ختم نبوت پر سیاست کا انجام


آنے والے انتخابات میں ختم نبوت کے عقیدے کے گرد گھومنے والی سیاست کسی فلسفی کی یاد تازہ کررہی ہے جس نے کہیں لکھا تھا کہ مرتبان میں وہ اقدار اور تصورات رکھیں جنہیں ایک معاشرہ یا گروہ مستقل اقدار سمجھتا ہے پھر اُن سے وہ اقدار اور تصورات نکال لیں جو دوسرے معاشروں میں مستقل اقدار اور قابلِ احترام تصورات نہیں سمجھے جاتے، آپ دیکھیں گے کہ جو ڈبہ کچھ دیر قبل اقدار اور تصورات سے بھرا پڑا تھا، بالکل خالی ہوگیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بالکل ایسا ہی تجربہ ان لوگوں کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے جو دنیا بھر میں خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اگر انہیں کسی میدان میں جمع کیا جائے اور پھر اُن سے وہ لوگ نکال لئے جائیں جن کی مسلمانیت دیگر مسلمانوں کے نزدیک مشکوک ہے تو وہ میدان بالکل خالی ہوجائے گا۔

یہاں کچھ ایسی ہی صورتِ حال اس وقت سامنے آئی جب ہماری عدالتوں نے 1953 میں پنجاب میں ہونے والے فسادات کے بعد تشکیل پانے والے جسٹس منیر کمیشن نے مسلمان کی تعریف طلب کی۔ اس تعریف کا طلب کیا جانا ضروری تھا کیونکہ مثل مشہور ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں اور جب تک یہ واضح نہیں ہوجاتا ہے کہ مسلمان کون ہے، یہ تعین نہیں کیا جاسکتا کافر کون ہے۔

قانونی منطق کی بنیادی سوجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں مسلمان نہیں ہے تو اس دعوے کی تائید کرنے والے پر لازم ہوجائے گا کہ وہ مسلمان کی کوئی متفقہ علیہ تعریف منظر عام پر لائے تاکہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ خود کو مسلمان سمجھنے والا فرد یا جو دیگر مسلمانوں کے نزدیک غیر مسلم ہو اس تعریف پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

عدالت کے حکم پر اصطلاح ”مسلمان‘‘ پر تحقیق کی گئی، سینکڑوں جید علما، فقہا اور صائب الرائے سمجھے جانے والے دینی مفکرین سے رابطہ کیا گیا، سب نے موضوعی انداز میں، اپنے مکتبِ فکر، فقہ، مسلک اور ذاتی میلان کے مطابق اس اصطلاح کی تعریف پیش کی۔ یہ تمام تعریفیں جب عدالت کے سامنے پیش ہوئیں تو معلوم ہوا کہ ہر فرقے، مسلک اور مکتبِ فکر کی پیش کردہ تعریف کی روشنی میں صرف تعریف پیش کرنا والا گروہ ہی صرف مسلمان تھا۔
اگر صورتِ حال یہ ہے تو کیا یہ قانونی نتیجہ سامنے نہیں آتا کہ مسلمان اور کافر جیسی اصطلاحات یا تو اضافی ہیں یا پھر بے معانی؟

جسٹس منیر کمیشن رپورٹ سے قبل ہندوستان میں کچھ ایسا ہی واقعہ 1926 میں پیش آیا جب ریاست بہاولپور کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر ہوا کہ جس میں خود کو مسلمان کہنے والی ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس کے خاوند نے چونکہ قادیانی مسلک اختیار کرلیا ہے، اس لئے وہ اب مسلمان نہیں رہا لہٰذا اس شخص سے مدعیہ کا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ ہندوستان میں یہ پہلا مقدمہ تھا جس میں فیصلہ طلب سوال یہ تھا کہ کوئی شخص قادیانی مسلک اختیار کرنے کے بعد مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔ یہ مقدمہ نو سال تک چلتا رہا اور فروری 1935 میں ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر محمد اکبر نے اس کیس کا فیصلہ خاتون کے حق میں سنا دیا۔

فیصلہ تو خاتون کے حق میں کیا گیا لیکن اس فیصلے میں اس وقت کے جید علمائے کرام اور مفتیان کی فہرست بھی شائع ہوئی جو عدالت کو مسلمان اور خاص طور پر نبی کی ایسی تعریف فراہم کرنے میں ناکام رہے جس پر سب کا اتفاق ہو۔ ان علمائے کرام میں میں مولانا غلام محمد شیخ جامعہ عباسیہ بہاولپور، مولانا نجم الدین پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولانا محمد شفیع مفتی دارالعلوم دیوبند، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری اور مولانا سید انور شاہ شیخ العلوم دارالعلوم دیوبند شامل تھے۔

اس کے علاوہ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ فیصلے کا دارومدار اس بات پر رہا کہ نبوت کی تعریف کیا ہے اور نبی کسے کہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں مشکل یہ پیش آئی کہ :

” موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان خود نبی کی حقیقت سے بھی نا آشنا ہیں۔ اس لئے بھی یہ مسئلہ ان کے دلوں میں گھر نہیں کرسکتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس پر اس قدر چیخ و پکار کی جارہی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کی تھوڑی سی حقیقت بیان کردی جائے۔ مدعیہ کی طرف سے نبی کی کوئی تعریف بیان نہیں کی گئی صرف یہ کہا گیا ہے کہ نبوت ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے برگزیدہ بندوں کو عطا کیا جاتا رہا ہے اور نبی اور رسول میں فرق بیان کیا گیا ہے کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے مگر نبی کے لئے لازمی نہیں کہ رسول بھی ہو۔

مدعیہ کے برعکس فریق ثانی نے (بحوالہ تہراس ص 89 ) بیان کیا ہے کہ رسول ایک انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ احکامِ شریعت کی تبلیغ کے لئے بھیجتا ہے بخلاف نبی کے وہ عام ہے کہ کتاب لائے یا نہ لائے لیکن رسول کے لئے کتاب شرط ہے۔ اسی طرح رسول کی ایک تعریف یہ بھی کی گئی ہے کہ وہ رسول ہوتا ہے جو صاحب ِ کتاب ہو یا سابقہ شریعت کے بعض احکام منسوخ کردے ‘‘۔ (فیصلہ ص 106۔ 7)

فاضل جج نے فیصلے کے صفحہ 107 پر یہ بھی لکھا کہ یہ تعریفیں اس حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہ تھیں اس لئے وہ اس جستجو میں رہے کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحاتِ قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو لیکن انہیں کوئی ایسی تعریف نہ مل سکی اور آخر کار انہیں چوہدری غلام احمد پرویز کے تحریر کردہ ایک رسالے ’میکانکی اسلام ‘ وہ تعریف مل گئی جو نبوت کی حقیقت کو بہترین انداز میں بیان کرتی ہے (واضح رہے کہ نبوت کی ’حقیقت ‘ کا تعین کرنے والا ایک جج تھا )۔ فاضل جج کے بقول ان کی پیش کردہ تعریف سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا اس لئے اس تعریف کی روشنی میں انہوں نے فریق ثانی کو مرتد اور مدعیہ سے ان کے نکاح کو فسخ قرار دیا ہے۔ (ص 186)

غلام احمد پرویز نے یہ واقعہ اپنی کتاب “ختم نبوت اور تحریک احمدیت ‘‘ میں بیان کرکے قادیانیوں کی تکفیر کی ’علمی‘ بنیادیں فراہم کرنے کا کریڈٹ لیا اوربعد اذاں خود احادیث کا انکار کرنے کی پاداش میں سینکڑوں علما کے نزدیک کافر قرار پائے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں