خدارا ہمیں جینے دو …


zeeshan hashimیہ سترھویں صدی کے عین وسط کا انگلینڈ تھا۔ خانہ جنگی، جبر اور ظلم عروج پر تھا، ریاست میں امن و امان کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ بادشاہ کا خزانہ خالی ہوتے دیر نہیں لگتی تھی، وہ امرا کے آگے ہاتھ پھیلاتا اور بدلے میں کوئی معاشی اجارہ داری عنایت کر دیتا۔ یا ادھار مانگتا جب واپسی کا تقاضا کیا جاتا تو کہتا میں نے لئے ہی نہیں۔ عدالتیں اس کے حکم کی پابند تھیں یا رشوت سے کام چکائے جاتے۔ فرد کے حقوق اور ریاست کے فرائض کا تعین کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ آئینی و قانونی بندوبست نہیں تھا۔ چہار سو مطلق العنانیت تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب جان لاک کا قلم پولیٹیکل اکانومی کے بنیادی سوالات اٹھاتا ہے۔ وہ ریاست اور شہری کے درمیان سوشل کنٹریکٹ کو موضوع بناتا ہے جو اس سے پہلے تھامس ہابس آمریت کی حمایت میں پیش کر چکا تھا مگر جان لاک سوشل کنٹریکٹ کو مختلف تناظر میں پیش کرتا ہے۔ لاک کے نزدیک سوشل کنٹریکٹ انتہائی اہم ہے کیونکہ جب ریاست اپنے متعین بنیادی فرائض کی پابندی چھوڑ کر دوسرے ذیلی امور میں مصروف ہو جاتی ہے تو بنیادی امور نہ صرف پس پشت چلے جاتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ظلم افراتفری خانہ جنگی اور فساد جنم لیتا ہے۔

لاک کے نزدیک ریاست کے بنیادی فرائض درج ذیل ہیں۔

۔ گورنمنٹ جیسا کہ نام بتاتا ہے اس کا کام شہری زندگی کے لئے انتظامی بندوبست (گورننس) قائم کرنا ہے۔ ریاست حکمران نہیں ہو سکتی، کوئی ایک فرد یا ادارہ یا گروہ انسانوں پر حکمران نہیں ہو سکتا، حکمرانی صرف قوانین کی ہو گی اور قوانین بھی وہی جو لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں۔ لاک کے نزدیک وہ بنیادی حقوق تین ہیں

١) جینے کا حق

٢) شخصی آزادی

٣) جائیداد رکھنے کا حق۔

۔ لاک کے نزدیک مؤثر گورنمنٹ اختیارات اور حجم میں چھوٹی ہوتی ہے مگر اس پر عوام کا چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کا جب جب سائز بڑھتا جائے گا وہ لوگوں کو پلان (Plan) کرنا شروع کر دے گی۔ یوں نہ صرف اپنی مثبت کارکردگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی بلکہ سینٹرل پلاننگ کے سبب افراد اپنی آزادی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

۔ ریاستی انتظام میں دلیل (reason) رہنما ہو گی

جینے کا حق تو بنیادی ہے۔ یہ دنیا میرے لئے تو تب ہی موجود ہے جب میں یہاں موجود ہوں۔ میرے مرتے ہی میرے لئے تو یہ دنیا بھی فنا ہو گئی۔ جب تک شاہد ہے مشہود قائم ہے۔ شاہد کے بغیر تو مشہود بے کار ہے۔ ایک ریاستی بندوبست جو فرد کو اس کی طبعی عمر جینے کا حق نہیں دے سکتا وہ اپنے جوہر میں وجود ہی سے محروم ہے وہ موجود ہی نہیں۔ گورنمنٹ اگر زندگیوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو یقین کیجئے وہ موجود ہی نہیں ہے۔

انسان نے تہذیب قائم ہی اس لئے کی تھی کہ اول اس کی زندگی کو تحفظ ملے دوم اسے تخلیقی آزادی ملے سوم انصاف ملے۔ ایک آزاد فرد پتھر کے دور میں بھی قبائلی جبر میں رہنا پسند کرتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر میں ان سے جدا ہو گیا تو میری بقا کی ضمانت نہیں مل سکے گی۔ وہ تھوڑی سی آزادی سرنڈر کر کے غیر محدود آزادی سے مستفید ہوتا تھا۔ زرعی عہد میں بھی وہ معاشرے جہاں زندگی خطرات کی زد میں ہوتی تھی لوگ وہاں سے ہجرت کر کے محفوظ مقامات پر چلے جاتے تھے۔ دور جدید میں بھی ہجرتوں کے اسباب یہی ہیں۔۔ اپنی زندگی کا تحفظ، آزادی کا تحفظ اور جائیداد کا تحفظ۔ بدقسمتی سے یہ سبق ہمارے لئے سمجھنا مشکل ہو گیا ہے۔

آئے دن لاشیں اٹھا رہے ہیں کبھی بم دھماکوں کی شکل میں تو کبھی ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں تو کبھی ریاستی ماورائے عدالت خون ریزی کی شکل میں، مگر ہم ریاست کے بنیادی فرائض کے سوالات پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارا اول مسئلہ شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ہے، ہم سیکورٹی چیلنجز میں ہیں، دہشت گردی کا عفریت ہمارے شہریوں سے ان کا اہم ترین بنیادی حق چھین رہا ہے مگر ہم کرپشن کی ڈفلی پر بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔

اس سے کسے اختلاف ہے کہ سرزمین پاکستان خانہ جنگی کا شکار ہے۔ یہ آزادی اور جبر کی جنگ ہے۔ دلیل کی سربلندی قائم کرنا ایک بڑا چلینج بن چکا ہے۔ دہشت گردوں کی جنگ ایک طرف عوامی حق انتخاب سے ہے تو دوسری طرف آزادی و دلیل سے ہے۔ ہیئت مقتدرہ کی بھی کشمکش ایک طرف عوامی حق انتخاب سے ہے جس پر نقب لگانے کے ہزار طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں تو دوسری طرف ان کی جنگ سویلین آزادی اور دلیل کی سربلندی سے ہے۔

ان دو برسوں میں ہم نے کتنے ہی دلیل کے پاسبانوں کو ہیئت مقتدرہ کی سرپرستی میں کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے ہاتھوں شہید ہوتے دیکھا ہے۔ ان کا جرم شہری آزادیوں کی طلب تھی، وہ دلیل کو سربلند مانتے تھے، اس جرم میں انہیں جینے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ راشد رحمان، سبین محمود اور اب خرم ذکی سمیت کتنے ہی لاشے ہم نے اٹھائے ہیں۔ شکیل اوج، ڈاکٹر فاروق خان، شہباز بھٹی، سلمان تاثیر اور شجاع خانزادہ سمیت ایک طویل فہرست ہے، اسی ہزار سے زائد معصوم شہری جینے کے بنیادی حق سے محروم کر دیئے گئے۔ اس تعداد کا تو ابھی پتا ہی نہیں جو ریاستی اداروں کی ماورائے عدالت کارروائیوں کے سبب مارے گئے۔

اس دہشت گردی کا صرف یہی حل ہے جو لاک نے اپنے عہد کے لئے تجویز کیا تھا کہ ریاست کو اس کے بنیادی فرائض کی طرف دھکیل دیا جائے، ہر فرد کی زندگی کا تحفظ ریاست کی اول و اہم ذمہ داری قرار دے کر اس بنیاد پر اس کا محاسبہ کیا جائے کہ آیا ریاست تحفظ دے رہی ہے یا نہیں۔ آزادیوں پر گرفت ہر شکل میں ممنوع کر دی جائے سوائے اس کے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی آزادی کے لئے خطرہ بنے۔ حق انتخاب پر کوئی فرد گروہ یا ادارہ غاصبانہ حملہ نہ کر سکے۔ ہر فرد کی ذاتی املاک کا تحفظ ہو۔ دلیل کی سربلندی ہو۔ قانون حکمران ہو۔ اختیار و حجم میں چھوٹی مگر مؤثر حکومت کا تقاضا کیا جائے۔ شہری آزادیاں تب قائم ہوں گی جب تک ہیئت مقتدرہ کو بیرکوں میں نہ دھکیل دیا جائے، اور یہ کام سول سوسائٹی کی سنجیدہ و ذہین جدوجہد کے بغیر ناممکن ہے۔

جب تک ہم فرد کے بنیادی حقوق اور ریاست کے فرائض کو سنجیدہ و ذہین مکالمہ کا موضوع نہیں بناتے، حکومت اور اداروں کو شہریوں کے آگے جوابدہ نہیں بناتے اور ان رکاوٹوں کو جو چاہے کسی ادارہ جاتی اجارہ داری کی شکل میں ہوں یا تاریخی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناپسندیدہ رطوبتوں کی شکل میں، دور نہیں کر دیتے اس وقت تک بہترین مستقبل کے امکانات کسی تنگ و تاریک کوٹھری کے کسی زندان میں قید رہیں گے۔ ہمیں اپنے اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لئے انہیں آزاد کرانا ہے ورنہ چیلنجز و خطرات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے اور مزید پختہ تر ہوتے چلے جائیں گے –

 


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “خدارا ہمیں جینے دو …

  • 11-05-2016 at 12:18 am
    Permalink

    Dear you may write on your wall or copy past these writeups on wall after two days for reading your thought beyond humsub

Comments are closed.