ہمارے وطن کو لاحق بیماری اور اس کا علاج


کئی ہفتے پہلے میں نے کرسٹوفر ہچنز کی کتاب ”مورٹیلیٹی“ یعنی کہ ”فنا“ پڑھنا شروع کی، یہ کتاب ہچنز نے بستر مرگ پر لکھی، میری رائے میں یہ کتاب ہچنز کی لکھی گئی تمام کتابوں میں سے اس کی سب سے بہترین کتاب ہے، اور اس کی ہر کتاب ایک سے بڑھ کر ایک ہے، چند سیاسی معاملات پر اس سے اختلاف رائے کے باوجود آپ اس کی تحاریر پڑھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کہ میں یہ کتاب پڑھ رہا تھا، ابھی دوسرے صفحے پر تھا تو ایک فقرے پر ایسا رکا کہ لکھنا شروع کر دِیا، ہچنز اس فقرے میں اپنے اس ہسپتال کی منظر کشی کر رہا تھا، جہاں اس کو لاحق مرض کی تشخیص کی جا رہی تھی، بعد ازاں اسے پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص کی گئی اور جب وہ ہسپتال پہنچا تب تک مرض پھیل کر اس کی خوراک کی نالی سے ہوتا ہوا حلق اور کچھ اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ خیر، ہچنز لکھتا ہے کہ جس روز اس کی طبیعت پہلے روز خراب ہوئی اسے دو پروگراموں میں شرکت کرنا تھی، جن کی ٹکٹیں بہت پہلے سے بِک چکیں تھیں، لہٰذا اس کا وہاں پہنچنا اور گفتگو کرنا بہت ضروری تھا۔

وہ اپنے اس ہسپتال کو ایک ”ملک“ کہتا ہےاور چونکہ یہ اس کا نیا ”مُلک“ ہے، تو اس کا فقرہ تھا کہ ”بیمار ملک کے شہری، اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں کہ وہ نا امیدی میں اپنے پرانے مُلک کی یادوں کےساتھ چمٹے رہتے ہیں“

یہ جملہ پڑھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور لکھا کہ ہمارے ہاں خوشی کے مواقع معدوم ہوتے جا رہے ہیں، جب بھی کبھی اتفاق سے یا غلطی سے (اتفاق سے کم اور غلطی سے زیادہ) ایسا کوئی موقعہ ملتا ہے تو ہم نہایت انوکھے طریقے سے اس کا اظہار کرتے ہیں، اس اظہار میں خوشی کا عنصر کم اور حیرت و تشدد کا رنگ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

اور کریں بھی تو کیا؟
ایک بیمار مُلک کے نا امید شہری، بھولی بسری، پرانی، زنگ آلود سنہری یادوں سے چمٹ رہنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔

یہ بات اس سال جون کے اوائل کی ہے، پھر کچھ ایسے مسائل آن پیش ہوئے کہ کتاب سائیڈ پر رکھ دی اور کئی دیگر سوچوں کو قلم بند کرتا رہا اور کر رہا ہوں، آج پھر سے کتاب دوبارہ اٹھائی اور پڑھنا شروع کیا، پہلا ہی جملہ یہ تھا کہ ”زندگی کی یہ دوڑ، در اصل موت کا تعاقب ہے، یہ ایک ایسی دوڑ ہے جس میں کوئی بھی اپنی مرضی سے شامل نہیں ہوتا، بعض اوقات دیر سے دوڑ شروع کرنے والے، اپنے سے کہیں پہلے بھاگنے والوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں“

پھر اس نے الزیبتھ کوبلر رَوس کے ایک نظریے کا ذکر کیا ہے، جس سے میں ناشناس تھا لہٰذا کتاب پھر سے بند کی اور اور ”کوبلر اور رَوس“ کو پڑھنا شروع کر دیا تاکہ ہچنز کو تحریر کو سمجھ سکوں، اس تھیوری کو ”غم کے پانچ مراحل“ بھی کہا جاتا ہے، یہ وہ مراحل ہیں جن سے مہلک بیماری کا شکار مریض اور اس کے لواحقین کو گزرنا پڑتا ہے۔ ذیل میں ان مراحل کا مختصراً ذکر ہے، میں نے اس میں تھوڑا سا اضافہ کر کے، افراد کی جگہ اپنے معاشرے کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے، وجہ یہ کہ میرے نزدیک ہمارے لوگوں کی اکثریت بھی حقیقت سے انکاری ہے، وہ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہراتے ہیں (کیونکہ یہ کام سب سے آسان ہے)

ان مراحل کے ترتیب وار نام کچھ ایسے ہیں۔ انکار، طیش اور غصہ اور غصبناکی، مول تول اور توقع، نا امیدی و افسردگی و مایوسی اور اقرار ِ حقیقت ہیں۔

انکار: جب لوگ خود کو لاحق مرض کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں، کہ وہ تو بھلے چنگے ہیں، انہیں کچھ ہوا ہی نہیں، ضرور تشخیص کی کوئی غلطی ہے، اور اس حالت میں وہ ایک فریب آلود، جعلی، بناوٹی حقیقت سے چمٹ جاتے ہیں، کیونکہ وہ انکاری کیفیت میں ہوتے ہیں تو انہیں اپنی ہی اختراع کردہ حقیقت درست معلوم ہوتی ہے۔

طیش، غصہ اور غصبناکی: یہ انکار کے بعد کا مرحلہ ہے، یہ تب آتا ہے جب انہیں ادراک ہوتا ہے کہ وہ مزید انکاری کیفیت میں نہیں رہ سکتے، اور اصل حقیقت سے مزید آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ وہ اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں اور عموماً وہ اپنی کیفیت کو ایسے بیان کرتے ہیں کہ ”میں ہی کیوں؟ یہ نا انصافی ہے!“؛ ”میرے ساتھ ایسا کیسے ہو سکتا ہے“ وغیرہ وغیرہ

مول تول اور توقع: اس مرحلے میں افراد امید کی طرف واپس لوٹ جاتے ہیں تاکہ وہ کسی طرح سے اپنے مرض یا اپنے غم کی اصل وجہ سے کنی کترا سکیں، وہ اپنی صحتیابی یا طویل عمری کے لیے مختلف قسم کے تول مول اور توقعات بارے سوچنا شروع کر دیتے ہیں، ”کاش! وہ واپس آجائے، چاہے مجھے اس کے بدلے کچھ بھی کرنا پڑے“، ”کاش میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے، بازیاب ہو جائے، تاوان میں وہ مجھے ہی لے جائیں“ یا یوں کہ، ”ایک بار میں صحتیاب ہو جاوں، آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا“، یا ”ایک بار میری قید مکمل ہو جائے تو میں ایک بہترین شہری بن کر زندگی گزاروں گا“

نا امیدی، افسردگی اور مایوسی: ”میں خود اس قدر پریشان ہوں، میں دوسرے کے متعلق کیوں سوچوں؟ “، ”مر تو جانا ہی ہے تو کیا ضرورت ہے بیماری سے لڑنے کی“، اس چوتھے مرحلے کے دوران، افراد اور معاشرے فنا کی حقیقت کو پانے کے قریب تر ہوتے ہیں، اس دوران وہ اکثر خاموش ہو جاتے ہیں، کسی سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں اور اپنے بیشتر وقت کیفیتِ سوگ میں گزارتے ہیں۔

اقرارِ حقیقت: ”سب ٹھیک ہو جائے گا“، ” میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا“ وغیرہ وغیرہ، لوگ حقیقت کا اقرار کر لیتے ہیں

اگر اس کو ایک گراف کی صورت میں پیش کرنا ہو تو اس کی صورت کچھ ایسی ہو گی۔

بعد ازاں اس تھیوری یا ماڈل کو مزید وسیع کر کے اس میں ذاتی نقصان، کسی عزیز کی موت، نوکری یا ذریعہ معاش کا چھن جانا، کسی رشتے کا ختم ہو جانا جیسے کہ طلاق یا بریک اپ وغیرہ کو بھی شامل کر لیا گیا۔

اس سب کو بیان کرنے کا کیا مقصد تھا؟ آپ یہ سب علامات ہمارے معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں، بہت ہی کم افراد ایسے ہیں جو ہمارے معاشرے کو لاحق بیماریوں اور مشکلات کی تسلیم کر چکے ہیں، اس تعداد سے کچھ زیادہ لوگ وہ ہیں جو مایوسی اور نا امیدی میں مبتلا ہیں، تیسرے مرحلے میں موجود افراد بھی آپ کو اپنے آس پاس مل جائیں گے۔

اب آتے ہیں، پہلے دو مرحلوں کی طرف، ہمارے ملک کی اکثریت ان میں سے کسی ایک حالت میں ہے یا ان دونوں کیفیات کے درمیان میں ہیں، انکاری ہیں کہ اول تو ہمارا ملک، ہمارا معاشرہ کسی قسم کی بیماری کا شکار ہی نہیں ہے، ضرور یہ کوئی بیرونی سازش ہے، یا پھر طیش اور غصہ کی حالت میں ہیں کہ ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے، بعض اسے عذاب سمجھتے ہیں، بعض پھر سے حقیقت سے انکاری اور آنکھیں چرانے کے لیے اسے کسی کی سازش سمجھتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

حل یہ ہے کہ اس مرض کی جلد از جلد تشخیص کی جائے اور اس کا علاج کیا جائے، پاکستان کو سرطان جیسا مرض لاحق ہے اور یہ شاید اپنی آخری سٹیج پر ہے، اور ہم ابھی تک انکاری ہیں کہ ہمیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جو مانتے ہیں کہ ہاں کچھ تو غلط ہے تو وہ اس کا علاج اسپرین، دم درود، تعویز گنڈوں اور ہومیو پیتھک ادویات سے کرنے پر مصر ہیں، حالانکہ اس ملک کو لاحق سرطان کو ریڈیو تھیراپی، کیمو تھیراپی، سرجری اور اور بار بار ایسا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مرض کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

ملک کو ایک طویل المدتی علاج کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ بدقسمتی سے ایسا ہوتا آیا ہے کہ، علاج شروع ہی ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی حکیم آکر ڈاکٹروں اور سرجنوں کو نکال باہر کرتا ہے، پھر جب حالات نہیں سنبھلتے، نئے طبیبوں اور جراحوں کا بندوبست کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ بار بار دہرایا جا رہا ہے، امید ہے کہ گذشتہ دس برس سے جاری علاج مزید 15 سے 20 برس جاری رہ سکے تاکہ وطن عزیز کو لاحق سرطان سے کسی حد تک چھٹکارا پایا جا سکے۔
(اس مضمون کو لکھنے میں کئی ایک کتابوں اور آن لائن ریسورسز سے مدد لی گئی ہے۔ تصویر، حکومت برطانیہ کہ ماتحت ادارے کی ہے، اُردو لیبلنگ میری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں