میں ووٹ کس کو دوں گا؟


میں سیاسی نظریات کے اعتبار سے خود کو ایسا ترقی پسند اور جمہوریت پسند سمجھتا ہوں جو ملک کو سیاسی، فکری، سائنسی، معاشی اور معاشرتی بنیادوں پر ترقی کی راہ میں دنیا کےساتھ ہمقدم رہتے ہوئے آگے کی جانب بڑھتے دیکھتا ہے۔ میں اس خوش فہمی میں کبھی نہیں رہا کہ میرے ووٹ سے ملک کی تقدیر بدل جائے گی یا میرا ووٹ لینے والا انقلاب لائے گا۔ میں اس بات کو بھی سمجھتا ہوں کہ ووٹ سے آنے والی تبدیلی کسی کے احکامات سے نہیں بلکہ پارلیمانی نظام کے اندر سےآئین اور قانون کے ذریعے آتی ہے۔ میں نے ووٹ کے زریعے ایک متفقہ آئین بنتے بھی دیکھا ہے اور پھر اس کو روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں بکھرتے بھی۔  آئین میں ووٹ کے ذریعے کی گئی پیوند کاری بھی دیکھی اور اس پیوند کاری کو اپنی جگہ واپس آتے بھی دیکھا۔ آئین کے بنتے ٹوٹتے عمل کے دوران ہونے والی بحث کے دلائل اور جوابی دلائل نے جن سوچوں کی ترجمانی کی ان کو سامنے رکھتے ہوئے اب میرے لئے یہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ میرا ووٹ کس کا ہے۔

میرا ووٹ اس کا ہے جو ملک کی پارلیمان یعنی مقننہ میں میری نمائندگی کرے گا یعنی میری ضروریا ت کا خیال رکھے گا۔ جب ملک میں قانون سازی ہو تو میرا ووٹ لینے والا اس قانون کو میری سوچ، فکر اور ضرورت کے مطابق بنانے کے لئے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائے گا نہ کہ کسی اور کی ضروریات اور سوچ کا خیال رکھے۔ میں نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ جب بھی اچھے قوانین بنے ہیں تو ان کے ثمرات سے سب مستفید ہوئے اور جب کہ کوتاہ نظری سےبنائے گئے قوانین کے خوفناک نتائج سے کوئی محفوظ نہ رہا۔

 میرے جیسے لوگ آج اس ملک میں خود کو غیر محفوظ اس لئے نہیں سمجھتے کہ یہاں کسی دشمن ملک نے حملہ کرنا ہے اور انہیں مار دیا جائے گا بلکہ انہیں اپنے آس پاس سے خطرہ ہے۔ انہیں نہیں معلوم کون کافر کہہ کر مار دے گا، کون غدار کہہ کر غائب کردے گا۔ لوگوں کو ان کی سلامتی چاہیئے۔ اس لئے میں ووٹ اسی کو دون گا جو میری جان کے تحفظ کی ضمانت دے۔ میں ایسے شخص کو ووۓ دوں گا جو مجھے درپیش اس عدم تحفظ سے آگاہ ہونے کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرتا ہو کہ جو لوگ عام شہریوں کے خون کے درپے ہیں وہ معافی کے لائق نہیں۔ میں ووٹ اسی کو دوں گا جو اس کشت و خون کے پیچھے کارفرما نظریاتی اور سیاسی موشگافیوں کے سدباب کرنے کو ہی اس مسئلے کا دیرپا تدارک سمجھتا ہو اور کوشاں رہا ہو۔ میں کسی معذرت خواہ کو ووٹ نہیں دوں گا جو ایسی دہشت گردی اور کشت و خون کو’ لیکن‘، ’اگر‘اور’ مگر‘ کی گردان میں لپیٹ کر اپنی جان کی امان کا متلاشی ہو۔

پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں آج بھی شرح خواندگی یعنی لکھ پڑھ سکنے کی شرح سب سے کم ہے۔ آج بھی کروڑوں بچے سکول نہیں جا پاتے ہیں۔ کہیں سکول نہیں، کہیں استاد ندارد اور کہیں سکول جانے کے راستے میں غربت اور معاشی مجبوریوں کے روڑے پڑے ہیں۔ کچھ شہروں کی حد تک چند اچھے سکول بنا کر ڈھنڈورا پیٹنے والے اور اپنے نجی اداروں کے تحت چند منتخب طلبہ کے لئے یورپ اور امریکہ کی طرز کے ادارے بنا کر فروغ تعلیم کا تاج اپنے سر پر سجانے والے بھی میرے ووٹ کے مستحق نہیں۔ میرا ووٹ کا حقدار وہ ہے جو بلوچستان کے ریگزاروں، گلگت بلتستان کے کوہساروں، خیبر پختونخواہ کے دروں اور سندھ کے صحراؤں میں میرے دور کی یکتائے روزگار ملالہ یوسف زئی کے آفاقی نظرئیے کے مطابق ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم سب کو مہیا کرے۔ وہ میرے ووٹ کے حق دار کبھی نہیں ہو سکتے جو ملالہ کے اس آفاقی نظریئے کو ہی دشمن کا ایجنڈا سمجھتے ہیں اور اس عظیم بیٹی کا نام لینے سے بھی گریزاں ہیں۔ میرے نزدیک تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری بھی۔ اس بنیادی حق کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کے لئے ریاست کو اپنی قومی آمدنی کا بین الاقوامی طور پر قابل قبول تناسب تعلیم کے شعبے پر خرچ کرنے کا پابند ہونا چاہیئے۔ میں ووٹ صرف اسی جماعت کو دوں گا جس کے منشور میں یہ وعدہ ہو۔

صحت کے مسائل براہ راست طرز زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں یعنی جہاں جتنی غربت زیادہ ہے صحت کے مسائل اتنے زیادہ ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاستی اداروں نےقومی خزانے سے اپنے لئے اعلیٰ ہسپتال قائم کئے ہیں جہاں ٹیکس دینے والے عام شہریوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے۔ صحت کے ایسےامتیازی انتظامات سے نہ صرف شہریوں کے درمیان تفریق پیدا ہوئی ہے بلکہ عام آدمی کو علاج معالجے کی سہولتوں کی فروانی میں مشکلات درپیش ہیں۔ میں ایسی جماعت کو ووٹ دوں گا جو صحت کے شعبے میں ریاستی وسائل کو تمام شہریوں پر یکساں طور پر خرچ کرنے کی ضمانت دے۔ میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ ہمارا ملک غریب ہے جو علاج معالجے کی وہ سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا جو ترقی یافتہ ممالک میں ہیں مگر بنیادی حفظان صحت کے لئے اقدامات سے صحت سے متعلق بہت سے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ عام شہریوں میں پائی جانے والی ستر فیصد بیماریاں جو پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی سے پیدا ہوتی ہیں یا صفائی ستھرائی کی وجہ سے ان پر ریاست بہ آسانی قابو پا سکتی ہے۔ زچہ و بچہ کی نگہداشت کے مسائل پر قابو پاکر بہت سی اموات کو روکا جاسکتا ہے۔ میں صرف اسی جماعت کو ووٹ دوں گا جس کے منشور میں یہ باتیں موجود ہیں اور جس نے ان باتوں پر عمل درآمد کیا ہے۔

سب سے اہم محرک میرے ووٹ دینے کے فیصلے کا ریاست کا کسی شہری کے ذاتی معاملات مثلاً عقیدہ، سوچ اور فکر میں مداخلت نہ کرنے کے اور کسی بھی شہری کے ساتھ اس کے مذہب، رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کرنے کے عہد کا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ریاست کا سب شہریوں کے ساتھ برابری کا رویہ رکھنا اور مذاہب سے بالاتر ہونا اتنا ضروری ہے جتنا ماں باپ کو اپنی تمام اولاد کے لئے غیرجانبدار اور یکساں رویے کا حامل ہونا ضروری ہے۔ ماضی میں ریاست کی جانب داری کی وجہ سے یہاں اقلیتیں، چھوٹی مذہبی و لسانی اکائیاں اور قومیتیں عدم تحفظ اور جبر کا شکار رہی ہیں۔ میں ایسی کسی جماعت کو ووٹ دوں گا جو ریاست کی غیرجانبداری کا وعدہ کرے۔ ایسی تمام جماعتیں اور امیدوار میرے ووٹ کے مستحق نہیں جو اپنے عقیدے، مذہب، قومیت، زبان اور نسل کی بنیاد پر اپنی برتری ثابت کرتے ہیں کیونکہ ان کا یہ رویہ ہی ریاست کی جانبداری کو فروغ دیتا ہے جو ریاستی جبر پر منتج ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 149 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan