کیا نواز شریف کی بیرک میں واقعی سانپ نکلا تھا؟


چند روز قبل ایک اخبار نے نواز شریف کے حوالے سے ایک خبر شائع کی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وائرل ہو گئی۔ خبر تھی کہ اڈیالہ جیل میں نواز شریف کی بیرک سے سانپ نکل آیا تھا جسے دیکھ کر نواز شریف نے شور مچانا شروع کر دیا۔ جیل کا عملہ فوراً اکٹھا ہوگیا جنہوں نے مل کر سانپ کو بھگا دیا۔ تاہم سانپ کو مارا نہ جا سکا۔ سانپ کی لمبائی 3 فٹ سے زائد تھی۔ سانپ دیکھ کر نواز شریف کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا تھا۔ بعد ازاں ڈاکٹر نے میاں نوازشریف کو چیک کیا۔ وہ تندرست تھے۔ واقعہ کی خبر سن کر سابق وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے۔

یہ اخبار یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے لیے معمولی سے خبر تھی جو اتنی پذیرائی حاصل نہ کرسکی البتہ مجھے چونکا گئی۔ اتنا ہائی پروفائل مجرم ہو اور دوسرے دن ہی اتنا بڑا واقعہ رونما ہو جائے، یہ کیسے ممکن ہے۔ بطور صحافی میں نے اس واقعے کی کھوج لگانے کا فیصلہ کیا۔ میرے باوثوق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ سابق وزیراعظم کی بیرک میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی ان کی بیرک سے کوئی سانپ برآمد ہوا اور نہ ہی ان کا بلڈپریشر ہائی ہوا۔ جانے یہ جھوٹی خبر کیوں پھیلائی گئی۔

ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ سابق وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے علاوہ پارٹی کے دیگر لوگ بھی ملاقات کے لیے آتے رہتے ہیں لیکن ان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ طارق فضل چوہدری سانپ نکلنے کے واقعے سن کر نہیں آئے تھے بلکہ وہ معمول کی ملاقات کے لیے تشریف لائے تھے جس کی انہوں اجازت نہیں دی گئی اور وہ سامان و دیگر اشیاء خورد و نوش دے کر بغیر ملاقات کے واپس روانہ ہوگئے تھے۔

جیل میں نواز شریف کو بیرک نہیں بلکہ 12 بائی 12 کا کمرہ دیا گیا ہے۔ اس کے آگے چھوٹی سی لان طرز کی جگہ ہے جہاں سابق وزیراعظم چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ جیل میں ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ہر ایک گھنٹے بعد ان کا چیک اپ کرتے ہیں، کھانا بھی انہیں ان کی مرضی کا دیا جاتا ہے۔ خشک راشن لنگر خانے میں فراہم کردیا گیا ہے۔ ان کا کھانا جیل کے لنگر خانے میں سپیشل باورچی پکاتا ہے۔ نواز شریف صاحب کو ڈاکٹر باقاعدہ کھانا چیک کرکے پیش کرتے ہیں۔

جیل میں پہلے دن سابق وزیراعظم نے سب سے اچھی طرح ملاقات کرتے ہوئے ان کا حال احوال بھی دریافت کیا جس پر جیل کا عملہ کافی خوش بھی دکھائی دیا کہ قید میں ہی سہی، ملک کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف سے انہیں ہاتھ ملانے کا شرف تو حاصل ہوا۔

سابق وزیراعظم کو کمرہ جیل میں ابھی تک ائیر کولر یا ائیر کنڈیشنر کی سہولت نہیں دی گئی۔ صرف چھت والے پنکھا ہی ہوا دے رہا ہے جس میں گرمی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ 3 بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے گرمی کی شدت بڑھتے ہی اپنی قمیض اتار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں نے جب قمیض اتار کر بیٹھنے والی بات سنی تو مجھے نواز شریف کا سندھ میں کیا گیا ایک جلسہ یاد آگیا جس میں سٹیج پر ان کی تقریر کی دوران چلر لگایا گیا تھا تاکہ وزیراعظم کو گرمی کا احساس نہ ہو اور آج قید میں انہیں صرف چھت والا پنکھا ہی نصیب ہے۔ وہ کیسے جیل کی گرمی برداشت کر رہے ہوں گے یہ میرے لیے تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

میرے ذرائع نے مجھے مزید بتایا کہ نواز شریف صاحب جیل میں پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں تسبیح بھی ہوتی ہے جو وہ ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ وہ کسی تکلیف میں نہیں مگر قید بذات خود ایک بڑی اذیت ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں