جبران ناصر، بھیجہ فرائی نہ کر


اے خبری، سب کو بتا دے۔ سیدھے ہو جائیں۔ جس کو کان نہیں ہوتے اس کے دو کانوں کے بیچ سر کر دے۔ جو نہیں سنتا، سن لے، جو نہیں جانتا، جان لے۔ ادھر ووٹ کی عزت مانگنے کا۔ ووٹ کس کو دینے کا۔ جس کی عزت کرنے کا۔ عزت کس کی کرنے کا۔ جس کا عقیدہ درست ہوئیں گا۔ لوٹتا ہے تو لوٹ لے، قانون بنانا نہیں آتا تو میرے کو کیا۔ ترقی کا پہیہ الٹا گھماتا ہے تو گھمانے دے نا۔ عقیدہ ٹھیک ہونے کا ہے۔ بس ہم کو یہیچ مانگتا ہے۔

یہ سالا کیسا مسلمان ہے۔ ہم کہتا ہے کلمہ پڑھ تو کلمہ نہیں پڑھتا۔ ہم کہتا ہے گالی دو تو گالی نہیں دیتا۔ ہم کہتا قادیانی کو کافر بولنے کا تو سالا چپ۔ ابے، ادھر عمران خان کافر بولتا ہے، عاطف میاں کو ادھر اٹھاتا ہے، ادھر اگلے دن گراتا ہے۔ ادھر نواز شریف کا داماد اسمبلی میں نعرے لگاتا ہے۔ چریا تو نہیں کہ باپ کی مرضی کے بغیر بولے گا۔ ادھر فضل الرحمان کو لے آؤ، سراج الحق کو لے آؤ۔ سب کافر بولتا ہے۔ وہ بلور بھی تو انعام رکھتا تھا نہ سر اتارنے کو جو بھی رسول کی شان میں گستاخی کرے، اس کا۔ بلاول کے تو نانا کے ہی صدقے۔ آئین میں لکھا اس نے کہ نہیں۔ ایک وہ لندن میں بیٹھا جوکر کچھ صحیح سے نہیں بتاتا پر وہ تو بیوڑا ہے، اس کی چھوڑ۔ یہ سارے سینٹی ہیں کیا۔ بھیجا پھریلا ہے سب کا؟ ابے، یہ سب کافر بولتے ہیں تو تو کیوں نہیں بولتا۔ اندر ہیچ سے ہی کوئی سیٹنگ مالوم پڑتا ہے میرے کو۔

گلی پکی نہیں ہوتی، نہ ہو۔ صفائی نہیں ہوتی، نہ ہو۔ یہ ایکسپورٹ میکسپورٹ، یہ بجٹ وجٹ، یہ قرضہ مرضہ، ارے ہم کو کیا۔ پہلے بھی تو جی رہے ہیں نا۔ ابھی بھی جیتے رہیں گے۔ پر ایک دن تو مرنا ہے نا کھوتی کے سر۔ تو ادھر کیا منہ دکھائیں گے۔ ہیں، سالا یہ ادھر چوری کرنے کا، ڈاکہ ڈالنے کا، ریپ کرنے کا، بیوی کی، بچوں کی پٹائی لگانے کا، مرچ میں برادہ ملانے کا۔ ہے سالا، ہے ہم گنہگار، پر نہ نہ نہ، یہ عقیدے پر کیسے سمجھوتہ کر لے۔ یہ نہیں ہونے کا ہم سے۔

ابے تیرا شناختی کارڈ ہم نے تھوڑی دیکھا ہے۔ تیرا پاسپورٹ ہم نے تھوڑی بنایا ہے۔ حلف نامہ، حلف نامہ۔ سالے، اسی حلف نامے کا پہلے بیڑا غرق کیا، اب اسی کے پیچھے چھپتا پھرتا ہے۔ ہمیں تو ادھر کھڑا ہو کر کلمہ سنا۔ یہ خدا خدا نہ کر ہمارے ساتھ۔ ہم کو خدا کا نہیں مالوم۔ ہم کو ادھر ثبوت مانگتا ہے۔ گالی دے ان حرامی کافروں کو۔ کیسا مسلمان ہے رے تو۔ اقبال کیا کہتا تھا۔ کہ سیاست سے مذہب نکل جاوے تو چنگیز خان بچتا ہے۔ تو چنگیز خان ہے کیا۔ ادھر سارے باقی چریا ہیں کیا جو اسلام کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں۔ ایمان سے بڑھ کر کیا ہے رے۔

تجھے کس بات پر ووٹ دیں، یہ ترقیاتی کام، یہ قانون سازی، یہ داخلی سلامتی، یہ خارجہ پالیسی، یہ اتنے سارے مشکل مشکل نام، ابے یہ قبر میں لے کر جائے گا کیا۔ دیکھ ادھر، یہ شہر دیکھ کر تو ویسے ہی موت یاد آتی ہے، تجھے بھول گئی ہے لگتا ہے۔ کلمہ سنا، کلمہ۔ جو کلمہ سنائے گا، قادیانیوں پر لعنت بھیجے گا، اسی کو ووٹ ملنے کا۔ یہ بھیجا نہ کھروچ ہمارا۔ اپنے بھی بھیجے کو فرائی کرنا چھوڑ، دل پر ہاتھ رکھ کر بات کر۔

یہ جو بھیجا ہے، یہ شور کرے گا۔ تو پھر گولی کھائے گا۔ ہی ہی ہی۔ ہم کو گانا یاد آ گیا۔

گولی مار بھیجے میں
کہ بھیجہ شور کرتا ہے
بھیجے کی سنے گا تو مرے گا کلو
کلو ماما۔ جبران ماما
ہی ہی ہی۔ سالا پاکستان میں عقل کی بات کرتا ہے۔ مارو سالے کو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 129 posts and counting.See all posts by hashir-irshad