کڑوی نگاہیں، پاناما پیپرز اور پارلیمنٹ


editملک کے سارے رہنماﺅں کو یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اس ملک میں آباد لوگوں کو درپیش مسائل میں غربت اور دہشت گردی ہے۔ صاف پانی کی نایابی ، آنے والے دنوں میں سیلاب کا اندیشہ اور اسکولوں میں دی جانے والی ناقص تعلیم ، مدرسوں کی تیار کی جانے والی انتہا پسند نظریات والی نئی پود ، نظریات کی بنیاد پر تقسیم اور عقیدے کے فرق پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کا رویہ …. وہ مسائل ہیں جو وطن عزیز کے سارے سیاستدانوں کی اولین توجہ کے مستحق ہیں۔ اس مقصد کے لئے ان تمام لوگوں کو جنہوں نے 2013 کے قومی انتخابات میں یا اس کے بعد ضمنی انتخابات میں قوم کی حالت سدھارنے کا وعدہ کیا تھا، ان سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ ایوانوں میں جائیں اور عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے قانون سازی کریں اور حکومت سے ان پر عملدرآمد کی رپورٹ مانگیں۔ یہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت یوں محسوس ہوتی ہے کہ گزشتہ چار پانچ ہفتوں سے حکومت سمیت ملک کی تمام اہم پارٹیاں کسی نہ کسی صورت سڑکوں پر یا جلسہ گاہوں میں موجود ہیں۔ شاید وہ عوامی رابطہ کے جوش میں بھول چکے ہیں کہ ان کا اصل کام کیا ہے۔
یوں اپنے فرض سے گریز کے ہزار بہانے تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں ایک بہانہ اپریل کے پہلے ہفتے سے اپوزیشن کے ہاتھ آیا ہوا ہے۔ اس کا نام پاناما پیپرز ہے۔ یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ پاناما کی کمپنی موساک فونسیکا کے ریکارڈ سے سامنے لائی گئی دستاویزات دراصل ان جرائم کا ثبوت فراہم کرتی ہیں جو اقتدار کے لئے جدوجہد کرنے والا ہر شخص برسر اقتدار لوگوں کے اعمال نامہ میں دیکھتا رہتا ہے لیکن اسے ثابت نہیں کر پاتا۔ جس طرح عمران خان فرما رہے ہیں کہ “میں ہمیشہ سے نواز شریف کی کرپشن کے بارے میں جانتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ شریف خاندان قوم کی دولت لوٹ کر بیرون ملک روانہ کر رہا ہے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے میری اور قوم کی مدد کر دی ہے۔ پاناما پیپرز نے میری بات کو ثابت کر دیا ہے۔“
نہ جانے یہ دستاویزات سامنے آنے سے کیا بات ثابت ہوئی ہے۔ البتہ ان دستاویزات سے سامنے آنے والی معلومات کو لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھانے والے جرنلسٹوں کے کنسورشیم ICIJ اور اس کے ساتھ مل کر کام کرنے والے دنیا بھر کے ایک سو سے زائد میڈیا ہاﺅسز اور پونے چار سو صحافیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان دستاویزات میں شامل ایسی معلومات فراہم نہیں کریں گے جو اعلان شدہ کمپنیوں کے اصل مالکان کی شناخت کے کام آ سکیں۔ یہ لوگ وہ معلومات فراہم کر رہے ہیں جو مفاد عامہ میں ضروری ہیں لیکن جنہیں سامنے لانے سے نہ تو اخفائے راز کے عہد کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے قانون کو توڑنے کا الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے یہ ساری دستاویزات فراہم کرنے والے شخص ”جان ڈو“ نے اگرچہ حکومتوں کو ثبوت و شواہد کی فراہمی میں مدد دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس نے قانون سازی اور جرم سے استثنیٰ کے حوالے سے جو شرائط پیش کی ہیں، انہیں شاید کوئی حکومت قبول نہیں کرے گی۔ یوں بھی پاکستان اور اس کی حکومت شاید اس کی مخاطب ہو گی بھی نہیں۔

اس لئے غالب امکان یہ ہے کہ پاناما پیپرز نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان کا سہارا لے کر مختلف ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے اپنے ملک کے ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کے لئے اقدامات کریں گے جو ٹیکس چوری یا قومی دولت لوٹنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جس دوران پاکستان کے سیاستدان ، فوج اور عدالت اس سوال پر دست و گریبان ہیں کہ کون اور کیسے اصل ”چوروں“ کا سراغ لگائے یا اس عالمی انکشاف سے کیسے سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے …. بھارت سے لے کر برطانیہ تک ہر ملک کے متعلقہ ادارے تفتیش و تحقیق کے کام کا آغاز کر چکے ہیں۔ ان میں ناروے میں مالی بدعنوانی کے معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے ”معاشی جرائم“ کے سربراہ نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ایک خصوصی ٹیلی فون لائن قائم کر دی گئی ہے۔ پاناما پیپرز کے نتیجے میں جن لوگوں کو اندیشہ ہے کہ قانون کے ہاتھ ان کی گردن تک پہنچ سکتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ اس فون نمبر پر رابطہ کر کے سارے معاملات بتا دیں اور اس جرم کی سزا میں خصوصی تخفیف کے مستحق ٹھہریں۔ اہل وطن کی ضیافت طبع کے لئے عرض کر دیں کہ ابھی تک کسی صحافی یا سیاستدان یا قومی دانشور نے ناروے پولیس کے اس شعبہ کے اس اعلان کو قومی مفاد کے خلاف سازش قرار نہیں دیا ہے۔

سازش کے الزام سے محفوظ رہنے والے شعبہ معاشی جرائم کے نگران تھروند ایرک شیا نے ایک مقامی اخبار سے باتیں کرتے ہوئے پاناما پیپرز کے انکشافات اور بیرون ملک دولت رکھنے کے حوالے سے بعض ایسی باتیں کی ہیں جو پاکستان میں ان سوالات پر ہلکان ہونے والے سیاستدانوں کو بھی غور سے سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے یہ دو نکات بیان کئے ہیں۔ الف) کسی ٹیکس فری ملک میں اکاﺅنٹ کھولنا یا کمپنی قائم کرنا قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ب) البتہ اس دولت کے بارے میں حکام کو اندھیرے میں رکھنا اور ناروے میں کمائی گئی دولت پر ٹیکس ادا نہ کرنا جرم ہو سکتا ہے۔ اسی لئے اب ایسے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پولیس سے رابطہ کر کے جرم کا سراغ لگانے میں پولیس کی مدد کریں اور خود بھی مطمئن ضمیر کے ساتھ سکھ کا سانس لیں۔ ٹیکس چوری کرنے والوں کو یہ پیشکش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کسی تردد اور مشکل اور بعض صورتوں میں ناممکن تحقیقات کا آغاز کرنے سے پہلے ہی زیادہ معاملات باہمی تعاون سے طے کر لئے جائیں۔ اس سے پاناما پیپرز کو جرم کا واضح ثبوت قرار دینے والوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا سہل بنا کر اسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسرے یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ یہ صورتحال ایک ایسے ملک کی ہے جہاں متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور قانون شکنی کا انکشاف ہونے کے بعد فوری طور پر حرکت میں آتے ہیں۔

یوں تو پاکستان میں بھی نیب ، ایف بی آر ، ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک جیسے ادارے موجود ہیں۔ ان اداروں کو سیاسی انتظام کے تحت ہی استوار کیا گیا ہے اور وہ ملک کے قوانین سے طاقت اور اختیار حاصل کرتے ہوئے ہی کارروائی کرتے ہیں اور قانون شکن افراد ، غیر قانونی دولت چھپانے والے لوگوں کے خلاف اقدام کرنے کے مجاز ہیں۔ پاناما پیپرز پر عدالتی کمیشن اور اس کے اختیار کی بات کرنے والے سب سیاستدانوں کو کیا یہ اندازہ ہے کہ وہ اپنے رویہ اور سیاسی نعرے بازی سے ملک کے قانونی اداروں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ کیا یہ بھی کرپشن نہیں ہے۔ کیا ایک ایسے ادارے کو بے اختیار کرنے کے لئے سیاسی مہم جوئی کرنا جو معاشی جرائم کا سراغ لگانے کے لئے قائم کیا گیا ہے، قوم کے مفاد پر سودے بازی کے مترادف نہیں۔ پاکستان کے سادہ مزاج لوگ ان ”پیچیدگیوں“ پر غور نہیں کرتے اور ان سادہ لوح لوگوں کو الجھائے رکھنے میں طاق سیاستدان معاملات کو سادگی اور قابل فہم طریقے سے دکھانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اس وقت کمیشن کے قیام پر ملک میں جو ہنگامہ برپا کیا گیا ہے، اس سے نہ صرف یہ کہ جمہوری حکومت کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنے پڑ رہے ہیں بلکہ اصل معاملہ بدستور نظر انداز ہو رہا ہے۔ اس شور شرابے میں سیاستدان ایک دوسرے پر دشنام طرازی اور الزام تراشی تو کر سکتے ہیں لیکن کرپشن اور لوٹی ہوئی دولت تلاش کرنے کا کام کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔

ملک کی اپوزیشن بے بصر اور منقسم ہے۔ تحریک انصاف کے مقاصد پیپلز پارٹی سے مختلف اور فرد واحد کی ذات پر بنی ہوئی پارٹیوں کے وزارت کی کرسی کے گرد گھومتے ہیں۔ اپوزیشن کو اس غلط فہمی میں مبتلا رہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کسی بھی طرح حکومت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے لیکن اس کمزوری کو اندیشے اور خطرے میں تبدیل کرنے کے لئے اپوزیشن کی جماعتیں ملک کی طاقتور فوج کی طرف دیکھتی ہیں۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں پاناما پیپرز میں نواز شریف خاندان کی دولت کے بارے میں انکشافات ہوتے ہیں تو اسی ماہ کے دوسرے ہفتے میں آرمی چیف بلا تخصیص احتساب کی بات کر کے پوری قوم کا دل جیت لیتے ہیں۔ لیکن خاص طور سے وہ سیاستدان شادیانے بجاتے ہیں جو اس ملک میں کسی قیمت پر جمہوریت کو ”ڈی ریل“ نہ ہونے دینے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہی لیڈر ایسے بے باک فوجی سربراہ کی طرف امید کی نظروں سے بھی دیکھنے لگتے ہیں کہ شاید ان کے دل میں رحم آ جائے اور ملک میں سیاست کی بساط یوں بچھا دی جائے کہ نہ انتخاب ہو (کہ بلا وجہ عوام سے ووٹ لینے کی زحمت کرنا ہو گی) نہ فوج اقتدار سنبھالے (کہ جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی۔ یوں بھی فوج تو پہلے ہی مقتدر ہے) لیکن حکومت تبدیل ہو جائے تا کہ ان شیروانیوں کی قسمت بھی جاگ اٹھے جن کو پہننے والے نہ جانے کب سے قوم و ملک کی بے لوث خدمت کرنے کا حلف لینے کے لئے بے چین پھرتے ہیں۔

اسی افسوسناک سیاسی مزاج کے سبب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی کوششوں سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو شرف بازیابی بخشا ہے۔ گو کہ پروٹوکول کا لحاظ کرتے ہوئے یہ ملاقات وزیراعظم ہاﺅس میں ہوئی۔ پریس ریلیز کا پیٹ بھرنے کے لئے بتایا گیا ہے کہ دونوں لیڈروں نے ملک کی سکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ لیکن اس بات کو سربستہ راز رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ جنرل راحیل شریف نے نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ پاناما پیپرز کے بعد سامنے آنے والی سیاسی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے کہ کل تک پارلیمنٹ کے سامنے وضاحت پیش کرنے سے انکار کرنے والے وزیراعظم کی طرف سے اس ملاقات کے تھوڑی دیر بعد ہی قومی اسمبلی میں بتایا گیا کہ وہ تاجکستان سے واپسی پر جمعہ کے روز ایوان کو اعتماد میں لیں گے۔ یوں دو روز سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں واک آﺅٹ کرنے والی اپوزیشن نے اطمینان کا سانس لیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم تصادم نہیں چاہتے۔

جمعہ کو وزیراعظم قومی اسمبلی میں جو بھی کہیں وہ ان دو تقاریر کا خلاصہ ہی ہو گا جو وہ گزشتہ ماہ کے دوران قومی ٹیلی ویژن پر کر چکے ہیں۔ نہ نواز شریف قومی دولت لوٹنے کا اعتراف کریں گے، نہ اپوزیشن کے پاس یہ جرم ثابت کرنے کا کوئی ثبوت ہے۔ ان حالات میں کیا یہ بہتر نہیں کہ پاناما پاناما، کمیشن کمیشن کھیلنے کی بجائے اپوزیشن اور حکومت مل کر ملک کے اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے اقدامات کریں تاکہ منتخب وزیراعظم کو ہر تھوڑے عرصے بعد ایک مضبوط تر ادارے کے سربراہ کی خشمگین نگاہوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali