عمران خان کی ’شفاف فوج‘ اور جسٹس شوکت صدیقی کے ’ناروا‘ شکوے


پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک فوج کو ملک کا واحد شفاف ادارہ بتایا ہے اور نواز شریف اور آصف زرداری کو ملک میں بدعنوانی کی علامتیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کے علاوہ ملک کے تمام ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ اس انٹرویو میں عمران خان نے البتہ یہ واضح نہیں کیا کہ کیا ان کی ممدوح ’غیر جانبدار عدلیہ‘ بھی ملک کے ان اداروں میں شامل ہے جو تباہ ہو چکے ہیں یا وہ فوج کی تعریف میں اس قدر مگن تھے کہ انہیں چیف جسٹس ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کے احسانات بھول گئے تھے۔ انتخاب سے ایک ہفتہ قبل عمران خان اپنی سیاسی تحریک کے لئے فوج کی سرپرستی کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے جس کا ذکر ملک کے بچے بچے کی زبان پر ہے تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ تحریک انصاف کو کنگز پارٹی اور عمران خان کو لاڈلا قرار دینے کے لئے ان کے سیاسی مخالفین پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ ورنہ عمران خان تو ملک کی اصلاح کے نقطہ نظر سے اٹھے ہیں۔ وہ تو نیا پاکستان بنانے والے ہیں جس میں ایسے ہر اس ادارے اور فرد کی گرفت ہو گی جو کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور بے اعتدالی میں ملوث ہو گا۔

عرب نیوز کو دیا جانے والا انٹرویو مختصر تھا اور انٹریو لینے والا صحافی چونکہ کسی عمران دشمن پارٹی یا شخص کا ’تنخواہ دار‘ نہیں تھا، اس لئے عمران خان کو یہ وضاحت کرنے کا موقع بھی نہیں ملا اور صحافی نے فوج کی توصیف سننے کے بعد یہ سوال کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ہوگی کہ ملک کی مقبول ترین سیاسی قوت بننے والی پارٹی اور چند ہفتوں میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کا خواب دیکھنے والے عمران خان کن بنیادوں پر فوج کو ملک کا شفاف ترین ادارہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے پاس یقیناً اس موقف کی ٹھوس وجوہات ہوں گی لیکن فی الوقت یہ بات تحریک انصاف اور عمران خان کے علاوہ ہر سیاسی جماعت اور سیاست دان کو سمجھ آرہی ہے کہ 25 جولائی کے انتخاب میں تحریک انصاف کو ’موقع ‘ دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

اگرچہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے چند ہفتے قبل ایک پریس کانفرنس میں اپنی اس ’مجبوری‘ کا برملا اظہار کیا تھا کہ ووٹ تو لوگوں نے ڈالنے ہیں۔ فوج یا اس کی ایجنسیاں لوگوں کو کسی خاص پارٹی یا گروہ کو ووٹ ڈالنے پر مجبور تو نہیں کرسکتیں۔ یہ بات اپنی جگہ پر سو فیصد درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم انتخاب سے پہلے ملک کی اسٹبلشمنٹ کو شدید اندیشہ لاحق ہے کہ کوئی غیر متوقع نتیجہ سامنے نہ آجائے۔ گو کہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات پہلے سے کرلئے جاتے ہیں اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ ماضی کے طویل تجربہ کی بدولت یہ جانتی ہے کہ کس موقع پر حالات کو سنبھالنے کے لئے کیا قدم اٹھانے اور کس مہرے کو آگے لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کے دس کروڑ کے لگ بھگ ووٹروں کو فوج یا اسٹبلشمنٹ کا کوئی شعبہ مجبور یا کنٹرول کرنے کا اختیار نہیں رکھتا لیکن ان ووٹروں کو رجھانے، گمراہ کرنے یا ایک خاص طریقے سے رائے کا اظہار کرنے کے لئے آمادہ و مجبور کرنے کا ہر انتظام مکمل کیا گیا ہے۔ ان میں ناپسندیدہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا قافیہ تنگ کرنے ، پسندیدہ سیاسی قوت کا دامن نام نہاد الیکٹ ایبلز سے بھرنے اور ملک کے منہ زور اور خود مختار میڈیا کا بازو مروڑ کر ایک ایسی فضا پیدا کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں یہ واضح ہو سکے کہ اگر نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں یا ان کے خلاف یکے بعد دیگرے عدالتی فیصلے سامنے آرہے ہیں تو اس کی وجہ ان کی سیاسی حیثیت نہیں ہے بلکہ ملک کی خود مختار اور آزاد عدلیہ نے یہ جانا ہے کہ شریف خاندان ملک کی دولت لوٹنے میں مصروف رہا ہے۔ اور اسی الزام میں نواز شریف، ان کی صاحبزادی اور داماد کو سزائیں دی گئی ہیں۔ ملک میں جمہوری انتخاب کو عدالتوں کے مشتبہ فیصلوں کی روشنی میں چند افراد کی کردار کشی کے لئے استعمال کرنے کا سہرا بلا شبہ عمران خان کے سر باندھا جاسکتا ہے۔

 ملک کے موجودہ انتخاب کسی پارٹی کی کارکردگی یا منشور کی بنیاد پر لوگوں کی رائے کا اظہار نہیں ہوگا بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ ملک کے عوام جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا وہ بدعنوان لیڈروں کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا فوج پر یہ احسان ہے کہ جس معاملہ کو چار فوجی بغاوتیں مخلوق کے دل کی آواز نہیں بنا سکیں، اسے عمران خان نے قبول عام کی حیثیت دلوا دی ہے۔ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر نے ہمیشہ سیاست دانوں کی بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے لئے اقتدار سنبھالا تھا۔ بدعنوانی پھلتی پھولتی رہی اور فوجی آمر اپنے دامن پر آئین شکنی، اختیارات سے تجاوز، کرپشن کے فروغ کے علاوہ ملک کو دولخت کروانے کا داغ سمیٹتے ہوئے تاریخ کا حصہ بنتے رہے۔

باقی اداریہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 899 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali