ایک مشاعرے کا آنکھوں دیکھا حال


\"ghaffer\" مشاعرہ کی اس تقریب میں شہر کے دو درجن کے قریب نمائندہ شعرا کو شرکت کے لئے بلایا گیا تھا۔ جب سے ایس ایم ایس کی سہولت میسر آئی ہے، ہر شاعر جس کو یہ ایس ایم ایس ملتا ہے، وہ شرکت کا دعوت نامہ سمجھ کر اپنا کلام سنانے چل پڑتا ہے۔ ادبی تنظیموں کو اس بارے میں احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے کہ وہ تو چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ شعرا آئیں اور مشاعرہ خوب جمے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ زیادہ شعرا کے آ جانے کی وجہ سے سامعین کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے۔

یہ مشاعرہ ایک نجی ٹیلی وژن چینل پر نشر کرنے کے لئے ریکارڈنگ کی غرض سے منعقد کیا گیا تھا۔ ٹیلی وژن چینل پر وقت طے شدہ ہوتا ہے اس لئے صرف مدعو کئے جانے والے شعرا کو ہی اس میں کلام پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عاصم حر کے علاوہ جن شعرا کو مدعو کیا گیا وہ آج کل شہر میں بہت مقبول تھے اور ہر تقریب میں ان کی شرکت یقینی تھی۔ اگر ان میں سے کسی کو نہ بھی بلایا جاتا تو ان کے سماجی اور سیاسی تعلقات ایسے تھے کہ کہیں نہ کہیں سے یہ اپنی سفارش کا ڈول ڈال لیتے۔ یہاں موجود شعرا اور شاعرات میں خاص طور پر آٹھ دس تو ایسے تھے جن کی سفارش براہ راست ا نفارمیشن اینڈ کلچر کے صوبائی وزیر نے کی۔ کچھ کے پیچھے بیوروکریٹس کی سفارشیں تھی اور جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے کئی ایک نے اپنی اپنی ادبی تنظیم بنا رکھی ہے اور یہ ماہانہ یا پندرہ روزہ کی بنیاد پر مشاعرے کرواتے رہتے ہیں۔ انہوں نے لفافہ کلچر کو فروغ دیتے ہوئے صحافیوں میں اپنی جڑیں پھیلا رکھی ہیں۔ لہٰذا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں ان کے تعلقات کا وسیع دائرہ تشکیل پا چکا ہے۔ مشاعرہ کس سطح کا بھی کیوں نہ ہو، اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز پر اس کی خبر ضرور نشر ہوتی ہے۔

اب اس کو محض اتفاق سمجھئے کہ اس مشاعرے میں عاصم حر کو صدارت کے لئے بلایا گیا تھا۔ عاصم حر ایک ترقی پسند شاعر تھا، جو بات ہوتی، وہ شاعری میں یا عام گفتگو میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر براہ راست کہہ دیتا تھا۔ شہر میں دو اور تین نمبر شعرا اور شاعرات پچھلے چند برسوں سے کھمبیوں کی طرح پھوٹ پڑے تھے۔ اس کی دو تین وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ کم وبیش ایک ڈیڑھ دہائی کے اندر شہر سے احمد ندیم قاسمی، شہزاد احمد، قتیل شفائی، احمد فراز، منیر نیازی جیسی نمائندہ علمی و ادبی شخصیات یکے بعد دیگرے اٹھ گئیں۔ جو نسل پیچھے آ رہی تھی، ان میں چند اچھے شاعر تھے مگر غیر معمولی شاعر کوئی ایک بھی نہ تھا کہ وہ نصف صدی تک مشاعرے کی روایت کو چلانے میں اپنا موثر کردار ادا کر سکتا۔ عوام میں مقبولیت بھی ابھی تک ان ہی شعرا کی تھی جو رخصت ہو چکے تھے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ اورنگ زیب عالمگیر کی نصف صدی کی طویل بادشاہت کے بعد ہندستان کی جو صورت حال تھی، کچھ ایسا ہی زوال پذیری کا منظر نامہ ادبی دنیا میں تھا۔ جو شعرا باقی رہ گئے تھے وہ اپنے سے پہلے کی نسل کے اتنے بڑے بڑے ناموں کی وجہ سے قد میں بونے ہی لگتے تھے۔ عوام میں مقبولیت کی بجائے انہوں نے شاگردوں کی فوجیں تیار کر رکھی تھیں، جہاں بھی جاتے، شاگرد ساتھ ہوتے جن کی داد کے ڈونگرے ان کا ادب میں مقام متعین کرتے تھے۔ جن خواتین کو شاعرہ بننے کا شوق ہوتا، ایک معقول معاوضے پر یہ استاد شعرا اپنی خدمات پیش کر دیتے۔ ان کے شاگرد بھی ایسی اسامیوں کو گھیر کر لانے میں ان کی معاونت کرتے کہ ان کی اپنی مجبوریاں تھیں۔

عاصم حر کی صدارت میں مشاعرہ شروع ہوا۔ ون، ٹو، تھری۔۔۔ رول آن۔۔ کیو۔۔۔۔ ریکارڈنگ شروع ہو چکی تھی۔ اس بات کا پروڈیوسر کو اندازہ نہیں تھا کہ شعرا اور شاعرات میں جن کو دعوت دی گئی ہے، گویا آگ، پانی اور ہوا اور مٹی کو اکٹھا کر کے یہ شعری کائنات بنائی گئی تھی۔ تیسرے شاعر تک تو خیریت ہی گزری۔ جب ناز انبالوی شعر سنانے آئے تو ایک مصرع میں رکن گرنے کے سبب عاصم حر نے مصرع کو دہراتے ہوئے اس میں ”بھی“ کا اضافہ کر کے وزن پورا کر دیا۔ اس بات کو عاصم حر کی گستاخی سمجھا گیا اور یہ یقین کر لیا گیا کہ وہ آن ائیر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ناز انبالوی بے وزن شاعر ہیں۔ اس کے بعد قرات نقوی اپنا کلام پڑھنے لگیں۔ ابھی مطلع کے بعد دوسرا شعر پڑھا تھا کہ عاصم حر اپنی کرسی پر بے چینی سے کسمسانے لگے۔ ان کی اس حرکت کو سب نے محسوس کیا اور وہاں موجود شعرا میں بے چینی سی رینگنے لگی۔ آخر عاصم حر سے نہ رہا گیا اور انہوں نے قرات نقوی سے کوئی دوسری غزل پیش کرنے کی گزارش کر دی۔ دراصل اس غزل میں قافیے کا مسئلہ تھا۔ جس قافیے کا اعلان مطلع میں کیا گیا تھا، اگلے شعروں میں اس قا فیے کو کھول دیا گیا۔ پروڈیوسر نے اس رخنہ اندازی کو شاعروں کا تیکنیکل مسئلہ جانا اور چند لمحے ریکارڈنگ روک کر قرات نقوی سے دوبارہ کلام سنانے کے لئے کہا گیا۔ اگلے دو شعرا کی حد تک خیریت گزری اس کے بعد جو شاعرہ آئیں، ان کے میاں خود بیوروکریٹ تھے جب کہ ان کے بڑے بھائی چیمبر آف کامرس کے صدر تھے۔ ان کے تلفظ کا مسئلہ بہت ہی سنگین ہو گیا۔ تیسرے لفظ کا جب تلفظ عاصم حر نے درست کروایا تو مشاعرے کی فضا خراب ہو چکی تھی۔ ریکارڈنگ کو بار بار روک کر شروع کیا گیا تو پروڈیوسر بھی چڑ سا گیا۔ ایک بار تو وہ کہہ اٹھا ”حر صاحب، چھوٹی موٹی غلطی معاف کر دیں اور پروگرام کی ریکارڈنگ ہونے دیں، ہمارے پاس وقت کم ہے، اس کے بعد ایک اور پروگرام کی ریکارڈنگ بھی ہے“۔ عاصم حر کو پروڈیوسر کی یہ دخل اندازی نہایت ناگوار گزری۔ انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے کہا ”بھئی اگر ہماری صدارت میں مشاعرہ پڑھوانا ہے تو ایس فاش غلطیوں کی اجازت نہیں دے سکتے“۔

پچھلے کچھ عرصہ سے ادبی تنظیموں نے عاصم حر کو اپنے مشاعروں میں ان کی اسی عادت کے سبب بلانا چھوڑ دیا تھا۔ وہ خود اچھے شاعر تھے۔ جب وہ ادبی دنیا میں وارد ہوئے تو اس وقت کے سکہ بند شعرا کے انہوں نے چھکے چڑا دیے۔ وہ نوجوان تھے، جب شعر پڑھنے آتے تو اپنا رنگ جماتے، کلام سنانے کے بعد ان کے سامعین اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک وہ اپنی نشست پر بیٹھ نہ جاتے، تالیوں کا شور جاری رہتا۔ درمیانے درجے کے شعرا تو ان کے بعد مشاعرے میں اپنا کلام سنانے سے بدکتے، مگر جب سے مشاعروں کو مزاحیہ شاعروں نے ہائی جیک کیا تھا، عاصم حر جیسے سینئر شعرا نے مشاعروں میں جانا چھوڑ دیا تھا۔ آج اگر پروڈیوسر کہ جو ان کے دوست کا بیٹا تھا، کا اصرار نہ ہوتا تو وہ ہرگز مشاعرے کی صدارت کے لئے یہاں نہ آتے۔

اس کے بعد جس شاعر کو دعوت دی گئی تھی، اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی سے لکھواتا ہے، خود تو ایک مصرع بھی نہیں کہہ سکتا بل کہ کئی مصرعے پڑھتے ہوئے غلط تلفظ کے سبب بے وزن کر دیتا ہے۔ اس نے پچاس سال کی عمر کے بعد شاعری شروع کی تھی اور اب اس کے تین شعری مجموعے شائع ہو چکے تھے۔ اس کی اپنی ادبی تنظیم تھی۔ وہ کراچی اسلام آباد کے علاوہ بیرونِ ملک بھی مشاعروں میں شرکت کے لئے جا چکا تھا۔ شہر میں اپنی شاعری بیچنے والے ہر وقت اس کے آگے پیچھے رہتے۔ جب دوسرا شعر غلط پڑھنے پر عاصم حر نے مصرع دہرا کر اس کی اصلاح کروائی تو وہ سیخ پا ہو گیا۔ نہایت بدتمیزی سے بولا،”حضرت سارے مشاعرے کا ستیا ناس کر دیا آپ نے، اپنی زبان بند رکھیں اور ہمیں پڑھنے دیں“۔ عاصم حر کو یوں لگا جیسے کانوں میں کسی نے پگھلا سیسہ انڈیل دیا ہو۔ وہ کرسی صدارت سے اٹھے، ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا۔ یہ سب غیر متوقع تھا۔ صورت حال کو سمجھنے میں چند لمحے لگ گئے۔ جب بات سمجھ میں آ گئی کہ کیا ہوا ہے تو وہاں موجود شعرا کے دو گروپ بن گئے۔ جن کو تھپڑ پڑا تھا، ان صاحب کا مخالف گروپ بغضِ معاویہ میں عاصم حر کے ساتھ ہو گیا۔ چند لمحوں میں سیٹ کا ستیاناس ہو گیا۔ موجودشعرا نے عاصم حر کے اس تھپڑ کے تسلسل میں اپنی پرانی کدورتیں خوب نکالیں۔ کچھ زخمی ہوئے، کچھ کو چوٹیں آئیں، کھینچا تانی میں دو تین کے کپڑے پھٹ گئے۔ پروڈیوسر اور اس کے اسسٹنٹ بھاگے ہوئے سیٹ پر آئے اور شعرا کو چھڑا کر الگ الگ کیا۔ ایک کونے میں سمٹ جانے والی شاعرات کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے اس میدان جنگ بن جانے والے سیٹ سے باہر نکالا۔ ہاتھا پائی تو رک گئی مگر تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ عاصم حر کو پروڈیوسر اپنے کمرے میں لے گیا۔ وہ محفوظ رہے تھے، ان کو گاڑی میں بٹھا کر گھر روانہ کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ جن صاحب کو عاصم حر نے تھپڑ مارا تھا، اگلے روز ٹیلی وژن چینل کے مالک کے حکم پر اُن کی صدارت میں اس مشاعرے کی دوبارہ ریکارڈنگ ہوئی اور یہ بہت کامیاب مشاعرہ قرار دیا گیا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ایک مشاعرے کا آنکھوں دیکھا حال

  • 11-05-2016 at 3:28 am
    Permalink

    آپ نے پتا نہیں کیا کہا، پر میرے آنسو بہ نکلے. دواے دل بیچنے والے دکان بڑھا کیوں نہیں لیتے.

Comments are closed.