گھسیٹا جن کی پریشانی اور پاکستانی الیکشن


آؤ بچو سنو کہانی، ہمارا تمھارا خدا بادشاہ، کوہ قاف پہ ہلچل مچی ہے کوئی ادھر بھاگ رہا ہے کوئی ادھر بھاگ رہا ہے۔ گھسیٹا جن ایک بھاگتے ہوئے جن کو پکڑ کر پوچھتا ہے آخر ماجرا کیا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہا جنات کی بستی میں یہ کیسی ہلچل ہے، بعد میں بتاؤں گا ابھی ایک ضروری کام سے جان ہے کارنر میٹنگ کا بیڑا غرق کرنا ہے۔ گھسیٹا جن اپنا سینگ کھجاتے ہوئے سوچتا ہے آخر معاملہ کیا ہے کچھ تو کھوج لگانا پڑے گا، میں بھی تو جن ہوں، سبک رفتاری سے اڑتے ہوئے کھوج لگانے نکل جاتا ہے۔

ایک جگہ اپنے بھائی بندے جمع دیکھ کر رک جاتا ہے اور چھپ کر ان کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں الیکشن ہیں حکم آیا ہے کرنا تو پڑے گا ہی۔ کیسے ہوگا، مخالفین کے جلسے درہم برہم کردو، جن چاچا یہ اتنا آسان نہیں ہے انسان بہت پکا ہے اپنے پسندیدہ لیڈر کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، کانے جن نے لقمہ دیا پھر انھیں پیسے کا لالچ دو، وہ تو ان کی پارٹیاں پہلے ہی کر رہی ہیں، ماسٹر مائنڈ جن نے اعلان کیا کہ ان سب کو الیکشن کے دن غائب ہی کردو مخالف ووٹ ہی نہیں ڈالیں گے اور ہمارا کام ہوجائے گا۔ یہ اتنا آسان تھوڑی ہے بابا جن دہاڑے کوئی ایسی ترکیب سوچو جس سے جیت بھی ہوجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ منچلا جن ہنستے ہوئے بولا یہ نہ کرو وہ نہ کرو تو پاکستانی قوم کو کوئی تماشا دیکھنے میں لگا دو، تاکہ وہ الیکشن ہی بھول جائے اور ہمارا کام ہوجائے۔ سائیں جن نے لہرا کر کہا یہ قوم ستر سال سے تماشہ ہی تو دیکھ رہی ہے ایک اور سہی، اپنا کام تو ہو جائے گا۔

گھسیٹا جن پریشان یہ پاکستان میں کیا کرنا چاہ رہی ہے میری قوم اور کون یہ سب کروارہا ہے۔ مجھے انھیں روکنا ہوگا لیکن اکیلا میں کیسے کروں گا، کرنالی چڑیل سے مشورہ کرتا ہوں۔ گھسیٹا جن نے اپنا اڑن کھٹولا اسٹارٹ کیا اور کرنالی چڑیل کے بنگلے پر جا اترا۔ کرنالی چڑیل گھسیٹا جن کو دیکھ کر خوش ہو گئی آخر ان کا پرانا ساتھ تھا۔ میں تم سے مشورہ کرنے آیا ہوں، پاکستان میں الیکشن ہونے جارہے ہیں اور ہماری قوم میں ایک ہلچل ہے کس ان کے الیکشن میں گڑبڑ کریں، ان کے سیاسی جلسوں میں انتشار پھیلائیں ایسا کیوں کر رہے ہیں یہ سب۔ ہم جن تو بہت پر امن قوم ہیں ہم نے تو صرف ان کا برا کیا جو برا کرتے ہیں ورنہ تو ہم سکون سے فضاؤں میں اڑتے پھرتے ہیں بلاوجہ کسی کو تنگ بھی نہیں کرتے۔

کرنالی چڑیل نے ایک لمبی سانس لی اور کہا یہ سب ان سے انسان کرواتے ہیں وہ جنوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں پھر جو چاہے اپنی مرضی سے کرواتے ہیں۔ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہم جن بھی نا، انسان دو چار عمل کروالیتا ہے اور ہم اس کے قبضے میں چلے جاتے ہیں وہ جو چاہے ہم سے کرواتا ہے، ہم انسان کو عالم بالا کی خبریں دے دیتے ہیں مجھے اپنی قوم کو بچانا ہوگا اس سیاست میں پڑنے سے کیسے بچا سکتے ہیں۔

گھسیٹا جن حیرت سے کرنالی چڑیل کی باتیں سن رہا تھا۔ ہم کسے انھیں بچا سکتے ہیں اس وقت یہ جنات ایک پیرنی کے قبضے میں ہیں اور وہ ہر قیمت پر یہ کام کروا کر رہے گی اس لیے چپ کرکے بیٹھو کہیں تم پر بھی نظر نہ پڑجائے اور گھسیٹا جن سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ پیرنی ایسا بھی کر سکتی ہے۔ کرنالی چڑیل سمجھاتی ہے ہاں ہمارے کچھ ناکارہ جن اس کے قبضے میں ہیں اور ان کے ذریعے ہی یہ سب کروارہی ہے اس پیرنی نے ان سب کو تازہ گوشت اور مٹھائیوں کا لالچ دے کر اپنے بس میں کیا ہوا ہے۔

گھسیٹا جن اپنا سینگ کھجاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کہ ہم جنوں میں بھی انسانوں جیسی خصلت آگئی ہے اب ہم بھی لڑ لڑ کر ختم ہو جائیں گے۔
لوجی کہانی ختم پیسہ ہضم، بھلا یہ بھی کوئی کہانی ہوئی انسانوں اور جنوں کا کیا میل، بچے احتجاج کرتے ہوئے اٹھ گئے اور ہم سوچتے رہ گئے کہ اس کہانی کا انجام کیا ہوگا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں