کہ جسم ڈھکنے یا گھر بیٹھنے سے ریپ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ بھی تسلیم کر لیں کہ یہ امکان مزید کم ہو جائنگے اگر ہم خواتین کو الماریوں میں بند کر دیں اور چابیاں کسی دریا میں پھینک آئیں۔

جب پانچ چھ سال کے بچے بچیوں کا ریپ ہو رہا ہو تو جگہ، وقت، لباس اور انداز پر بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ چاہے بچوں کا ریپ ہو، یا جوان خواتین کا، وجوہات مجرم کی ذہنیت میں تلاش کرنی چاہیئں۔ جب معاشرے میں صحت مند جنسی سرگرمیوں پر بندش ہو، عورت کے جسم کو غیرت کے جھنڈے کے طور پہ پیش کیا جائے اور جنسی تشدد کا الزام زیادتی سہنے والے پر لگا کر اسے خاموش رہنے پر مجبور کیا جائے ایسے معاشرے میں ہر طرز کے جنسی جرائم پنپتے ہیں۔ ہم اکثر ریپ میں اختیار کی صنفی حرکیات کا ذکر بھول جاتے ہیں، جو مردوں پہ ہونے والے جنسی تشدد کی وضاحت کرتا ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ جنسی   خواہشات قدرت کی دین ہیں اور ہمارا کام ان کو عمر، تعلقات اور رضامندی کی بنا پر کارگر بنانا ہے۔ جب تک ہم رضامندی کی تعلیم نہیں دیں گے، اور خواتین کو لالی پاپ یا ملکیت سمجھ کر مردوں، خاندانوں، قبیلوں یا ممالک کی عزت کے طور پر پیش کرتے رہیں گے، ہمیں مرد ذات کو کیڑے مکوڑوں کی مانند پیش کرتے رہنا پڑے گا۔ اور ہر وہ مرد جو کسی خاتون کا “محرم” نا ہو تو اس کی حیثیت ایک ممکنہ کیڑے مکوڑے بلکہ درندے کی رہے گی۔


Comments

FB Login Required - comments