کیا شریف خاندان کے پاس 90 کی دہائی میں اتنے ظاہر شدہ پیسے تھے کہ لندن فلیٹ خرید سکے؟


جے آئی ٹی رپورٹ میں 1990ء کے اوائل میں جس خالص منافع کا اعتراف کیا گیا اور شریف فیملی کے دو کاروباری یونٹس ذریعے قومی خزانے میں جو ٹیکس جمع کرایا گیا ہے ان کو دیکھتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو سنائے گئے فیصلے میں جو بنیادی نقطہ اٹھایا گیا ہے وہ مشکوک ہو جاتا ہے کہ نواز شریف لندن فلیٹس کی خریداری کے لئے ذرائع ثابت نہیں کر پائے اس لئے انہیں نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 اے 5 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے۔

نواز شریف نے ہمیشہ انکار کیا ہے کہ انہوں نے یہ فلیٹس خریدے ہیں اور بیان جمع کرایا ہے کہ یہ فلیٹس ان کے والد کی غیر ملکی سرمایہ کاری میں تھے اور یہ فلیٹس 2006ء میں ان کے بیٹے حسین نواز کی ملکیت میں آئے۔ لیکن، اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے جس بنیاد پر ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا سنائی ہے وہ مشکوک ہو جاتی ہے۔ (احتساب عدالت کے فیصلے کے مطابق) جس سال میں لندن فلیٹس خریدے گئے تھے اس وقت ان کی زیادہ سے زیادہ مالیت پاکستانی

دس کروڑ روپے کے برابر تھی جبکہ قومی خزانے میں شریف فیملی کے دو بزنس یونٹس کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی مالیت 147 کروڑ یعنی 1۔ 47 ارب روپے تھی اور اس میں سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار شامل نہیں۔ اگر سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار بھی شامل کیے جائیں تو صرف چوہدری شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز نے اب تک مجموعی طور پر 1034 کروڑ یعنی 10۔ 345 ارب روپے جمع کرائے ہیں۔

جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں اثاثوں کی سالانہ مالیت، واجبات اور خالص منافع کو دیکھیں تو الگ کہانی ملے گی۔ جے آئی ٹی کے جمع کرائے گئے اعداد و شمار کو شریف فیملی نے مسترد کیا ہے اور انہیں غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق، شریف فیملی کے دو بزنس یونٹس نے 1995ء میں 31 کروڑ 20 لاکھ روپے جبکہ 1996ء میں 42 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔ دیگر بزنس یونٹس کا منافع ان سے الگ ہے۔

احتساب عدالت نواز شریف کو سزا دینے کے لئے اپنے فیصلے میں اس بات کا ذکر کرنا بھی بھول گئی ہے کہ 1990ء کی دہائی میں یہ فلیٹس کس قیمت پر خرید کیے گئے تھے۔ صرف ”لندن فلیٹس‘‘ کا ذکر کرکے مناسب سمجھا گیا کہ لوگ فلیٹس کی قیمت کا اندازہ خود ہی لگا لیں گے۔ فیصلے میں ان برسوں کے دوران شریف فیملی کی جانب سے لندن فلیٹس کے حوالے سے رقم کی منتقلی یا شریف فیملی کی جانب سے جمع کرائے گئے ڈکلیریشن یا کاروبار کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی لیکن ان شواہد پر بحث کیے بغیر ہی قرار دیا گیا ہے کہ نواز شریف ان فلیٹس کے اصل مالک ہیں اور وہ ان فلیٹس کی خریداری کے وسائل نہیں پیش کر سکے۔

اگر فیصلے میں پاکستان سے برطانیہ یا کسی اور ملک سے برطانیہ رقم منتقلی کی بات ہوتی تو معاملہ کچھ مختلف ہوتا اور اگر پراسیکوشن تفصیلی تحقیقات کے بعد کوئی شواہد پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے جاتے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور فیصلہ صرف اس بنیاد پر سنایا گیا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ فلیٹس خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ نواز شریف فلیٹس خریدنے سے انکاری ہیں اور لیکن بزنس کی مالیت ظاہر کرتی ہے کہ وسائل کی تو کوئی بات ہی نہیں تھی۔ (1992ء سے 1997ء کے دوران) صرف دو کاروباری یونٹس کے منافع کو دیکھتے ہی عدالتی فیصلہ مشکوک ہو جاتا ہے کہ نواز شریف کے پاس وسائل نہیں تھے۔

نواز شریف نے کبھی فلیٹس کی ملکیت کا اقبال نہیں کیا۔ جرح کے دوران پراسیکوشن گواہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں جن سے ثابت کیا جا سکے کہ نواز شریف ایوین فیلڈ فلیٹس کے مالک ہیں، نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ لندن فلیٹس کبھی نواز شریف کی ملکیت تھے ہی نہیں اور یہ میاں محمد شریف نے 1980ء میں کی گئی سرمایہ کاری کا حصہ ہیں اور یہ 2006ء میں جائیداد کی تقسیم کے نتیجے میں حسین نواز کی ملکیت میں آئے۔

احتساب عدالت نے بڑی ہی سادگی کے ساتھ سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ کے بنائے گئے اس اصول کو نظر انداز کر دیا کہ پراسیکوشن کو ٹھوس شواہد سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متذکرہ پراپرٹی خریدنے کے لئے کون سے وسائل (کرپشن یا لوٹ مار کی رقم) استعمال کیے گئے۔ لیکن اس کی بجا ئے احتساب عدالت کے فیصلے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بے ایمانی یا کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ فلیٹس کی اصل ملکیت ثابت کرنا بھی مشکل ہے۔

حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواستوں کے مطابق، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے نفاذ سے قبل پاکستانی شہری پر یہ لازم نہیں تھا کہ وہ بیرون ملک اپنی جائیدادوں کا انکشاف پاکستان میں کرے۔ عمران خان نے درخواست میں کہا تھا کہ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی آف شور کمپنی اور لندن کے فلیٹ کا پاکستان میں 2001ء سے قبل ذکر نہیں کیا تھا۔ میاں محمد شریف کے معاملے میں دیکھیں تو وہ 2001ء کے بعد اپنے انتقال تک چوتھے مارشل لا کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکس دہندہ شہری نہیں تھے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں