مزے ہیں اور ہم ہیں


wisi 2 babaکورین کمپنی نے اپنے پھٹیچر برانڈ کو مارکیٹ میں لگاتار پٹتا محسوس کیا تو اس کا نام ہی بدل دیا۔ نام بدلا تو علاقائی ڈیلر بھی بدل دیئے۔ ہمارے خان مست کو بہت پیار محبت عقیدت وغیرہ سے آگاہ کیا کہ اب اس کی ڈیلر شپ مزید نہیں چل سکتی اگر وہ چاہے تو اس کے نام سے کمپنی ساری رینج اسے رعایتی قیمت پر دینے کو تیار ہے۔

خان مست نے اپنی پوری عقل استعمال کی بلکہ سر پر خارش تک کی۔ ایک دو ہاتھ بھی مارے اپنی سری پر۔ نتیجے میں پرجوش ہو کر کمال جرات سے نہ صرف آفر سے انکار کر دیا بلکہ اپنے اندر سوئے پڑے قبائلی کو جگا کر کورین حضرات پر چھوڑ دیا جس نے ان کی اچھی طرح بلے بلے کی۔

اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب کورین مال نئے نام سے مارکیٹ میں آیا تو خان مست کو بیٹھے بٹھائے پرانے نام اور سٹاک کی وجہ سے کروڑوں کا گھاٹا ہوا۔ اپنے پیسے تو گئے ہی ساتھ اچھی طرح مقروض ہو گیا۔ پھر جب اس کے پاس اپنی رقم کا تقاضہ کرنے لوگ آتے اس کی عزت کرتے اس کی عقل کی داد دیتے تو وہ بالکل فریش ہو جاتا۔ ایسے میں ہم لوگ جب اس سے حال پوچھتے تو وہ ہمیں بڑے پیار سے دیکھتا اور کہتا کہ مزے ہیں اور ہم ہیں۔

کسی کو امید نہ تھی کہ خان مست اس مالی نقصان کے بعد سر اٹھا سکے گا۔ ہم سب نے ہی یہ خبر حیرت سے سنی کہ خان مست یورپ کے دورے پر چلا گیا۔ سب کا خیال تھا کہ بھاگ گیا ہے لیکن وہ ہفتے دس دن بعد ایک مختصر دورہ کر کے واپس پہنچ گیا۔ آتے ہوئے وہ اپنے ساتھ ایک یورپی کمپنی کی ساری رینج کا ایک ایک سامپل لایا تھا۔

اس سے ملاقات پر پوچھا کہ کیا ہوا اب یورپی ماڈل کو لانچ کرنے لگے ہو کیا یہ تو مہنگا ہے نہیں چلے گا۔ خان مست بولا بالکل نہیں چلے گا۔ کمپنی والا کا ایک تو نیت ٹھیک نہیں اوپر سے فل بگیرت (بے غیرت ) بھی ہے ( وہ اپنے جذبات کا اظہار ایسے ہی کرتا ہے ) رعایت کرنے کو بھی تیار ہی نہیں تھا وہ فرنگی…. خان مست کو ایک ہوائی سی تسلی دی تو اس نے کہا …. زہ مڑا اپنا کام کر۔

خان مست ابھی مالی صدمے سے نکلا نہ تھا کہ اس کے ایک بھائی نے مالی مسائل فوری حل کرنے کے لئے چرس کا ایک تگڑا پھیرا لگایا جو باہر تو کیا جاتا، پشاور ہی سے پانچ چھ کلومیٹر دور پکڑا گیا۔ نئی افتاد بھی کروڑوں میں پڑی۔ خان مست سے تعزیت کرنے اس کی نبض چیک کرنے پہنچے۔ موقع کی مناسبت سے الفاظ نہ ہونے کی وجہ سے پوچھ بیٹھے کہ کیا حال ہے تو اس نے جواب دیا کہ مزے ہیں اور ہم ہیں۔

نیا کیس ابھی پوری طرح سنبھلا نہ تھا کہ خبر ملی۔ خان مست چین چلا گیا واپس آیا تو خالی ہاتھ تھا۔ اس کے ساتھی بڑی خریداری کر کے کنٹینروں میں مال لائے۔ وہ ہاتھ لمکائے (لٹکائے) واپس آیا۔ اس سے ملے حال پوچھا تو اس نے کہا مزے ہیں ہم میں۔ اس کا یہ جملہ مقبول ہوتا جا رہا تھا۔اس سے پیسوں کا تقاضہ کرنے والوں کو بھی صبر آتا جا رہا تھا کہ خان مست کا حوصلہ بے مثال تھا۔ وہ نقصان کے باوجود آمدن میں گراوٹ کے باوجود پوری طرح قائم تھا ۔ اس کا جملہ کہ ’مزے ہیں اور ہم ہیں‘ پھیلنے لگا تھا۔

پھر یوں ہوا کہ ایک دن اچانک خان مست کے کنٹینر آئے یورپی برانڈ کی پراڈکٹ مارکیٹ ہوئی۔ ہفتوں میں وہ ’مزے ہیں اور ہم ہیں‘ کی علامت بن گیا۔ یہ تو اس نے بعد میں بتایا کہ یورپی کمپنی کا اس نے کس طرح کباڑہ کیا ۔ اور اپنا جانے کونسا بدلہ لیا کہ چائنہ سے وہی برانڈ بنوا کر ’میڈ ان فرانس‘ کے نام سے چلا دیا۔ وہ کمپنی اب ہمارے ریجن سے پھوٹ لی ہے ….خیر۔

خسارے جاتے رہے بلکہ خسارے ہی کیا ’میڈ ان فرانس‘ والا برانڈ بھی اس سے چلا گیا لیکن اس نے نئی آئیٹم نئے میڈ کے ساتھ مارکیٹ کر دی۔ بنوائی پھر چین سے تھی۔ خان مست کی کہانی جاری ہے۔ ایک ترتیب کے ساتھ وہ دیوالیہ ہوتا رہتا ہے۔ پھر اٹھتا ہے، گرتا ہے، ڈوب جاتا ہے ، پھر تیرنے لگتا ہے کچھ دیر بعد اڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اس کہانی کی مثالیں کوئی بہت اچھی نہیں ہیں۔ اچھا بس ایک جملہ ہے جو پہچان بنا خان مست کی جس نے نہ صرف اس کو دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد دی بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو اس کے متاثرین کو بھی اعتماد دلایا۔

حالات جیسے بھی ہوں۔ ان کا مزہ لیں۔ یہی بولیں کہ ’مزے ہیں اور ہم ہیں‘۔ پھر مزے ہوں گے اور آپ ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments