اڈیالہ جیل ۔۔۔ شہباز شریف کا شکوہ کس سے ہے؟


 حیران ہوں کیا شہباز شریف صاحب کو کسی بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر اڈیالہ جیل لے جایا گیا اور گاڑی سیدھی نواز شریف صاحب کی کوٹھڑی کے سامنے جا کر رکی یا جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی جو نواز شریف صاحب کے کمرے میں جا کر اتاری گئی اور واپسی پر پھر سے کس کر باندھ دی گئی ۔

وہ صرف یہ دیکھ سکے کہ نواز شریف کس حال میں ہے ۔ جیل کے کسی اور قیدی پر ان کی نظر نہ پڑ سکی کہ انہیں معلوم ہوتا جس صوبے میں اذیت کی حد طویل مدت ان کی حکمرانی رہی اس صوبے کی اہم ترین جیل میں دیگر قیدیوں کی صورت حال کیا ہے۔

اپنے بھائی کے لیے شہباز شریف کی تکلیف سمجھ میں آتی ہے ۔ اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھنا واقعی مشکل کام ہوتا ہے ۔ لیکن شہباز شریف اور نواز شریف کی کہانی محض دو بھائیوں کی کہانی نہیں ۔ یہ دو حکمرانوں کی داستان ہے ۔

نواز شریف تو نا اہل ہو چکے لیکن شہباز شریف آئندہ کی حکمرانی کے دعویدار کے طور پر انتخابی اکھاڑے میں موجود ہیں ۔ ایک طویل عرصے حکمرانی کے سہانے ایام میں اگر انہیں اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ جیلوں میں جانوروں کی طرح رکھے گئے قیدیوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے کچھ کر سکتے تو کم از کم اتنی مروت کا مظاہرہ تو کر سکتے تھے کہ آج جب جیل تشریف لے گئے تو وزیر اعلی کو لکھے گئے خط کا عنوان محض نواز شریف کے کمرے اور لیٹرین کی خستہ حالی نہ ہوتا بلکہ اس کا عنوان جیل کے تمام قیدی اور ان پر بیتی قیامتیں ہوتیں ۔

وہ کچھ ندامت کا اظہار کرتے کہ وہ خود جیلوں کی بہتری کے لیے کچھ نہ کر سکے اور ساتھ درخواست کرتے کہ جناب وزیر اعلی میں یہ کام نہ کر سکا اب آپ کے پاس اختیارات ہیں آپ کر دیجیے۔ جیل اگر زیر بحث آ ہی گئی ہے تو اس کا عنوان ایک قیدی کیوں ہو ۔ تمام قیدیوں کی کی اجتماعی صورت حال کو اہنا مخاطب کیوں نہ بنایا جائے۔

انہوں نے کس شان بے نیازی سے خط لکھ مارا ۔ معلوم نہیں وہ سادہ بہت ہیں یا ہشیار بہت ۔

صاحب لکھتے ہیں کہ جب میں فیملی کے ساتھ نواز شریف سے ملنے جیل گیا تو میں نے نواز شریف کو جیل کی افسوسناک اور قابل رحم ماحول میں پایا ۔ فرش پر بچھا ہوا ایک گدہ ان کا بستر تھا ۔ واش روم صاف نہیں تھا اور کمرے میں ائر کنڈیشن بھی نہیں تھا ۔ میڈیکل چیک اپ کی سہولت بھی معیاری نہیں تھی ۔ میاں صاحب کے اس خط کو پڑھ کر فطری طور پر چند سوالات جنم لیتے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے ؟ وہ حسن عسکری جسے حکومت سنبھالے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے یا میاں صاحب خود جو ایک طویل عرصہ حکمران رہنے کے باوجود جیلوں کی صورت حال پر توجہ نہ دے سکے؟ شہباز شریف حسن عسکری سے شکوہ کر رہے تھے یا اپنے طرز حکومت پر فرد جرم عائد کر رہے تھے؟

میاں صاحب کے سنہرے دور میں جیلوں کے واش روم کس حال میں تھے کیا وہاں اٹالین ٹائلز لگا دی گئی تھی جو ان کا اقتدار ختم ہوتے ہی دیواروں سے نیچے گر گئیں کہ پہلے ووٹ کو عزت دو ، پھر ہمیں بتا دینا ہم واپس اپنی جگہ پر آ جائیں گی؟میاں صاحب اگر اس بات بھی ہماری رہنمائی فرما دیں کہ ان کے مبارک عہد میں جیل کے واش روموں کی صفائی کا عالم کیا تھا۔ کیا انہیں دن میں پانچ بار دھویا جاتا تھا ؟

وہ طویل عرصہ پنجاب کے وزیر اعلی رہے ، کیا انہیں کچھ معلوم بھی ہے اڈیالہ جیل میں قیدی کتنے ہیں اور واش روم کتنے ہیں؟ شہباز شریف کو شکوہ ہے کہ طبی سہولیات معیار کے مطابق نہیں ۔ کیا وہ ہمیں بتانا پسند فرمائیں گے کہ جب ان کا اپنا راج تھا تو جیلوں میں طبی سہولیات اور میڈیکل چیک اپ کیا بین الاقوامی معیار کو چھو رہا تھا ؟

کیا حسن عسکری نے حکومت سنبھالتے ہی تمام جدید آلات جو آپ نے دنیا بھر سے منگوا کر جیلوں کو دے رکھے تھے اسلام آباد آباد کے اتوار بازار میں لا کر بیچ دیے ۔ اور وہ تمام ڈاکٹر جو آپ نے بڑی محنت اور مشکل سے جیلوں میں تعینات کیے تھے حسن عسکری نے ان پر نیب کے مقدمات بنوا کر انہیں جیل میں ڈال دیا ۔

اب آپ وہاں تشریف لے گئے تو نہ آپ کو وہ قابل ڈاکٹر نظر آئے نہ وہ جدید طبی آلات تو آپ کا بہت دل دکھا اور آپ نے فوری طور پر وزیر اعلی کو خط لکھ دیا کہ جناب وزیر اعلی مجھے گئے ابھی ایک مہینہ نہیں ہوا اور آپ نے جیل کو تباہ کر دیا ۔ اتنی بری حالت کر دی کہ جیل میں میڈیکل چیک اپ کی سہولیات بھی اب معیار کے مطابق نہیں رہیں۔

شہباز شریف شکوہ کر رہے ہیں کہ نواز شریف صاحب کے لیے جیل میں اے سی کی سہولت نہیں ۔ کیا وہ ہم طالب علموں کی رہنمائی فرما سکتے ہیں کہ جیل قوانین کے کس ضابطے کے تحت نیب آرڈی ننس کے تحت سزا یافتہ مجرم کو اے سی دیا جاسکتا ہے؟ بلکہ سوال یوں ہونا چاہیے کہ کس ضابطے کے تحت کسی بھی قیدی کو اے سی کی سہولت دی جا سکتی ہے؟ کتنے افسوس کی بات ہے کہ طویل مدت اقتدار میں رہ کر بھی آدمی ذات کے حصار سے باہر نہ نکل سکے ۔

ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دیا تو کس وقت ؟ جب اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آئی جی بنا کر بھائی جانوں کی سرپرستی سے انکار کر دیا ۔ ورنہ رات کے اندھیروں میں ملاقاتیں بھی جائز تھیں اور پرانی تنخواہ پر کام کرنے کے ارادے بھی عیاں ۔

عدلیہ میں اصلاحات کب یاد آئیں ۔ اس وقت جب عدلیہ نے بتا دیا اب یہ شرافت کی عدالت نہیں رہی جہاں نکے بھا جی جج صاحب کو فون کر کے بتائیں کہ وڈے بھا جی کی رضا کیا ہے۔ شفاف انتخابات کی ضرورت کب محسوس ہوئی؟ جب پتا چلا کہ اس دفعہ ’’ غیر منظم دھاندلی‘‘ سے لطف اندوز ہونے کا امکان موجود نہیں رہا ۔ کیا شہباز شریف صاحب کو کچھ یاد ہے ان کے دور حکومت میں کتنی بار عدالتوں نے جیلوں کی حالت زار بہتر بنانے کی ہدایات دیں ۔

آج بھائی کے کمرے کی خستہ حالی اور واش روم دیکھا تو وزیر اعلی کو خط لکھ مارا جب ہائی کورٹ نے آپ کو ہدایت دی تھیں اس وقت آپ نے یہ سب کیوں نہ کیا ؟ یہ کیسی قیادت ہے جس کا بیانیہ اس کی اپنی ذات کے گرد گھوم رہا ہے۔ صوبے کا سابق وزیر اعلی بھائی کے کمرے میں اے سی نہ ہونے کا رونا رو رہا ہے۔کیا انہیں معلوم ہے اور کچھ احساس ہے باقی قیدی کس حال میں ہیں ۔

اڈیالہ جیل میں جتنے قیدیوں کی گنجائش ہے اس سے کہیں زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں ۔ جہاں تین لوگ ہونے چاہییں وہاں بعض اوقات سات آٹھ لوگ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ذرا تصور کیجیے اس حبس آلود موسم میں گرمی ان کا کیا حال کرتی ہو گی ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس پر حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں کہ حالات بہتر کیے جائیں کیا شہباز شریف بتا سکتے ہیں انہوں نے بطور وزیر اعلی کیا کیا ؟ وفاقی محتسب نے بھی کچھ تجاویز دی تھیں کیا میاں صاحب نے انہیں پڑھنا بھی گوارا کیا ؟ کیا انہیں معلوم ہے وہ تجاویز کیا تھیں ؟ آپ نے کچھ کیا ہوتا تو جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کو اس معاملے پر از خود نوٹس نہ لینا پڑتا ۔

چیف جسٹس صوبوں کو حکم دے چکے ہیں کہ وفاقی محتسب کی سفارشات کو دیکھ کر رپورٹ پیش کریں ۔عدالتیں کہہ رہی ہیں جیلوں کا ماحول بہتر کیجیے، سوال یہ ہے کہ آپ نے بطور وزیر اعلی اس سلسلے میں کیا کارکردگی دکھائی ؟ آپ کا شکوہ کس سے ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں