چیف جسٹس کا دورہ گلگت بلتستان اور عوامی امیدیں


ملک میں ان دنوں ایک طرف 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے تو دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کے نتیجے میں اڈیالہ جیل کی ہوا خوری پر تبصروں اور تجزیوں کا چرچا ہے۔ ایسے میں گلگت بلتستان جیسی بے آئین سر زمین کے عوام فقد ٹی وی سکرینوں کے ذریعے اس صورتحال کا مشاہدہ کرنے میں مگن تھے کہ اسی اثناء سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب اچانک خطے میں وارد ہو کر عوام کی توجہ کا مرکز بنے۔

چیف جسٹس صاحب چند روز قبل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ گلگت بلتستان کی حسین و جمیل وادیوں کی سیر و سیاحت کی غرض سے خطے میں تشریف فرما ہوئے ہیں۔ صوبائی دار الخلافہ آمد پر گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالتوں کے ججز و عملہ کے علاوہ انتظامی افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعدازاں چیف صاحب نے اولین فرصت میں گلگت شہر سے متصل سیاحتی مقام کارگاہ نالہ کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے قدرتی ماحول کے علاوہ نالے کے صاف و شفاف پانی اور ٹراوٹ مچھلی سے خوف لطف اٹھایا۔

شام کو گلگت میں قیام کے بعد اگلے روز چیف جسٹس صاحب عالمی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مقام ہنزہ، نگر کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں راکاپوشی ویوپوائنٹ پر چند ننھے منھے بچوں نے پھولوں کے گلدستے لئے ان کا استقبال کیا۔ چیف صاحب نے بڑے پیارے سے ان بچوں کے تحائف قبول کیے۔ پھر جب محو گفتگو ہوئے تو ان بچوں نے معصومانہ انداز میں ان کے سامنے اپنا قومی مقدمہ پیش کرکے انہیں حیرت میں ڈال دیا۔ ان بچو ں کا کہنا تھا کہ ‘جناب والا! ہم گزشتہ سات دہائیوں سے آئین کے سایہ سے محروم چلے آرہے ہیں، یہاں کے عوام دیگر پاکستانیوں سے بڑھ کر محب وطن ہیں اور ملکی بقا و سلامتی کی خاطر بے شمار قربانیاں د ی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکمران ہمیں پاکستانی ماننے کو تیار نہیں، ہم ان بنیادی و آئینی حقوق سے محروم ہیں جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں، ہماری صد ا سننے کو بھی کوئی تیار نہیں، براہ کرم ہمارے اس قومی مسئلے پر سنجیدگی سے غور فرما کر ہماری محرمیوں کا ازلہ کریں تو آپ جناب کی عین نوازش ہوگی‘۔

چیف جسٹس صاحب ان بچوں کی گزارش سن کر ششدر رہ گئے۔ ایک لمحے کے لئے مسکرا دیے اور پھر واپسی پر اپنے منصب کی کرسی سنبھالنے کے بعد مسئلے کا بغور جائزہ لینے کی یقین دہانی کرا کر بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ وہاں سے وہ وادی ہنزہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو راستے میں ناصرآباد نامی گاؤں میں کچھ مظاہرین نے انہیں گھیر نے کی کوشش کی۔ ان مظاہرین میں علاقے کی خواتین اور بچے شامل تھے جن کے ہاتھوں میں آویزاں پلے کارڈز پر معروف ترقی پسند رہنما کامیریڈ بابا جان اور ان کے اسیر ساتھیوں کوانصاف کی فراہمی کی گزاشات درج تھیں۔

باباجان اور ان کے چند ساتھیوں کو کار سرکار میں مبینہ مداخلت کے الزام میں گلگت بلتستان کی عدالتوں کی جانب سے متعدد سزائیں سنائی گئیں ہیں، جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ ان سزاؤں کے نتیجے میں وہ گزشتہ کئی سالوں سے قید و بند کی صعبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

مظاہرین کو دیکھتے ہی قافلہ رک گیا اور میاں ثاقب نثار صاحب گاڑی سے اتر کر مظاہرین کے پاس پہنچ گئے۔ اس دوران مظاہرین نے چیف صاحب کی خدمت میں زبانی طور پر اپنی مدعا بیان کرنے کے بعد رخصتی کے وقت انہیں ایک تحریری درخواست تھما دی جو بابا جان و ساتھیوں کو دی جانے والی سزاؤں پر نظرثانی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے الفاظ پر مشتمل تھی۔

چیف جسٹس صاحب نے وہ درخواست اٹھائی اور انہیں بھی انصاف کی فراہمی کا یقین دلاتے ہوئے اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔ اس روز انہوں نے ہنزہ کے مختلف سیاحتی و تاریخی مقامات کا دورہ کیا اور عوام سے کھل مل گئے۔ اس دوران انہیں ہنزہ کے عوام کی جانب سے بجلی، پانی، شاہرہ قراقرم کی زد میں آنے والی آراضیات کے معاوضوں کی آدائیگی میں تاخیر جیسے مسائل سے انہیں اگاہ کیا گیا۔

چیف جسٹس صاحب نے رات ہنزہ میں گزاری جہاں پر ڈنر میں علاقائی کھانوں سے ان کی خاطر تواضع کی گئی۔ اگلے روز عمائدین ہنزہ نے ان کے اعزاز میں ایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا، جس سے چیف جسٹس صاحب خوب لطف اندوز ہو کر ہنزہ کا علاقائی لباس زیب تن کر کے روایتی رقص بھی پیش کی۔

ہنزہ سے واپسی پر وہ ضلع گلگت کے معروف سیاحتی مقام نلتر کی سیر کو نکلے تو راستے میں نومل نامی گاؤں کے عوام کی جانب سے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس دوران لوگوں نے چیف جسٹس پر پھول برسائے اور تحفے تحائف پیش کیے۔ یہاں کے عوام نے بھی اپنے چیدہ چیدہ مسائل چیف جسٹس کے نوٹس میں لے آئیے اور ان سے انصاف کی فراہمی امید لئے رخصت ہوئے۔ اسی طرح نلتر پہنچنے پر بھی ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اگرچہ چیف جسٹس کا گلگت بلتستان کا یہ دورہ تادم تحریر اختتام پزیر نہیں ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ اپنے اس دوران استور، سکردو سمیت دیگر سیاحتی و تاریخی مقامات کا بھی دورہ کریں گے۔ تاہم گلگت ڈویژن میں چند روز قیام کے دوران مجموعی طور پر وہ خطے کے عوام کی مہمان نواز اور حب الوطنی کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے۔ اس برملا اظہار انہوں نے متعدد مقامات پر عوام سے گفتگو میں بھی کیا۔

غالباً چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کا گلگت بلتستان کا یہ پہلا دورہ تھا اور اس دوران ان کا خطے کے قدرتی حسن اور عوام الناس کی بے لوث محبت سے متاثر ہونا یقیناً یہاں کے باسیوں کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ ملک کے ایک اہم ادارے اور ریاست کے ایک ستون کے سربراہ کے اس دورے کے دوران علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال بالکل معمول کے مطابق رہی۔ اس دوران نہ کسی سڑک کو بلاک کیا گیا نہ کہیں پر کسی شہری کی بے جا تلاشی لے کر ذد و کوب کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ گلگت شہر کی مین شاہراہوں پر نہ کہیں ٹرک یا کنٹینر لگا کر ٹریفک کو روکا گیا نہ کسی گلی کوچے میں کوئی سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر چوکس نظر آیا۔ کہیں سے نہ خود کش حملے اور بم دھماکے کی کوئی اطلاع موصول ہوئی نہ کہیں سے ریاست یا عدلیہ مخالف نعرے گھونج اٹھے۔

ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو جب بھی کوئی وی آئی پی شخصیت کی گلگت بلتستان آمد متوقع ہو جاتی تو علاقے کی صورتحال قدرے مختلف رہتی تھی۔ اس دوران شہر میں مکمل طور پر کرفیو کا سماں ہو جاتا۔ ہر طرف سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر مامور نظر آ جاتے، تمام سڑکیں بند رہتی، جگہ جگہ مسافروں اور عام شہریوں کی جامع تلاشی لی جاتی اور کاروباری مراکز جبری طور پر بند کر کے شہر کو سنسان کیا جاتا۔

یوں پاکستانی عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم یا کوئی وفاقی وزیر کا دورہ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے رحمت کی بجائے زحمت کا باعث بن جاتا۔ حالانکہ عوام سے براہ راست تعلق تو چیف جسٹس کی نسبت ایک عوامی منتخب نمائندے یا ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت کا زیادہ ہوتا ہے۔ عوام انہیں اپنا ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں اسی لئے عوام کے درمیان جا کر مسائل دریافت کرنا انہی کا فریضہ ہوتا ہے۔

لیکن بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد گلگت بلتستا ن میں کوئی ایسا لیڈر نہیں آیا جو بغیر کسی سیکورٹی کے حصار میں عوام سے براہ راست مخاطب ہو کر ان کے مسائل حل کیے ہوں۔ یہاں پر تو ہر دور میں حکومتی شخصیت کے دورے انتخابی مہمات اور اپنی مرضی و منشا کے مطابق بنائے گئے قوانین کو عوام پر مسلط کرنے کے گرد گھومتے ر ہے۔ جس سے عوام کو محرمیوں، محکومیوں اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ مسلم لیگ (ن) کے حکمرانوں نے تو علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے افتتاحی فیتے بھی عالیشان ہوٹلوں میں کاٹ کر ایک نئی روایت دے ڈالی۔

اس کے باوجود یہاں کے منتخب نمائندوں نے عوامی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ہر وقت وفاقی پارٹیوں کے قصیدے پڑھنے پر اکتفا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج گلگت بلتستان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی سے اظہار مایوسی کے طور پر اپنے مسائل نجی دورے پر آئے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اب یہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک ان محکوم و مظلوم عوام کی اشک شوئی کریں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بہتر بتا دیگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں